یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔
بچو، آج میں تمہیں ایک دلچسپ کہانی سناتا ہوں، بالکل استاد کی طرح، قدم بہ قدم، آسان الفاظ میں، اور جہاں جہاں ضروری ہو وہاں روزمرہ کی مثالیں دے کر۔ یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم (Ethereum) ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ لیکن 2025 میں اس کے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ بہت سے لوگ کہنے لگے کہ یہ ختم ہو رہا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے، یا یہ خریدنے کا سب سے بڑا موقع ہے؟ چلو، شروع سے سمجھتے ہیں۔
ایتھریم کو 2025 میں بہت برا وقت پڑا۔ اس کی قیمت پورے سال میں تقریباً 12% کم ہو گئی، جبکہ عام ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز 22% بڑھ گئے۔ دوسری ڈیجیٹل کرنسیوں سے موازنہ کرو تو اور بھی برا لگتا ہے۔ ایک دوسری کرنسی (جو تیز اور سستی ہے) نے میم کوائنز اور تفریحی ٹریڈنگ میں سب کی توجہ کھینچ لی، جبکہ ایتھریم پیچھے رہ گیا۔
اس کی قیمت کی کہانی دو حصوں میں ہے۔ 2025 کے بہار میں قیمت بہت کم ہو گئی، تقریباً 1400 ڈالر تک، اور لوگ مایوس ہو گئے۔ پھر گرمیوں میں اچانک تیزی آئی، قیمت دوگنا سے زیادہ ہو کر 4950 ڈالر تک پہنچ گئی۔ لوگوں کو لگا اب ایتھریم بھی بڑی کرنسی کی طرح اوپر جائے گا۔ لیکن اگست کے بعد پھر گراوٹ شروع ہوئی اور 40% گر کر تقریباً 2900 ڈالر پر آ گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ اچانک اتنا برا کیوں ہوا؟ تین بڑی وجوہات تھیں:
1. **دوسری تہیں (Layer 2) کا اثر**
ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔
مثال: تصور کرو ایک بڑی دکان ہے (ایتھریم)، لیکن لوگ اب چھوٹی شاخیں کھول کر وہاں خریداری کر رہے ہیں۔ شاخیں تو منافع کما رہی ہیں، لیکن مرکزی دکان کی آمدنی 98% کم ہو گئی۔ پہلے مرکزی نیٹ ورک روزانہ کروڑوں کی فیس کما رہا تھا، اب بہت کم۔ اس سے ایتھریم کی سپلائی بھی بڑھنے لگی (پہلے کم ہو رہی تھی)۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دوسری تہیں ایتھریم کو "خالی" کر رہی ہیں۔
2. **ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کی مایوسی**
ایک بڑی کرنسی کے ETFs آئے تو اس کی قیمت بڑھی، لیکن ایتھریم کے ETFs آنے کے بعد قیمت گری۔ وجہ؟ ایتھریم کو "سٹیکنگ" کر کے 3-4% سالانہ منافع ملتا ہے، یعنی پیسہ رکھو اور اضافی پیسہ کماؤ۔ لیکن امریکہ کے ETFs میں سٹیکنگ کی اجازت نہیں، تو اداروں کے لیے ETF رکھنا فائدہ مند نہیں۔ وہ سیدھا ایتھریم خرید کر سٹیکنگ کر لیتے ہیں۔
مثال: جیسے کوئی بینک تمہیں اکاؤنٹ کھولنے پر کوئی انعام نہ دے، بلکہ تمہیں فیس دے، تو تم سیدھا گھر میں پیسہ رکھ کر خود انعام والا آپشن استعمال کرو گے۔
