بٹ کوائن کی روزمرہ خریداریوں کو روکنے کی اندرونی سازش: کوئی بیس کا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا مستحکم سکوں کا منافع، کیپیٹل ہل پر لابنگ کی حقیقت اور بٹ کوائن کے مستقبل کی جنگ کی مکمل تفصیل

 بٹ کوائن کی روزمرہ خریداریوں کو روکنے کی اندرونی سازش: کوئی بیس کا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا مستحکم سکوں کا منافع، کیپیٹل ہل پر لابنگ کی حقیقت اور بٹ کوائن کے مستقبل کی جنگ کی مکمل تفصیل


میرے پیارے قارئین،  

آج میں آپ کو ایک ایسے موضوع پر مکمل تفصیل سے بات کرتا ہوں جو نہ صرف بٹ کوائن کے شوقینوں کے لیے اہم ہے بلکہ ہر وہ شخص جو ڈیجیٹل کرنسی اور معاشی آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اسے ضرور سمجھنا چاہیے۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب امریکہ کی سب سے بڑی بٹ کوائن ایکسچینج کا سربراہ مبینہ طور پر بٹ کوائن کو عام لوگوں کی روزمرہ خریداریوں میں استعمال ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کیپیٹل ہل یعنی امریکہ کی پارلیمنٹ میں اسے سبوتاژ کر رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں؟ اس کی وجہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالر ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو اس ایکسچینج نے صرف پچھلے سال مستحکم سکوں کی آمدنی سے حاصل کی۔  


سب سے پہلے آئیے مستحکم سکوں کو سمجھتے ہیں۔ مستحکم سکے وہ ڈیجیٹل کرنسیاں ہیں جو امریکی ڈالر جیسی فیاٹ کرنسی سے براہ راست جڑی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر یو ایس ڈی سی۔ جب آپ یو ایس ڈی سی خریدتے یا استعمال کرتے ہیں تو یہ سکہ ایکسچینج کے خزانے میں رکھا جاتا ہے اور اس کے پیچھے امریکی حکومت کے خزانے سے سود یعنی انٹرسٹ ملتا ہے۔ اب سوچیں، اگر بٹ کوائن روزمرہ پیسہ بن جائے تو لوگ مستحکم سکوں کی بجائے براہ راست بٹ کوائن استعمال کریں گے۔ اس سے ایکسچینج کی یہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی آمدنی براہ راست متاثر ہوگی۔ اس لیے وہ لابنگ کر رہے ہیں کہ بٹ کوائن کو عام استعمال سے دور رکھا جائے۔  


اب ٹیکس کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ امریکہ کے قانون کے مطابق جب بھی آپ بٹ کوائن سے کوئی چھوٹی سی خریداری کرتے ہیں، مثلاً ایک کپ کافی جو تقریباً چار ڈالر کی ہو، تو اس پر کیپیٹل گینز ٹیکس کا حساب لگتا ہے۔ کیپیٹل گینز ٹیکس کا مطلب ہے کہ آپ کے بٹ کوائن کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے اس پر ٹیکس۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے بٹ کوائن ایک ڈالر میں خریدا تھا اور اب وہ دو ڈالر کا ہے تو فرق پر ٹیکس لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی آر ایس یعنی ٹیکس کا ادارہ رپورٹ بھی مانگتا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے آپ نے کوئی بڑا اثاثہ جیسے گھر یا شیئرز بیچا ہو۔ لیکن غیر ملکی کرنسی جیسے یورو یا ین کے لیے قانون کہتا ہے کہ اگر دو سو ڈالر سے کم کا فائدہ ہو تو ٹیکس سے چھوٹ ہے۔ بٹ کوائن کے صارفین کو ایسی کوئی چھوٹ نہیں ملتی۔  


اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سینیٹر سنتھیا لومیس نے ایک الگ بل پیش کیا۔ اس بل میں کہا گیا کہ تین سو ڈالر تک کی ہر ٹرانزیکشن پر اور سالانہ پانچ ہزار ڈالر تک کا فائدہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہو۔ اس بل کو جوائنٹ کمیٹی آن ٹیکسیشن نے چیک کیا اور کہا کہ یہ دس سالوں میں چھ سو ملین ڈالر کا اضافی ریونیو بھی دے سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور خزانہ سیکریٹری نے بھی اس کی حمایت کی۔ لیکن پھر ایک نیا بل آیا جس میں صرف مستحکم سکوں کو یہ چھوٹ دی گئی اور بٹ کوائن کو مکمل طور پر باہر رکھا گیا۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ کو سب سے زیادہ ضرورت ہو اور آپ کو وہ چیز نہ دی جائے بلکہ وہ چیز دی جائے جس کی کم ضرورت ہو۔  


اس صورتحال کے خلاف بٹ کوائن پالیسی انسٹی ٹیوٹ یعنی بی پی آئی نے تین مہینوں میں انیس کانگریس آفسز میں لابنگ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف مستحکم سکوں والا طریقہ غلط ہے۔ لیکن وقت ختم ہو رہا ہے کیونکہ سینیٹر لومیس جنوری دو ہزار ستائیس میں سینیٹ چھوڑ رہی ہیں۔ اگر اگلے چند مہینوں میں کوئی پیکج نہ بنے تو یہ موقع سالوں تک واپس نہیں آئے گا۔  


