بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

 (128) The ONLY Bridge From Banks to Public Blockchain | XRP & XDC Connected Through SBI - YouTube



یہ ویڈیو کی کہانی **بہت آسان الفاظ** میں ایک دلچسپ اور اہم رابطے کی بات کر رہی ہے جو بینکوں کو عام پبلک بلاک چین سے جوڑتی ہے۔ میں اسے قدم بہ قدم، بالکل سادہ طریقے سے بیان کرتا ہوں جیسے کسی دوست کو سمجھا رہے ہوں، اور جہاں ضروری ہو گا وہاں مثالیں بھی دوں گا۔


سب سے پہلے سمجھ لیں کہ **بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔


ایک مشہور پرائیویٹ بلاک چین کا نام ہے **R3 Corda**۔ یہ 2014 میں شروع ہوا تھا۔ اس میں دنیا بھر کے تقریباً 200 سے زیادہ بڑے بینک اور مالیاتی ادارے شریک ہیں۔ یہ بینک مل کر اسے چلاتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بینک اپنی **حقیقی دنیا کی چیزیں** (جیسے ریئل اسٹیٹ یعنی عمارتیں، تیل، اسٹاک، بانڈز، یا سرکاری قرضے) کو **ٹوکنائز** کر کے بلاک چین پر ڈال سکتے ہیں۔ ٹوکنائز کرنے کا مطلب ہے کہ ان چیزوں کو ڈیجیٹل ٹوکن بنا دینا تاکہ انہیں آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔ لیکن یہ سب پرائیویٹ رہتا ہے، یعنی کوئی باہر والا نہیں دیکھ سکتا کہ کس بینک کے پاس کیا ہے۔


اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ پرائیویٹ بلاک چین **عام پبلک بلاک چین** (جیسے XRP Ledger یا XDC Network) سے الگ ہے۔ بینکوں کو کبھی کبھی پیسہ یا اثاثے پرائیویٹ سے پبلک کی طرف بھیجنے پڑتے ہیں، یا پبلک سے پرائیویٹ کی طرف لانا پڑتا ہے۔ اس کے لیے ایک **پل** (bridge) چاہیے ہوتا ہے۔


یہاں **XDC Network** آتا ہے۔ XDC ایک **ہائبرڈ پبلک بلاک چین** ہے (یعنی کچھ پرائیویٹ، کچھ پبلک فیچرز رکھتا ہے)۔ یہ خاص طور پر **گلوبل ٹریڈ** (بین الاقوامی تجارت) اور **ٹریڈ فنانس** کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ **ISO 20022** کے معیار پر چلتا ہے، جو بینکوں کے لیے نئی میسجنگ سسٹم ہے (جیسے SWIFT کا نیا ورژن)۔


**Impel** نامی ایک ٹیکنالوجی/کمپنی نے **R3 Corda** اور **XDC Network** کے درمیان ایک **پل** بنایا تھا۔ اس پل کا نام **Corda Bridge** ہے۔ اس پل کی مدد سے پرائیویٹ Corda سے XDC کی پبلک نیٹ ورک پر پیسہ یا ڈیجیٹل اثاثے منتقل ہو سکتے ہیں۔ یہ پل **XDC** کو استعمال کر کے فوری سیٹلمنٹ (یعنی فوری ادائیگی) کرتا ہے۔


2024 میں **SBI Holdings** (جاپان کی ایک بہت بڑی فنانشل کمپنی) نے یہ پل **خرید لیا** یا اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ SBI نے ایک نئی کمپنی بنائی جس کا نام **SBI XDC Network APAC** ہے۔ اس نے Impel سے یہ Corda Bridge لے کر اپنے پاس کر لیا۔ یعنی اب یہ پل **SBI** کے پاس 100% ہے۔


**SBI** Ripple (XRP والوں) کا بھی بہت بڑا پارٹنر ہے۔ SBI کے پاس **Ripple Labs** میں تقریباً 9% حصہ ہے (یہ Ripple کا سب سے بڑا بیرونی شیئر ہولڈر ہے)۔ جاپان میں **SBI Ripple Asia** نامی جوائنٹ وینچر بھی ہے۔ SBI **XRP** کو بھی بہت استعمال کرتا ہے، خاص طور پر کراس بارڈر پیمنٹس میں۔


تو اب تصویر یوں بنتی ہے:


- بینک → R3 Corda (پرائیویٹ بلاک چین) پر اپنے اثاثے رکھتے ہیں۔

- جب انہیں پبلک نیٹ ورک پر جانا ہو تو → **SBI کے پاس والا Corda Bridge** استعمال کرتے ہیں۔

- یہ بریج → **XDC Network** پر لے جاتا ہے۔

- XDC Network پر سیٹلمنٹ ہوتا ہے (فوری اور سستا)۔

- اور چونکہ SBI Ripple کا بھی بڑا شیئر ہولڈر ہے، تو یہ سب **XRP** اور **XDC** کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔


**مثال** سے سمجھیں:  

فرض کریں ایک جاپانی بینک کے پاس ایک بڑی عمارت ٹوکنائز ہوئی ہے Corda پر۔ وہ اس کا ایک حصہ کسی دوسرے ملک کے بینک کو بیچنا چاہتا ہے۔ پرانے سسٹم میں یہ کام ہفتوں لگتے، کاغذات، SWIFT، بہت سارے وسط والے۔  

اب: Corda سے → Corda Bridge (SBI کا) → XDC Network پر فوری سیٹلمنٹ → اور XRP بھی اگر ضرورت ہو تو بریج کرنسی کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے (کیونکہ دونوں ISO 20022 فالو کرتے ہیں)۔


**خلاصہ یہ ہے** کہ ویڈیو کہہ رہی ہے:  

**SBI** ایک بہت بڑا پل ہے جو **بینکوں کے پرائیویٹ دنیا** (R3 Corda) کو **پبلک بلاک چین** (خاص طور پر XDC، اور بالواسطہ XRP) سے جوڑتا ہے۔ یہ پل اب SBI کے پاس ہے۔ اس لیے XRP اور XDC ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں — XDC ٹریڈ اور اثاثوں کے لیے انفراسٹرکچر دیتا ہے، اور XRP شاید سٹور آف ویلیو یا فوری کراس بارڈر پیمنٹ کے لیے۔


یہ سب **گلوبل ٹریڈ** کو تیز، سستا اور جدید بنانے کے لیے ہے، جہاں پرانا SWIFT سسٹم آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ امید ہے اب بالکل آسان لگ رہا ہو گا! اگر کوئی حصہ دوبارہ سمجھانا ہو تو بتائیں۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