Posts

Showing posts with the label Documentary

بلاگ پوسٹ کا عنوان: **4 ارب ڈالر کی فیشن سلطنت کا زوال: ایسپریٹ (Esprit) کی کہانی، جو اپنے بانی کے جاتے ہی تباہ ہو گئی**

 بلاگ پوسٹ کا عنوان: **4 ارب ڈالر کی فیشن سلطنت کا زوال: ایسپریٹ (Esprit) کی کہانی، جو اپنے بانی کے جاتے ہی تباہ ہو گئی** کاروباری دنیا میں کامیابی کی کہانیاں تو بہت سننے کو ملتی ہیں، لیکن زوال کی داستانیں بھی اتنی ہی سبق آموز ہوتی ہیں۔ آج ہم بات کریں گے ایک زمانے کی مشہور ترین فیشن برانڈ **ایسپریٹ (Esprit)** کی، جس نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی تھی، لیکن جب اس کا بانی (باس) اسے چھوڑ کر گیا، تو یہ 4 ارب ڈالر کی سلطنت مٹی میں مل گئی۔ یہ مضمون اس عروج و زوال کی تفصیلات سے بھرپور ہے، تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ایک برانڈ کو کیا چیز زندہ رکھتی ہے اور کیا اسے تباہ کر دیتی ہے۔ ### ایسپریٹ کا آغاز: ایک چھوٹی سی شروعات سے عالمی شہرت تک ہر بڑی کہانی کی طرح ایسپریٹ کا آغاز بھی بہت معمولی تھا۔ *   **بانی کون تھے؟** ایسپریٹ کی بنیاد 1960 کی دہائی میں **سوسے ٹامپکنز (Susie Tompkins)** اور **ڈگلس ٹامپکنز (Douglas Tompkins)** نامی جوڑے نے رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈگلس اس سے پہلے مشہور برانڈ **دی نارتھ فیس (The North Face)** بھی قائم کر چکے تھے۔ *   **شروعات:** انہوں نے سان فرانسسکو میں...

# جب رقم اپنی قدر کھو بیٹھی: جرمنی میں 1923 کا ہولناک معاشی بحران اور تباہی کی داستان

 # جب رقم اپنی قدر کھو بیٹھی: جرمنی میں 1923 کا ہولناک معاشی بحران اور تباہی کی داستان تاریخ میں ایسے کئی لمحات آتے ہیں جب کسی ملک کی معیشت کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو جاتا ہے، لیکن 1923 کا جرمنی ایک ایسی مثال ہے جو آج بھی ماہرینِ معاشیات کے لیے ایک انتباہ ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی حقیقت تھی جس نے عام انسانوں کی زندگیوں کو راکھ کر دیا تھا۔ ### ہائپر انفلیشن (Hyperinflation) کا مفہوم اور ابتداء ہائپر انفلیشن سے مراد ایسی صورتحال ہے جہاں قیمتیں اتنی تیزی سے بڑھتی ہیں کہ کرنسی کی قوتِ خرید ختم ہو جاتی ہے۔ جرمنی میں اس کا آغاز پہلی جنگِ عظیم کے بعد ہوا۔ 1914 میں جو چیز 4 مارک میں ملتی تھی، 1923 کے اختتام تک اسی چیز کی قیمت 4.2 ٹریلین (4.2 کھرب) مارک تک پہنچ گئی۔ **مثال کے طور پر:** ایک سکول ٹیچر اپنی تنخواہ لینے کے لیے صبح سویرے دوڑتی تھی کیونکہ دوپہر تک اس کی قدر آدھی رہ جاتی تھی۔ ایک روٹی جو صبح کے وقت چند مارک کی تھی، شام تک اربوں مارک کی ہو جاتی تھی۔ ### معاشی تباہی کے اسباب اس بحران کی جڑیں جنگی قرضوں اور معاشی پالیسیوں میں پیوست تھیں۔ 1. **جنگی قرضے ا...

