بٹ کوائن جنگ کی آگ میں چمک رہا ہے – محفوظ پناہ گاہ بنتا ہوا ڈیجیٹل سونا، جو رسک ایسٹ بھی بن سکتا ہے اور بحران میں بھی سنبھال لیتا ہے: ایک مکمل، آسان اور تفصیلی تجزیہ

 بٹ کوائن جنگ کی آگ میں چمک رہا ہے – محفوظ پناہ گاہ بنتا ہوا ڈیجیٹل سونا، جو رسک ایسٹ بھی بن سکتا ہے اور بحران میں بھی سنبھال لیتا ہے: ایک مکمل، آسان اور تفصیلی تجزیہ


ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں جب بھی بڑی جنگ، بحران یا مالیاتی ہنگامہ برپا ہوتا ہے تو لوگ اپنے پیسے کو محفوظ جگہ تلاش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سونا خریدتے ہیں، کچھ ڈالر، کچھ سرکاری بانڈز۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے ایک نئی چیز نے سب کو حیران کر دیا ہے – وہ ہے بٹ کوائن۔ 


فرض کریں 28 فروری کو ایک بڑی جنگ شروع ہو جائے (جیسے مشرق وسطیٰ میں حالیہ واقعات)۔ اس دن سے لے کر اب تک بٹ کوائن 7 فیصد اوپر چڑھ چکا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص اس دن 100000 روپے کا بٹ کوائن خریدتا تو آج اس کے پاس تقریباً 107000 روپے کے برابر بٹ کوائن ہوتا۔ 


اس دوران:

- امریکی سٹاک مارکیٹ (S&P 500 اور NASDAQ) نیچے گئی

- سونا اور چاندی بھی گرے

- لیکن بٹ کوائن نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا


سب سے دلچسپ بات یہ کہ بٹ کوائن نے سب سے پہلے 63000 ڈالر تک گرا، پھر فوراً واپس اٹھ کر 70000، پھر 73000 تک پہنچ گیا اور اب تقریباً 71000 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یعنی جنگ کا اعلان ہوتے ہی سب مارکیٹیں ڈر گئیں، لیکن بٹ کوائن نے صرف چند دنوں میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔


اب سوال یہ ہے کہ بٹ کوائن یہ کیوں کرتا ہے؟


بٹ کوائن دو طرح کا رویہ دکھاتا ہے:


1. رسک ایسٹ (Risk Asset)  

   جب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہو، لوگ خوش ہوں، سٹاک مارکیٹ اوپر جائے تو بٹ کوائن بھی ان کے ساتھ اوپر جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ٹیسلا یا ایمیزون کے شیئرز۔


2. سیف ہیون ایسٹ (Safe Haven Asset)  

   جب جنگ ہو، بینکوں پر دباؤ ہو، حکومت پیسہ چھاپے، تو لوگ بٹ کوائن کی طرف بھاگتے ہیں۔ کیونکہ بٹ کوائن کسی ملک، حکومت یا بینک کا محتاج نہیں۔ یہ 21000000 کے کل مقدار میں محدود ہے۔ کوئی اسے پرنٹ نہیں کر سکتا۔


مثال نمبر 1: مارچ 2020  

کورونا وائرس آیا، دنیا بھر کی مارکیٹیں 30-40 فیصد گر گئیں۔ بٹ کوائن بھی 3000 ڈالر تک گرا۔ لیکن جو لوگ اس دن خرید رہے تھے، آج وہ کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ اس دن بہت سے لوگوں نے اپنے تمام پیسے ڈال کر بٹ کوائن خریدا تھا۔


مثال نمبر 2: حالیہ جنگ  

مشرق وسطیٰ میں لوگ اپنا پیسہ دبئی، لبنان، ایران سے نکال رہے ہیں۔ اگر آپ کا بینک بند ہو جائے، کرنسی گر جائے تو سب سے تیز اور آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنا پیسہ بٹ کوائن میں تبدیل کر کے دوسرے ملک بھیج دیں۔ اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہ بٹ کوائن کی سب سے بڑی طاقت ہے – کوئی حکومت، کوئی بینک اسے ضبط نہیں کر سکتا۔


اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہیں:


- ETF میں پیسہ واپس آنا شروع ہو گیا ہے (پچھلے مہینوں میں 3 ارب ڈالر نکلے تھے، اب واپس آ رہے ہیں)

- بٹ کوائن 200 دن کی اوسط لائن (200 Day Moving Average) کے اوپر واپس آ گیا ہے

- آرتھر ہیز جیسے بڑے سرمایہ کار کہتے ہیں: "جنگ = حکومت پیسہ چھاپے گی = بٹ کوائن جیتے گا"


البتہ ایک مشہور تجزیہ کار لُک گرومین (Luke Gromen) کہتے ہیں کہ ابھی بٹ کوائن 40000 ڈالر تک بھی جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سونا اور دیگر اثاثے ابھی بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔


لیکن حقیقت یہ ہے کہ بٹ کوائن ہمیشہ "وال آف وری" (Wall of Worry) پر چڑھتا ہے۔ یعنی جتنی زیادہ خوف کی خبریں آتی ہیں، اتنا ہی بٹ کوائن آخر کار اوپر جاتا ہے۔


اب سب سے اہم بات – آپ کیا کریں؟


سب سے آسان اور سب سے محفوظ طریقہ ہے DCA (Dollar Cost Averaging)  

یعنی ہر مہینے، ہر ہفتے، چاہے قیمت 50000 ہو یا 100000، آپ تھوڑا تھوڑا بٹ کوائن خریدتے رہیں۔ اس سے آپ کی اوسط خرید قیمت بہت اچھی ہو جاتی ہے۔


مثال:  

اگر آپ 12 مہینے ہر مہینے 10000 روپے بٹ کوائن میں ڈالتے ہیں تو کبھی 70000 والے مہینے میں تھوڑا کم ملے گا، کبھی 50000 والے میں زیادہ۔ آخر میں آپ کی اوسط قیمت 60000 رہے گی۔


آخر میں یہ یاد رکھیں:  

بٹ کوائن کے سالانہ بڑے منافع کا 70-80 فیصد صرف 10-12 دنوں میں آتا ہے۔ اگر آپ ان 10 دنوں سے باہر رہے تو آپ کا پورا سال ضائع۔ اس لیے ڈرتے رہیں مگر بیچیں نہیں۔


جنگ ہو، بحران ہو، مارکیٹ گرے – بٹ کوائن لمبے عرصے میں ہمیشہ جیتتا ہے۔ کیونکہ اس کی سپلائی محدود ہے اور دنیا اسے روز بہ روز زیادہ استعمال کر رہی ہے۔


اب وقت ہے کہ آپ بھی اپنا حصہ شروع کریں۔ آہستہ آہستہ، مسلسل، بغیر گھبرائے۔


آپ کا بٹ کوائن آپ کا مستقبل ہے۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