قرآنی معاشی نظام (سعید الرائی صاحب کی تحقیق کی روشنی میں)
قرآنی معاشی نظام (سعید الرائی صاحب کی تحقیق کی روشنی میں) 1. معیشت اور دین کا تعلق * سعید الرائی صاحب کے مطابق قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں ایک واضح معاشی نظام موجود ہے۔ * قرآن نے دن کو معیشت (کمانے) کے لیے بنایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انسانی زندگی کا ایک بڑا حصہ معاشی تگ و دو سے جڑا ہوا ہے۔ 2. صدقات اور زکوٰۃ: دو بنیادی ستون * قرآنی معیشت کے دو اہم حصے ہیں: صدقات اور زکوٰۃ۔ * ان دونوں کو قرآن میں "فریضہ من اللہ" (اللہ کی طرف سے فرض) کہا گیا ہے۔ ان کا مقصد معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہے۔ 3. دولت کی گردش کا قرآنی اصول * سورہ الحشر کی روشنی میں بتایا گیا کہ دولت صرف امیروں کے درمیان گردش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے معاشرے کے نچلے طبقے تک پہنچنا چاہیے۔ * حضرت ابراہیمؑ کے واقعے سے ثابت ہے کہ دولت کے تین حصے ہونے چاہئیں: اپنا حصہ، رشتہ داروں کا حصہ اور غریبوں کا حق۔ 4. مال میں تین حقوق * قرآن مال میں تین قسم کے حقوق بیان کرتا ہے: * حقِ معلوم: جو اللہ کا طے شدہ حق ہے۔ * حقِ سائل: مانگنے...