## **ایک یہودی مہاجر نے راک فیلر کی بادشاہت کیسے ختم کی؟ (شیل کمپنی کی کہانی)**

 آپ کی فرمائش کے مطابق، اس ویڈیو کا مکمل خلاصہ ایک تفصیلی آرٹیکل کی صورت میں، سادہ مثالوں اور اردو فونٹ میں پیشِ خدمت ہے: --- ## **ایک یہودی مہاجر نے راک فیلر کی بادشاہت کیسے ختم کی؟ (شیل کمپنی کی کہانی)** یہ کہانی **مارکس سیموئیل (Marcus Samuel)** نامی ایک عراقی یہودی مہاجر کی ہے، جس نے دنیا کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی "شیل" (Shell) کی بنیاد رکھی۔ ایک ایسے وقت میں جب جان ڈی راک فیلر کا دنیا کے 95 فیصد تیل پر قبضہ تھا، مارکس سیموئیل نے ایک نئے آئیڈیا سے اس کی اجارہ داری کو ہلا کر رکھ دیا۔ ### **1. اصل مسئلہ: تیل نکالنا نہیں، اسے پہنچانا تھا** 1800 کی دہائی میں تیل نکالنے سے زیادہ مشکل کام اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا تھا۔ اس وقت تیل لکڑی کے پیپوں (Barrels) میں بھر کر بھیجا جاتا تھا، جو بہت مہنگا پڑتا تھا اور تیل ضائع بھی ہو جاتا تھا۔ * **مثال:** جیسے اگر آپ کو دودھ ایک شہر سے دوسرے شہر بھیجنا ہو اور آپ اسے چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں بھر کر بھیجیں، تو خرچہ بھی زیادہ آئے گا اور دودھ گرنے کا خطرہ بھی رہے گا۔ ### **2. مارکس سیموئیل کا انقلابی خیال: "آئل ٹینکرز"** مارکس سیم...

عنوان: 1 فیصد امیر لوگوں نے 99 فیصد لوگوں کا مال ہڑپ کر لیا

 یقیناً، میں اس ویڈیو کے مواد کو آسان اردو میں تفصیل سے بیان کرتا ہوں تاکہ ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکے۔ ### عنوان: 1 فیصد امیر لوگوں نے 99 فیصد لوگوں کا مال ہڑپ کر لیا یہ ویڈیو 2009 سے لے کر آج تک جاری رہنے والی معاشی خوشحالی (bull run) کے بارے میں بات کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر معیشت اتنی مضبوط ہے تو: *   ہم اپنے والدین اور دادا دادی کے مقابلے میں کم کیوں کما رہے ہیں اور زیادہ خرچ کیوں کر رہے ہیں؟ *   نوجوان نسل (Millennials اور Gen Z) پہلے کی نسبت زیادہ پریشان، ذہنی تناؤ کا شکار، اور خودکشی جیسے اقدامات کی طرف کیوں جا رہی ہے؟ ویڈیو کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہمیں معیشت کے بارے میں کئی باتیں غلط بتائی جاتی ہیں۔ #### 1. کیا پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا؟ اکثر کہا جاتا ہے کہ پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا۔ لیکن ویڈیو کے مطابق، یہ بات آدھی سچ ہے۔ *   **سچائی:** زندگی کی بنیادی ضروریات (کھانا، گھر، علاج) پوری کرنے کے لیے پیسہ ضروری ہے۔ معاشی تحفظ (economic security) کے بغیر خوش رہنا مشکل ہے۔ ایک خاص حد تک پیسہ یقینی طور پر خوشی خرید سکتا ہے۔ اس حد کے بعد، پیسے کی اضا...

