یہ کہانی ہے امریکہ اور چین کے معاشی نظاموں کی، یعنی ان دونوں ملکوں نے اپنی معیشت کو کیسے بنایا اور چلایا۔ میں یہ سب آسان الفاظ میں بتاؤں گا، سب سے پہلے، تصور کرو کہ ایک ملک کی معیشت ایک بڑا کھیل ہے جہاں پیسہ، کام، اور چیزیں بنانے کا طریقہ شامل ہے۔ ہر ملک کو تین بڑے سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے: 1) پیسہ کون کنٹرول کرتا ہے؟ 2) پیسہ کہاں لگانا ہے، یعنی سرمایہ کاری کیسے ہو؟ اور 3) اگر کچھ غلط ہو جائے تو نقصان کون برداشت کرے؟ امریکہ اور چین نے ان سوالات کے بالکل مختلف جواب دیے، اور یہ جواب ان کی تاریخ سے نکلے۔

 (325) How the U.S. and China Built Two Very Different Economic Systems - YouTube



 یہ کہانی ہے امریکہ اور چین کے معاشی نظاموں کی، یعنی ان دونوں ملکوں نے اپنی معیشت کو کیسے بنایا اور چلایا۔ میں یہ سب آسان الفاظ میں بتاؤں گا، 


سب سے پہلے، تصور کرو کہ ایک ملک کی معیشت ایک بڑا کھیل ہے جہاں پیسہ، کام، اور چیزیں بنانے کا طریقہ شامل ہے۔ ہر ملک کو تین بڑے سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے: 1) پیسہ کون کنٹرول کرتا ہے؟ 2) پیسہ کہاں لگانا ہے، یعنی سرمایہ کاری کیسے ہو؟ اور 3) اگر کچھ غلط ہو جائے تو نقصان کون برداشت کرے؟ امریکہ اور چین نے ان سوالات کے بالکل مختلف جواب دیے، اور یہ جواب ان کی تاریخ سے نکلے۔


چلو، چین کی بات کرتے ہیں۔ 1978 میں، چین کی معیشت بہت چھوٹی تھی، تقریباً 149 ارب ڈالر کی، جو آج کے فن لینڈ جتنی ہے۔ پھر 2020 تک یہ 14 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو گئی، اور 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ یہ دنیا کی سب سے تیز ترقی تھی! لیکن چین نے یہ کیسے کیا؟ ان کا نظام "سوشلزم ود چائنیز کیریکٹرسٹکس" ہے، یعنی حکومت بہت زیادہ کنٹرول کرتی ہے، لیکن کچھ جگہوں پر بازار کو بھی چلنے دیتی ہے۔


چین کی کہانی 1953 سے شروع ہوئی۔ تب چین نے سوویت یونین کی طرح ایک "پانچ سالہ پلان" بنایا، جہاں حکومت سب کچھ طے کرتی تھی: کیا بنانا ہے، کتنا بنانا ہے، اور کیا قیمت ہوگی۔ یہ ایک بڑے سکول کی طرح تھا جہاں پرنسپل (حکومت) بتاتا ہے کہ کلاس میں کیا پڑھنا ہے۔ اس سے چین نے فیکٹریاں بنائیں، لیکن کبھی کبھی غلطیاں ہوئیں، جیسے "گریٹ لیپ فارورڈ" میں بھوک کا بحران آیا۔ پھر 1978 میں، ڈینگ شیاوپنگ نامی لیڈر نے کہا، "اصلاحات کرو اور کھولو!" لیکن انہوں نے سب کچھ نجی نہیں کیا۔ کسانوں کو کہا کہ حکومت کو اپنا حصہ دو، باقی بازار میں بیچو۔ اس سے گاؤں والوں کی آمدنی دوگنی ہو گئی، جیسے تم گھر میں سبزیاں اگاؤ، کچھ گھر میں رکھو، باقی بازار میں بیچ کر پیسہ کماؤ۔


چین نے "سپیشل اکنامک زونز" بنائے، جیسے شینزین، جو پہلے ایک چھوٹا گاؤں تھا، اور اب ایک بہت بڑا شہر ہے جہاں ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ہیں۔ یہ ایک تجرباتی کھیل کی طرح تھا: چھوٹی جگہ پر نئی چیزیں آزماؤ، اگر اچھا چلے تو پورے ملک میں کرو۔ چین میں حکومت کی کمپنیاں بہت بڑی ہیں، جیسے توانائی، بینک، اور فیکٹریاں۔ یہ 3 لاکھ 63 ہزار سے زیادہ کمپنیاں ہیں جو حکومت کی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر چین ہائی سپیڈ ٹرین بنانا چاہے، تو حکومت فوراً پیسہ اور لوگ لگا دیتی ہے، بغیر نجی لوگوں کی اجازت کے۔ ان کا "بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو" ایک بڑی مثال ہے: 150 سے زیادہ ملکوں میں 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سڑکیں، پل، اور چیزیں بنائیں، جو حکومت کی کمپنیاں کرتی ہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے ایک بڑا خاندان جہاں باپ (حکومت) فیصلہ کرتا ہے کہ پیسہ کہاں لگانا ہے، اور سب مل کر کام کرتے ہیں۔ فائدہ یہ کہ تیز کام ہوتا ہے، لیکن نقصان یہ کہ اگر غلط فیصلہ ہو تو بڑا نقصان ہوتا ہے، جیسے قرض زیادہ ہو جاتا ہے۔