اب بات ذاتی ہو جاتی ہے۔ رپورٹس کہتی ہیں کہ کوئی بیس کے لابیسٹس قانون سازوں سے کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی بٹ کوائن کو پیسے کی طرح استعمال نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ لوگ صرف اسے ہولڈ کرتے ہیں نہ کہ خریداری کے لیے۔ اس لیے چھوٹ صرف مستحکم سکوں کو دی جائے۔ لیکن جیک ڈورسی، جو ٹوئٹر کے بانی ہیں، نے براہ راست کوئی بیس کے سی ای او برائن آرمسٹرانگ سے پوچھا کہ کیا وہ بٹ کوائن کے لیے بھی یہ ٹیکس چھوٹ سپورٹ کرتے ہیں۔ کوئی بیس کے چیف پروڈکٹ آفیسر نے کہا کہ وہ بٹ کوائن دوست ٹیکس سپورٹ کرتے ہیں لیکن بی پی آئی چاہتا ہے کہ یہ بات عوامی طور پر واضح ہو کیونکہ لابنگ میں جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ عوامی بیان سے مختلف ہیں۔  


یہاں خود کی کسٹڈی یعنی اپنے بٹ کوائن کو خود رکھنے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اگر کوئی بیس یہ لڑائی جیت جائے تو بٹ کوائن صرف ایک پورٹ فولیو کا ٹکر رہ جائے گا اور آپ ایک ایسے کمپنی پر منحصر رہیں گے جس کے مفادات آپ سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کا بٹ کوائن ایکسچینج میں ہو تو وہ کمپنی اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔  


کوئی بیس کی اپنی اشتہاری مہم بھی دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فیڈ ہر روز چار سو پینسٹھ ملین ڈالر پرنٹ کرتا ہے۔ یہ ایک سال میں چھبیس ہزار شپنگ کنٹینرز کے برابر ہے جو خالی ہوا سے بنتے ہیں۔ اس لیے ڈالر کی قدر کم ہوتی ہے۔ لیکن ایک چیز ہے جسے وہ کبھی پرنٹ نہیں کر سکتے اور وہ ہے بٹ کوائن۔ بٹ کوائن کی کل مقدار ایک چوتھائی کے سائز کی بھی نہیں ہوگی۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ حکومت ڈالر پرنٹ کر سکتی ہے لیکن بٹ کوائن، سونا یا چاندی نہیں۔ پھر بھی ان کے لابیسٹ بٹ کوائن کو روزمرہ استعمال کی چھوٹ سے روکتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بٹ کوائن کیا ہے لیکن چاہتے ہیں کہ آپ مستحکم سکوں سے لڑیں جہاں منافع ان کے پاس جائے۔  


اب دیکھیں کہ کوئی بیس کی مخالفت میں کوئی ایسا شخص ہے جس کا کوئی مفاد نہیں۔ سٹریک کے سی ای او جیک ملر کہتے ہیں کہ امریکہ کو اتنا پیسہ پرنٹ کرنا پڑے گا کہ ڈالر کی قدر کم ہوگی۔ بٹ کوائن کی قیمت اسی سے بڑھے گی کیونکہ نئے ڈالر پرانے ڈالر کی قدر گھٹاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب فیڈ پینک ہوتا ہے تو بٹ کوائن کی قیمت بڑھتی ہے۔ یہ کوئی جذباتی بات نہیں بلکہ ریاضی ہے۔  


اسی طرح پروفیسر ڈانگ نے کہا کہ امریکہ کی معیشت ایک پونزی سکیم ہے۔ پونزی سکیم کا مطلب ہے کہ ایک جھوٹے سسٹم پر چلتی ہے جو نئے سرمایہ کاروں سے پرانوں کو پیسہ دیتا ہے۔ یہ معیشت سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاری پر منحصر ہے۔ اگر یہ رک جائے تو معیشت گر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جنگ شروع ہو تو تیل کی قیمت بڑھے گی اور کانگریس ایک ٹریلین ڈالر اور نکال لے گی۔ عام لوگوں کو قرض میں دھکیل دیا جاتا ہے۔  


اب مائیکل سیلر کی بات۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر امریکہ بیس فیصد بٹ کوائن خرید لے تو ڈالر مضبوط ہوگا اور قومی قرض ادا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر چار سے چھ ملین بٹ کوائن خریدنے سے پچاس سے اسی ٹریلین ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے الاسکا خریدنے پر ایک ارب ڈالر کا فائدہ ہوا۔ خطرہ یہ ہے کہ سعودی، روسی یا چینی پہلے خرید لیں۔  


آخر میں کرنل ڈگلس میک گریگور جو فوجی حکمت عملی کے ماہر ہیں کہتے ہیں کہ بٹ کوائن دس ہزار سے ایک ملین ڈالر تک بہت تیزی سے جا سکتا ہے۔ یہ راستہ کھٹملوں بھرا ہوگا لیکن آخر کار کامیاب ہوگا کیونکہ اس سے کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ اس میں نہیں ہیں وہ سب سے بڑا موقع کھو رہے ہیں۔  


قارئین، یہ تمام باتیں ایک بات واضح کرتی ہیں۔ بٹ کوائن کو وال سٹریٹ یا حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ اندرونی لابنگ سے خطرہ ہے۔ لیکن ریاضی اور حقیقت دونوں بٹ کوائن کے حق میں ہیں۔ ہر نیا پرنٹ کیا گیا ڈالر بٹ کوائن کی قدر بڑھاتا ہے۔ اس لیے خود اپنے بٹ کوائن کو محفوظ رکھیں، روزانہ تھوڑا تھوڑا خریدتے رہیں اور کسی بھی کمپنی پر منحصر نہ رہیں۔ یہ کوئی لابنگ کی جنگ نہیں بلکہ آپ کی مالی آزادی کی جنگ ہے۔  


سٹیک کریں، خود کی حفاظت کریں اور ہمیشہ بُلش رہیں۔  

آپ کا مصنف،  

سوفیا

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