2. **چھوٹے قرضے کا چکر (Short-term Debt Cycle):** یہ ایک چھوٹا سمندری طوفان ہے۔ جب موسم اچھا ہوتا ہے، لوگ خوش ہوتے ہیں، زیادہ خرچ کرتے ہیں اور قرضے لیتے ہیں۔ پھر بینک سود بڑھا دیتے ہیں، قرضہ لینا مشکل ہو جاتا ہے، خرچ کم ہوتا ہے اور معیشت سست پڑ جاتی ہے (یعنی recession)۔ پھر بینک سود گھٹاتے ہیں اور چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ 7-10 سال بعد آتا رہتا ہے۔

Image
 Ray Dalio Warns: Only These 4 Investments Will Survive (18 Months Left) - YouTube بالکل، میں آپ کو استاد کی طرح سمجھاتا ہوں۔ یہ کہانی دراصل ایک بہت بڑے اقتصادی دھچرے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو۔ تصور کریں کہ ہم سب ایک بڑی کشتی میں سفر کر رہے ہیں۔ کشتی کا نام "معیشت" ہے۔ **کشتی کیسے چلتی ہے؟** کشتی کو آگے بڑھانے کے لیے تین چیزیں اہم ہیں: 1.  **محنت اور ایجادات (Productivity):** اگر ہم پہلے سے بہتر اور زیادہ چیزیں بنائیں، کشتی تیز چلتی ہے۔ 2.  **چھوٹے قرضے کا چکر (Short-term Debt Cycle):** یہ ایک چھوٹا سمندری طوفان ہے۔ جب موسم اچھا ہوتا ہے، لوگ خوش ہوتے ہیں، زیادہ خرچ کرتے ہیں اور قرضے لیتے ہیں۔ پھر بینک سود بڑھا دیتے ہیں، قرضہ لینا مشکل ہو جاتا ہے، خرچ کم ہوتا ہے اور معیشت سست پڑ جاتی ہے (یعنی recession)۔ پھر بینک سود گھٹاتے ہیں اور چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ 7-10 سال بعد آتا رہتا ہے۔ 3.  **لمبے وقت کے قرضے کا چکر (Long-term Debt Cycle):** یہ ایک بہت بڑا طوفان ہے جو 75-100 سال بعد آتا ہے۔ آہستہ آہستہ پورا ملک، کمپنیاں اور لوگ بہت زیادہ قرضے ...

یہ کہانی ہے بڑی بڑی سلطنتوں کی، جو ایک زمانے میں دنیا کی ملکہ ہوتی تھیں، لیکن پھر وہ گر گئیں۔ اور یہ گرنے کا ایک خاص طریقہ ہے، جو ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہ سات مراحل سے گزرتی ہیں، جیسے ایک سیڑھی سے نیچے اترنا۔ یہ کہانی اسپین، برطانیہ اور سوویت یونین کی سلطنتوں کی ہے، اور اب یہ امریکہ پر بھی لگتی ہے۔ سب سے پہلے، یہ سمجھ لو کہ سلطنت کیا ہوتی ہے؟ سلطنت ایک بہت بڑا ملک یا بادشاہت ہوتی ہے جو دوسرے ملکوں پر حکمرانی کرتی ہے، جیسے ایک بڑا بھائی جو سب چھوٹے بھائیوں کو حکم دیتا ہے۔ لیکن جب یہ سلطنتیں بہت بڑی ہو جاتی ہیں، تو وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پاتیں اور گر جاتی ہیں۔ یہ گرنا اچانک نہیں ہوتا، بلکہ سات قدموں میں ہوتا ہے۔ اب میں تمہیں ایک ایک کرکے بتاؤں گا۔

