**امریکی خزانہ کا خفیہ منصوبہ: کریپٹو اکاؤنٹس کو بغیر عدالت کے حکم کے فوری طور پر منجمد کرنے کی قانونی اجازت – کیا یہ ویب تھری کی آزادی ختم کرنے کا خطرناک جال ہے یا صرف جرائم روکنے کا ضروری ٹول؟ ایک مکمل، آسان اور تفصیلی جائزہ**

 **امریکی خزانہ کا خفیہ منصوبہ: کریپٹو اکاؤنٹس کو بغیر عدالت کے حکم کے فوری طور پر منجمد کرنے کی قانونی اجازت – کیا یہ ویب تھری کی آزادی ختم کرنے کا خطرناک جال ہے یا صرف جرائم روکنے کا ضروری ٹول؟ ایک مکمل، آسان اور تفصیلی جائزہ**


میرے پیارے قارئین،  

آج میں آپ کے سامنے ایک ایسے موضوع پر بات کرنے جا رہا ہوں جو ہر کریپٹو کرنسی کے استعمال کرنے والے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تصور کریں کہ آپ صبح اٹھتے ہیں اور آپ کا کریپٹو ایکسچینج اکاؤنٹ بالکل منجمد ہو چکا ہے۔ یہ منجمد ہونا کسی عدالت کے حکم کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت کے ایک الگورتھم کی وجہ سے ہوا ہے جس نے آپ کے والیٹ ایڈریس کو مشکوک قرار دے دیا۔ یہ کوئی سائنس فکشن کی کہانی نہیں بلکہ مارچ دو ہزار چھبیس کے نو تاریخ کو امریکی خزانہ نے کانگریس سے بالکل یہی قانونی اجازت مانگی ہے۔  


سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ کریپٹو کیا ہے۔ کریپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل پیسہ ہے جو بلاک چین نامی ٹیکنالوجی پر چلتا ہے۔ مثال کے طور پر بٹ کوائن ایک کریپٹو کرنسی ہے جو کسی بینک یا حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتی۔ اس کی ویلیو لوگ خرید و فروخت سے بنتی ہے۔ اب کریپٹو ایکسچینج کیا ہے؟ یہ وہ آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں آپ اپنے کریپٹو کو محفوظ رکھتے ہیں، خریدتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ بائنانس یا کوائن بیس پر اکاؤنٹ کھولیں تو آپ کے بٹ کوائن وہیں رکھے جاتے ہیں۔  


اب امریکی خزانہ نے ایک تیس صفحوں کی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کا نام Genius Act کے تحت بنایا گیا ہے جو جولائی دو ہزار پچیس میں صدر ٹرمپ نے قانون بنا دیا تھا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی زبان بولنے والے منظم جرائم کے گروہوں نے سن دو ہزار پچیس میں سولہ ارب ڈالر سے زیادہ کریپٹو کے ذریعے منتقل کیے۔ شمالی کوریا کے سائبر مجرموں نے پچھلے دو سالوں میں دو ارب آٹھ سو ملین ڈالر چوری کیے۔ اور ایک بڑا ہیک جس میں ایک ارب پانچ سو ملین ڈالر کا نقصان ہوا اسے بھی مثال دیا گیا ہے۔  


یہ اعداد و شمار بہت بڑے لگتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کل سٹیبل کوائن کی سرگرمی چار ٹریلین ڈالر کی تھی۔ اس میں صرف ایک پوائنٹ دو فیصد حصہ غیر قانونی تھا۔ سٹیبل کوائن کیا ہے؟ یہ ایک قسم کی کریپٹو کرنسی ہے جس کی ویلیو ڈالر جیسے حقیقی پیسے سے منسلک ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک سٹیبل کوائن ایک ڈالر کے برابر ہوتا ہے اور لوگ اسے انفلیشن سے بچنے یا ملک سے ملک پیسہ بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔  


اب خزانہ کی درخواست کیا ہے؟ وہ کانگریس سے ایک ڈیجیٹل اثاثہ ہولڈ لا یعنی منجمد کرنے کا قانون چاہتے ہیں۔ اس قانون کے تحت کریپٹو ایکسچینجز کو قانونی تحفظ مل جائے گا کہ وہ آپ کے اثاثے بغیر وارنٹ کے عارضی طور پر منجمد کر سکیں۔ وارنٹ کیا ہے؟ یہ عدالت کا وہ حکم ہے جو پولیس کو کسی کی جائیداد چھوڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ اب تک بینک سیکریسی ایکٹ کے تحت اگر کوئی بینک مشکوک سرگرمی دیکھے تو صرف رپورٹ کرتا ہے۔ لیکن منجمد کرنے کے لیے عدالت کا حکم لازمی ہوتا ہے۔ اگر غلطی ہو تو آپ بینک پر مقدمہ کر سکتے ہیں۔  