اس کے علاوہ ایک پرانا ٹرسٹ تھا جس سے بہت سارا ایتھریم بیچا گیا، جس سے مسلسل دباؤ رہا۔
3. **کارپوریٹ خزانوں کا بحران**
کچھ کمپنیاں بہت سارا ایتھریم خرید رہی تھیں تاکہ اپنے شیئرز کی قیمت بڑھائیں۔ جب قیمت گری تو ان کمپنیوں کے شیئرز بھی گرے، اور کچھ کو مجبوراً ایتھریم بیچنا پڑا۔ یہ ایک برا چکر بن گیا: قیمت گرتی → کمپنیاں بیچتی → قیمت اور گرتی۔
یہ سب سن کر لگتا ہے کہ واقعی ایتھریم ختم ہو رہا ہے۔ لیکن اب اصل موڑ آتا ہے۔
جب قیمت اور حقیقت میں بہت فرق ہو جائے تو اکثر بڑا موقع بنتا ہے۔ ایتھریم کی حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑے مالیاتی ادارے اسی پر مستقبل کی مالیاتی نظام بنا رہے ہیں۔
- تقریباً 70% مستقل کرنسیاں (stablecoins) ایتھریم پر ہیں، یعنی 170 ارب ڈالر کا "حقیقی پیسہ"۔ یہ کرپٹو کی معیشت کی رگِ جاں ہے۔
مثال: جیسے دنیا بھر کے لوگ ڈالر استعمال کرتے ہیں، کرپٹو میں بھی "حقیقی" لین دین ایتھریم پر ہو رہا ہے، جبکہ دوسری کرنسی پر زیادہ تر جوا اور تفریح ہے۔
- بڑے ادارے جو حقیقی اثاثوں (جیسے سرکاری بانڈز) کو ڈیجیٹل بنا رہے ہیں، وہ ایتھریم استعمال کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب سے محفوظ، پرانا، اور واضح قوانین والا ہے۔
مثال: جیسے بڑے بینک اپنا سب سے قیمتی خزانہ سب سے مضبوط تیزوری میں رکھتے ہیں، نہ کہ نئی چمکدار لیکن غیر یقینی تیزوری میں۔
- کچھ کمپنیاں اب بھی ایتھریم جمع کر رہی ہیں اور سٹیکنگ کر رہی ہیں، یعنی انہیں یقین ہے۔
اب 2026 کا پلان بہت زبردست ہے:
- نیٹ ورک کو مزید تیز، سستا، اور محفوظ بنانے والے اپ گریڈز آ رہے ہیں۔
- سب سے بڑی امید: ETFs میں سٹیکنگ کی اجازت مل سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اداروں کے لیے ETF رکھنا بہت پرکشش ہو جائے گا کیونکہ انہیں 3-4% منافع ملے گا۔
مثال: جیسے پہلے اکاؤنٹ میں کوئی انعام نہیں تھا، اب اچانک انعام ملنے لگے تو سب دوڑ کر آئیں گے۔
آخر میں بات یہ ہے کہ مارکیٹس چکر میں چلتی ہیں۔ جب سب مایوس ہوں، خوف بہت ہو، اور قیمت کم ہو، تب اکثر بڑی تیزی آتی ہے۔ ایتھریم کے بنیادی عوامل (حقیقی استعمال، اداروں کی دلچسپی، مستقل کرنسیاں) پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔ صرف "ہائپ" غائب ہے، اور ہائپ کرپٹو میں اچانک واپس آ جاتا ہے۔
تو یہ کہانی کا خلاصہ یہ ہے: ایتھریم کو 2025 میں بہت مار پڑی، بہت سے مسائل آئے، لیکن حقیقت میں یہ مر نہیں رہا بلکہ خاموشی سے مالیاتی دنیا کا بنیادی حصہ بن رہا ہے۔ اب جب سب اسے برا کہہ رہے ہیں، شاید یہ خریدنے کا سب سے بڑا موقع ہو، بشرطیکہ 2026 میں کچھ اچھے واقعات ہوں۔
سمجھ آ گئی نا؟ اگر کوئی حصہ اب بھی الجھن میں ہو تو پوچھو، میں دوبارہ آسان کر کے بتاؤں گا۔
Comments
Post a Comment