Image
 (522) The Fall of the USA: The 7 Stages Every Empire Follows - YouTube  یہ کہانی ہے بڑی بڑی سلطنتوں کی، جو ایک زمانے میں دنیا کی ملکہ ہوتی تھیں، لیکن پھر وہ گر گئیں۔ اور یہ گرنے کا ایک خاص طریقہ ہے، جو ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہ سات مراحل سے گزرتی ہیں، جیسے ایک سیڑھی سے نیچے اترنا۔  یہ کہانی اسپین، برطانیہ اور سوویت یونین کی سلطنتوں کی ہے، اور اب یہ امریکہ پر بھی لگتی ہے۔  سب سے پہلے، یہ سمجھ لو ک ہ سلطنت کیا ہوتی ہے؟ سلطنت ایک بہت بڑا ملک یا بادشاہت ہوتی ہے جو دوسرے ملکوں پر حکمرانی کرتی ہے، جیسے ایک بڑا بھائی جو سب چھوٹے بھائیوں کو حکم دیتا ہے۔ لیکن جب یہ سلطنتیں بہت بڑی ہو جاتی ہیں، تو وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پاتیں اور گر جاتی ہیں۔ یہ گرنا اچانک نہیں ہوتا، بلکہ سات قدموں میں ہوتا ہے۔ اب میں تمہیں ایک ایک کرکے بتاؤں گا۔ **پہلا مرحلہ: فوج کو بہت زیادہ پھیلانا**   یہ ایسے ہے جیسے ایک بچہ اپنے کھلونے سب جگہ پھیلا دے، اور پھر انہیں سنبھال نہ سکے۔ سلطنت اپنی فوج کو دنیا بھر میں پھیلا دیتی ہے، بہت سارے ملکوں میں لڑائیوں میں الجھ جاتی ہے، اور اس پر بہت پیسہ ...

یہ کہانی امریکہ کی ایک بڑی معاشی تبدیلی کی ہے، جو 1930 کی دہائی میں ہوئی۔ اسے "گولڈ ریزرو ایکٹ آف 1934" کہتے ہیں، یعنی "سنہری ذخیرے کا قانون 1934"۔ یہ اس وقت کی ہے جب امریکہ بہت بڑی معاشی بحران میں تھا، جسے "گریٹ ڈپریشن" کہتے ہیں۔ سب سے پہلے، پس منظر سمجھو۔ 1930 کی دہائی کے شروع میں، امریکہ میں بہت برا وقت تھا۔ لوگوں کی نوکریاں ختم ہو گئی تھیں، 25 فیصد لوگ بے روزگار تھے۔ چیزیں سستی ہو رہی تھیں، یعنی "ڈیفلیشن"۔ یہ اچھا لگتا ہے نا کہ چیزیں سستی ہو جائیں؟ لیکن نہیں! مثال کے طور پر، ایک کسان نے 1928 میں گھر خریدنے کے لیے قرض لیا تھا۔ تب ایک بوٹی گندم کی قیمت سے وہ قرض کی قسط ادا کر سکتا تھا۔ لیکن 1933 تک، گندم کی قیمت اتنی گر گئی کہ اب اسے تین بوٹیاں بیچنی پڑتیں ایک ہی قسط کے لیے۔ قرض تو وہی رہا، لیکن آمدنی کم ہو گئی۔ یہ ایک "ڈیبٹ ڈیفلیشن اسپائرل" تھا، یعنی قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا، اور لوگ دیوالیہ ہو رہے تھے۔ پورا ملک پریشان تھا۔