اب امریکہ کی باری۔ امریکہ کا نظام بازار پر مبنی ہے، جہاں نجی لوگ اور مالیاتی بازار فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ 1913 میں شروع ہوا جب "فیڈرل ریزرو" بنایا، جو ایک مرکزی بینک ہے جو پیسے کو کنٹرول کرتا ہے اور بحران میں مدد کرتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے ایک ریفری جو کھیل میں انصاف کرتا ہے، لیکن خود کھیل نہیں کھیلتا۔ پھر 1944 میں، بریٹن ووڈز میں ایک میٹنگ ہوئی جہاں دنیا نے ڈالر کو سونے سے جوڑا، اور ڈالر دنیا کی کرنسی بن گئی۔ یہ امریکہ کے لیے ایک بڑا فائدہ تھا، جیسے تمہارے پاس ایک جادوئی سکہ ہو جو سب قبول کرتے ہیں، اور تم قرض لے کر خرچ کر سکتے ہو۔


لیکن 1971 میں، صدر نکسن نے "نکسن شاک" دیا اور ڈالر کو سونے سے الگ کر دیا۔ اب کرنسی کی قیمت بازار طے کرتا ہے، جیسے اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی قیمت اوپر نیچے ہوتی ہے۔ اس سے امریکہ میں مالیاتی کیپیٹلزم بڑھا: بینک اب صرف پیسہ رکھنے اور قرض دینے والے نہیں، بلکہ سرمایہ کاری اور پیچیدہ چیزیں کرتے ہیں۔ 1999 میں ایک قانون سے بینکوں کو مزید آزادی ملی۔ امریکہ میں معیشت کا 12% چیزیں بنانے سے ہے، اور 7% مالیات سے، جیسے انشورنس اور سرمایہ کاری۔ یہ ایسا ہے جیسے ایک بازار جہاں لوگ اپنے پیسے سے جوکھم لے کر منافع کماتے ہیں، جیسے تم ایک دکان کھولو اور دیکھو کیا چلتا ہے۔ فائدہ یہ کہ نئی چیزیں جلدی بنتی ہیں، لیکن نقصان یہ کہ بحران آتے ہیں، جیسے 2008 کا مالی بحران جہاں ایک بینک گرا تو سب کو نقصان ہوا، اور حکومت کو بچانا پڑا۔


اب دیکھو دونوں میں فرق۔ چین میں مینوفیکچرنگ 27% ہے، یعنی چیزیں بنانا، جیسے فون، کارز۔ امریکہ میں مالیات اور خدمات زیادہ ہیں، جیسے گوگل یا بینک۔ امریکہ کا ڈالر دنیا کی سب سے بڑی کرنسی ہے، 60% مرکزی بینک اسے رکھتے ہیں، تو امریکہ آسانی سے قرض لے سکتا ہے۔ چین کے پاس 3 ٹریلین ڈالر کے ذخائر ہیں، لیکن ان کی کرنسی (رینمنبی) اتنی آزاد نہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے امریکہ ایک بڑا بینک ہے جو دنیا سے پیسہ ادھار لیتا ہے، اور چین ایک بڑا بچت خانہ جو پیسہ بچاتا ہے اور امریکہ کو قرض دیتا ہے۔


دونوں کے فوائد اور نقصانات ہیں۔ امریکہ کا نظام نئی ایجادات لاتا ہے، لیکن امیر غریب کا فرق بڑھاتا ہے۔ چین کا نظام تیز ترقی دیتا ہے، لیکن حکومت کی غلطیاں بڑا قرض بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں اگر کوئی کمپنی فیل ہو جائے تو بازار اسے بند کر دیتا ہے، جیسے ایک کھلونا جو نہیں چلتا تو بیچنا بند۔ چین میں حکومت کمپنی کو بچاتی ہے، جو اچھا ہے لیکن غیر موثر چیزیں چلتی رہتی ہیں۔


آخر میں، یہ دونوں نظام تاریخ کے فیصلوں سے بنے۔ امریکہ نے 1971 میں بازار کو آزاد کیا، چین نے 1978 میں حکومت کے ساتھ بازار ملایا۔ دونوں نے کامیابی پائی: امریکہ امیر ہے، چین نے غربت ختم کی۔ لیکن اب چیلنجز ہیں، جیسے امریکہ کا قرض اور تقسیم، چین کا بوڑھا ہوتا ملک اور قرض۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ معیشت ایک مشین نہیں، بلکہ لوگوں کے فیصلوں سے بنتی ہے، اور یہ مقابلہ جاری ہے۔


سمجھ آیا نا؟ اگر کوئی سوال ہو تو پوچھو، میں مزید آسان کر کے بتاؤں گا!

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