نئی قانون میں یہ سب بدل جائے گا۔ ایکسچینجز کا اپنا اے آئی سافٹ ویئر اگر آپ کی ٹرانزیکشن کو ہائی رسک کہے تو وہ فوراً اکاؤنٹ بند کر سکے گا۔ کوئی جج نہیں، کوئی عدالت نہیں۔ اور مزید برآں، سٹیٹ قوانین کے تحت وہ آپ کو بتا بھی نہیں سکیں گے کہ کیوں بند کیا۔ یہ ٹپنگ آف ریسٹرکشن کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر فروری دو ہزار بائیس میں کینیڈا کے ٹرکرز احتجاج کے دوران حکومت نے بینک اکاؤنٹس اور کریپٹو والٹس منجمد کر دیے تھے۔ بعد میں عدالت نے کہا یہ غیر آئینی تھا۔ لیکن اب امریکہ یہ طاقت ہر روز استعمال کرنے کا قانون بنانا چاہتا ہے۔  


یہ صرف سنٹرلائزڈ ایکسچینجز کے لیے نہیں۔ خزانہ جانتا ہے کہ لوگ ڈی سینٹرلائزڈ فنانس یعنی ڈی فائی کی طرف جا رہے ہیں۔ ڈی فائی کیا ہے؟ یہ وہ نظام ہے جہاں کوئی مرکزی کمپنی نہیں ہوتی۔ لوگ خود سمارٹ کنٹریکٹس کے ذریعے پیسہ ادھار دیتے ہیں یا ٹریڈ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یونی سواپ ایک ڈیکس ہے جہاں آپ بغیر کسی کمپنی کے بٹ کوائن اور دیگر ٹوکنز کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔  


اس کو روکنے کے لیے خزانہ پیٹریاٹ ایکٹ کی سیکشن تین سو گیارہ کو بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ ایکٹ دو ہزار ایک میں بنا تھا۔ اب وہ چھٹی خاص پابندی یعنی سکس تھ سپیشل میژر چاہتے ہیں۔ اس سے وہ کسی بھی سمارٹ کنٹریکٹ ایڈریس، ڈی فائی پروٹوکول یا کراس چین برج کو منی لانڈرنگ کا خطرہ قرار دے سکیں گے۔ مثال کے طور پر اگست دو ہزار بائیس میں ٹورنیڈو کیش سمارٹ کنٹریکٹ پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن عدالت نے اسے ہٹا دیا کیونکہ سمارٹ کنٹریکٹ کوئی شخص نہیں ہوتا۔ اب وہ کانگریس سے یہ طاقت لے رہے ہیں۔  


وال اسٹریٹ بھی اسی طرف جا رہا ہے۔ وہ ٹوکنائزیشن کر رہے ہیں۔ ٹوکنائزیشن کیا ہے؟ حقیقی چیزوں جیسے امریکی خزانہ کے بانڈز کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں بدلنا۔ اب یہ مارکیٹ چھتیس بلین ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ لیکن یہ ٹوکنز ERC 3643 نامی سٹینڈرڈ پر بنتے ہیں۔ اس میں ہر والیٹ کو کے وائی سی یعنی اپنی شناخت ثابت کرنی پڑتی ہے۔ اگر آپ کی شناخت نہیں تو ٹوکن نہیں بھیج سکتے۔ اس میں فریز اور فورس ٹرانسفر کی صلاحیت بھی ہے۔ یعنی ایڈمن آپ کے ٹوکنز روک سکتا ہے یا واپس لے سکتا ہے۔  


بلیک راک نے بھی اپنا ایک پروڈکٹ ڈی فائی میں لانچ کیا لیکن وہ صرف وہ والیٹس قبول کرتا ہے جو پہلے سے اجازت یافتہ ہوں۔ اگر خزانہ کا نیا قانون پاس ہوا تو یہ فریز فنکشنز قانونی طور پر محفوظ ہو جائیں گے۔ ایتھیریم جیسے بلاک چین پر بھی یہ اثر پڑے گا۔ دو ہزار بائیس میں اسی فیصد بلاکس آف اے سی کمپلائنٹ تھے یعنی امریکی پابندیوں کی وجہ سے کچھ ٹرانزیکشنز بلاک ہو رہی تھیں۔  


نتیجہ یہ ہے کہ یہ رپورٹ صرف جرائم روکنے کی نہیں بلکہ پوری پرمیشن لیس فنانس یعنی بغیر اجازت کی مالی آزادی پر کنٹرول کی ہے۔ اس کی وجہ سے پرائیویسی کوائنز جیسے مونیرو کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا۔ مونیرو کیا ہے؟ یہ ایک کریپٹو ہے جو ٹرانزیکشنز کو چھپاتا ہے۔ اس کی قیمت پچھلے ایک سال میں انسٹھ فیصد بڑھ کر آٹھ سو ڈالر تک پہنچ گئی۔  


میرے خیال میں یہ قانون اگر پاس ہوا تو کریپٹو کی اصل روح ختم ہو جائے گی۔ یہ وال اسٹریٹ اور حکومت کا مل کر بنایا گیا نگرانی کا جال ہے۔ کیا آپ بھی یہی سوچتے ہیں کہ یہ ضروری ہے یا یہ ہماری مالی آزادی پر حملہ ہے؟ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔  


یہ تھا آج کا مکمل جائزہ۔ امید ہے ہر بات آسان مثالوں کے ساتھ آپ کی سمجھ میں آ گئی ہوگی۔ کریپٹو کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اس لیے ہمیشہ چوکنا رہیں۔  

آپ کا مصنف،  

جو کریپٹو کی حقیقت کو سادہ الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