Image
 (448) The Gold Reserve Act of 1934: When FDR Revalued Gold Overnight - YouTube  یہ کہانی امریکہ کی ایک بڑی معاشی تبدیلی کی ہے، جو 1930 کی دہائی میں ہوئی۔ اسے "گولڈ ریزرو ایکٹ آف 1934" کہتے ہیں، یعنی "سنہری ذخیرے کا قانون 1934"۔ یہ اس وقت کی ہے جب امریکہ بہت بڑی معاشی بحران میں تھا، جسے "گریٹ ڈپریشن" کہتے ہیں۔  سب سے پہلے، پس منظر سمجھو۔ 1930 کی دہائی کے شروع میں، امریکہ میں بہت برا وقت تھا۔ لوگوں کی نوکریاں ختم ہو گئی تھیں، 25 فیصد لوگ بے روزگار تھے۔ چیزیں سستی ہو رہی تھیں، یعنی "ڈیفلیشن"۔ یہ اچھا لگتا ہے نا کہ چیزیں سستی ہو جائیں؟ لیکن نہیں! مثال کے طور پر، ایک کسان نے 1928 میں گھر خریدنے کے لیے قرض لیا تھا۔ تب ایک بوٹی گندم کی قیمت سے وہ قرض کی قسط ادا کر سکتا تھا۔ لیکن 1933 تک، گندم کی قیمت اتنی گر گئی کہ اب اسے تین بوٹیاں بیچنی پڑتیں ایک ہی قسط کے لیے۔ قرض تو وہی رہا، لیکن آمدنی کم ہو گئی۔ یہ ایک "ڈیبٹ ڈیفلیشن اسپائرل" تھا، یعنی قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا، اور لوگ دیوالیہ ہو رہے تھے۔ پورا ملک پریشان تھا۔ اب، اس بحران کی ایک بڑی و...

یہ کہانی ہے امریکہ اور چین کے معاشی نظاموں کی، یعنی ان دونوں ملکوں نے اپنی معیشت کو کیسے بنایا اور چلایا۔ میں یہ سب آسان الفاظ میں بتاؤں گا، سب سے پہلے، تصور کرو کہ ایک ملک کی معیشت ایک بڑا کھیل ہے جہاں پیسہ، کام، اور چیزیں بنانے کا طریقہ شامل ہے۔ ہر ملک کو تین بڑے سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے: 1) پیسہ کون کنٹرول کرتا ہے؟ 2) پیسہ کہاں لگانا ہے، یعنی سرمایہ کاری کیسے ہو؟ اور 3) اگر کچھ غلط ہو جائے تو نقصان کون برداشت کرے؟ امریکہ اور چین نے ان سوالات کے بالکل مختلف جواب دیے، اور یہ جواب ان کی تاریخ سے نکلے۔

Image
 (325) How the U.S. and China Built Two Very Different Economic Systems - YouTube  یہ کہانی ہے امریکہ اور چین کے معاشی نظاموں کی، یعنی ان دونوں ملکوں نے اپنی معیشت کو کیسے بنایا اور چلایا۔ میں یہ سب آسان الفاظ میں بتاؤں گا،  سب سے پہلے، تصور کرو کہ ایک ملک کی معیشت ایک بڑا کھیل ہے جہاں پیسہ، کام، اور چیزیں بنانے کا طریقہ شامل ہے۔ ہر ملک کو تین بڑے سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے: 1) پیسہ کون کنٹرول کرتا ہے؟ 2) پیسہ کہاں لگانا ہے، یعنی سرمایہ کاری کیسے ہو؟ اور 3) اگر کچھ غلط ہو جائے تو نقصان کون برداشت کرے؟ امریکہ اور چین نے ان سوالات کے بالکل مختلف جواب دیے، اور یہ جواب ان کی تاریخ سے نکلے۔ چلو، چین کی بات کرتے ہیں۔ 1978 میں، چین کی معیشت بہت چھوٹی تھی، تقریباً 149 ارب ڈالر کی، جو آج کے فن لینڈ جتنی ہے۔ پھر 2020 تک یہ 14 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو گئی، اور 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ یہ دنیا کی سب سے تیز ترقی تھی! لیکن چین نے یہ کیسے کیا؟ ان کا نظام "سوشلزم ود چائنیز کیریکٹرسٹکس" ہے، یعنی حکومت بہت زیادہ کنٹرول کرتی ہے، لیکن کچھ جگہوں پر بازار کو بھی چلنے دیتی ہے۔ چین کی کہا...

ایک شخص، جو شاید ایک انٹرویو کرنے والا ہے، بوسٹن شہر میں گھومتا ہے اور امیر لوگوں سے پوچھتا ہے کہ وہ کیسے اتنا پیسہ کمایا۔ بوسٹن ایک بہت امیر شہر ہے، جہاں ہزاروں لاکھ پتی اور کئی ارب پتی رہتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ امیر ہونے کا راز کیا ہے – محنت، ہمت، اور اچھے خیالات۔ میں تمہیں مکمل تفصیل سے بتاؤں گا، اور جہاں ضروری ہو گا، مثالیں دے کر سمجھاؤں گا، تاکہ تم بھی آسانی سے سمجھ جاؤ،

Image
 (20) Asking Billionaires How They Got RICH! (Boston) - YouTube  ایک شخص، جو شاید ایک انٹرویو کرنے والا ہے، بوسٹن شہر میں گھومتا ہے اور امیر لوگوں سے پوچھتا ہے کہ وہ کیسے اتنا پیسہ کمایا۔ بوسٹن ایک بہت امیر شہر ہے، جہاں ہزاروں لاکھ پتی اور کئی ارب پتی رہتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ امیر ہونے کا راز کیا ہے – محنت، ہمت، اور اچھے خیالات۔ میں تمہیں مکمل تفصیل سے بتاؤں گا، اور جہاں ضروری ہو گا، مثالیں دے کر سمجھاؤں گا، تاکہ تم بھی آسانی سے سمجھ جاؤ، انٹرویو کرنے والا شخص کہتا ہے کہ وہ بوسٹن میں پہلی بار آیا ہے، جو دنیا کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ وہاں 40 ہزار سے زیادہ لاکھ پتی اور 10 سے زیادہ ارب پتی رہتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ آج میں امیر علاقوں میں جاؤں گا اور ان ارب پتیوں سے پوچھوں گا کہ تم کیسے امیر ہوئے، تمہارا راز کیا ہے، تاکہ تم لوگ بھی ان کی طرح بن سکو۔ یہ ویڈیو شروع سے آخر تک مزے کی ہے، تو آخر تک دیکھو، وہ کہتا ہے۔ اب، تصور کرو جیسے تم ایک پارک میں گھوم رہے ہو اور اچانک کوئی امیر شخص مل جائے – ایسے ہی وہ لوگوں سے بات کرتا ہے۔ اب پہلا انٹرویو: ایک شخص سے پوچھتا ہے، ...

یہ کہانی ایک عورت کی ہے جس کا نام کرسٹینا چیپمین ہے، اور یہ شمالی کوریا کی ایک چالاکی کی کہانی ہے کہ وہ امریکہ کی کمپنیوں میں کیسے چھپ کر کام کرتے تھے۔ سب سے پہلے، کرسٹینا کے بارے میں جانو۔ وہ جنوبی کوریا میں پیدا ہوئی تھی، لیکن امریکہ میں رہتی تھی۔ بچپن میں وہ کتابیں پڑھتی اور پینٹنگ کرتی تھی، باہر کھیلنے کی بجائے۔ یہ ایسے ہے جیسے تم سکول میں کچھ بچے ہوتے ہیں جو لائبریری میں بیٹھے رہتے ہیں، کرکٹ کھیلنے کی بجائے۔ اس کی ماں کینسر کی مریض تھی، اور کرسٹینا کو پیسوں کی ضرورت تھی تاکہ ماں کا خیال رکھ سکے۔

Image
 (20) How North Korea Hid an IT Workforce Inside US Companies | Bloomberg Investigates - YouTube یہ کہانی ایک عورت کی ہے جس کا نام کرسٹینا چیپمین ہے، اور یہ شمالی کوریا کی ایک چالاکی کی کہانی ہے کہ وہ امریکہ کی کمپنیوں میں کیسے چھپ کر کام کرتے تھے۔  سب سے پہلے، کرسٹینا کے بارے میں جانو۔ وہ جنوبی کوریا میں پیدا ہوئی تھی، لیکن امریکہ میں رہتی تھی۔ بچپن میں وہ کتابیں پڑھتی اور پینٹنگ کرتی تھی، باہر کھیلنے کی بجائے۔ یہ ایسے ہے جیسے تم سکول میں کچھ بچے ہوتے ہیں جو لائبریری میں بیٹھے رہتے ہیں، کرکٹ کھیلنے کی بجائے۔ اس کی ماں کینسر کی مریض تھی، اور کرسٹینا کو پیسوں کی ضرورت تھی تاکہ ماں کا خیال رکھ سکے۔ 2020 میں، جب کورونا کی وبا آئی، کرسٹینا نے فیس بک پر دیکھ کر ایک آن لائن کورس کیا سافٹ ویئر انجینئرنگ کا۔ وہ جلدی نوکری چاہتی تھی، اور گھر سے کام کرنے والی۔ ایک دن، LinkedIn (جو نوکریوں کی ایک ویب سائٹ ہے) پر اسے ایک آفر ملی۔ ایک کمپنی نے کہا کہ تم ہماری "امریکی چہرہ" بنو – مطلب، تم امریکہ میں رہو، اور ہمارے کلائنٹس سے بات کرو۔ وہ ویب سائٹس بنانے اور ڈیٹا بیس کا کام کرتے تھے۔ کرسٹینا...

سب سے پہلے، یہ کہانی کیا ہے؟ ایک آدمی ہے جو کہتا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور 2030 تک ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے – جیسے دنیا کا "ری سیٹ" ہونے والا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چیزیں بدل جائیں گی، اور جو لوگ پہلے سے تیار ہوں گے، ان کی فیملیز امیر رہیں گی، اور جو نہیں، وہ پیچھے رہ جائیں گی۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ محنت تو کرتے ہیں، لیکن غلط طریقے سے، اس لیے دولت نہیں بنتی۔ وہ چھ قوانین بتاتا ہے جو نسلی دولت بنانے کے لیے ہیں۔ نسلی دولت کا مطلب ہے اتنا پیسہ کہ تمہیں زندگی بھر فکر نہ ہو، اور تمہارے بچے، پوتے بھی امیر رہیں، نہ کہ ہر نسل کو صفر سے شروع کرنا پڑے۔

Image
 (20) The 6 Laws of Generational Wealth Before the 2030 Reset - YouTube یہ کہانی ایک ویڈیو کی ہے جس کا نام ہے "2030 کے ری سیٹ سے پہلے نسلی دولت کے 6 قوانین"۔ یہ ایک شخص کی بات ہے جو دولت بنانے اور اسے نسل در نسل چلانے کے بارے میں بتاتا ہے۔ سب سے پہلے، یہ کہانی کیا ہے؟ ایک آدمی ہے جو کہتا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور 2030 تک ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے – جیسے دنیا کا "ری سیٹ" ہونے والا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چیزیں بدل جائیں گی، اور جو لوگ پہلے سے تیار ہوں گے، ان کی فیملیز امیر رہیں گی، اور جو نہیں، وہ پیچھے رہ جائیں گی۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ محنت تو کرتے ہیں، لیکن غلط طریقے سے، اس لیے دولت نہیں بنتی۔ وہ چھ قوانین بتاتا ہے جو نسلی دولت بنانے کے لیے ہیں۔ نسلی دولت کا مطلب ہے اتنا پیسہ کہ تمہیں زندگی بھر فکر نہ ہو، اور تمہارے بچے، پوتے بھی امیر رہیں، نہ کہ ہر نسل کو صفر سے شروع کرنا پڑے۔ عام مالی مشیر کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ پیسہ بچاؤ، شیئرز میں لگاؤ، ریٹائرمنٹ پر 4% سالانہ نکالو، اور مرنے تک پیسہ ختم ہو جائے – یعنی "صفر کے ساتھ مر جاؤ"۔ لیکن یہ آدمی کہتا ہ...