یہ کہانی امریکہ کی ایک بڑی معاشی تبدیلی کی ہے، جو 1930 کی دہائی میں ہوئی۔ اسے "گولڈ ریزرو ایکٹ آف 1934" کہتے ہیں، یعنی "سنہری ذخیرے کا قانون 1934"۔ یہ اس وقت کی ہے جب امریکہ بہت بڑی معاشی بحران میں تھا، جسے "گریٹ ڈپریشن" کہتے ہیں۔ سب سے پہلے، پس منظر سمجھو۔ 1930 کی دہائی کے شروع میں، امریکہ میں بہت برا وقت تھا۔ لوگوں کی نوکریاں ختم ہو گئی تھیں، 25 فیصد لوگ بے روزگار تھے۔ چیزیں سستی ہو رہی تھیں، یعنی "ڈیفلیشن"۔ یہ اچھا لگتا ہے نا کہ چیزیں سستی ہو جائیں؟ لیکن نہیں! مثال کے طور پر، ایک کسان نے 1928 میں گھر خریدنے کے لیے قرض لیا تھا۔ تب ایک بوٹی گندم کی قیمت سے وہ قرض کی قسط ادا کر سکتا تھا۔ لیکن 1933 تک، گندم کی قیمت اتنی گر گئی کہ اب اسے تین بوٹیاں بیچنی پڑتیں ایک ہی قسط کے لیے۔ قرض تو وہی رہا، لیکن آمدنی کم ہو گئی۔ یہ ایک "ڈیبٹ ڈیفلیشن اسپائرل" تھا، یعنی قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا، اور لوگ دیوالیہ ہو رہے تھے۔ پورا ملک پریشان تھا۔
(448) The Gold Reserve Act of 1934: When FDR Revalued Gold Overnight - YouTube
یہ کہانی امریکہ کی ایک بڑی معاشی تبدیلی کی ہے، جو 1930 کی دہائی میں ہوئی۔ اسے "گولڈ ریزرو ایکٹ آف 1934" کہتے ہیں، یعنی "سنہری ذخیرے کا قانون 1934"۔ یہ اس وقت کی ہے جب امریکہ بہت بڑی معاشی بحران میں تھا، جسے "گریٹ ڈپریشن" کہتے ہیں۔
سب سے پہلے، پس منظر سمجھو۔ 1930 کی دہائی کے شروع میں، امریکہ میں بہت برا وقت تھا۔ لوگوں کی نوکریاں ختم ہو گئی تھیں، 25 فیصد لوگ بے روزگار تھے۔ چیزیں سستی ہو رہی تھیں، یعنی "ڈیفلیشن"۔ یہ اچھا لگتا ہے نا کہ چیزیں سستی ہو جائیں؟ لیکن نہیں! مثال کے طور پر، ایک کسان نے 1928 میں گھر خریدنے کے لیے قرض لیا تھا۔ تب ایک بوٹی گندم کی قیمت سے وہ قرض کی قسط ادا کر سکتا تھا۔ لیکن 1933 تک، گندم کی قیمت اتنی گر گئی کہ اب اسے تین بوٹیاں بیچنی پڑتیں ایک ہی قسط کے لیے۔ قرض تو وہی رہا، لیکن آمدنی کم ہو گئی۔ یہ ایک "ڈیبٹ ڈیفلیشن اسپائرل" تھا، یعنی قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا، اور لوگ دیوالیہ ہو رہے تھے۔ پورا ملک پریشان تھا۔
اب، اس بحران کی ایک بڑی وجہ "گولڈ سٹینڈرڈ" تھا۔ یہ کیا ہے؟ آسان الفاظ میں، ڈالر کی قدر سونے سے بندھی ہوئی تھی۔ ایک اونس سونے کی قیمت $20.67 تھی، اور یہ قیمت سو سال سے نہیں بدلی تھی۔ یعنی، ہر ڈالر کو سونے سے بیک کیا جاتا تھا۔ اگر حکومت زیادہ پیسے چھاپتی، تو لوگ بینکوں میں جا کر کہتے، "مجھے کاغذی نوٹ کی جگہ سونا دو!" اور سارا سونا ختم ہو جاتا۔ اس لیے فیڈرل ریزرو (امریکہ کا مرکزی بینک) پیسے کم رکھتا تھا، سود کی شرحیں زیادہ، جو بحران کو اور برا کر رہی تھیں۔ وال اسٹریٹ کے بڑے لوگ کہتے تھے کہ یہ "ساؤنڈ منی" ہے، یعنی اچھا ہے۔ لیکن نئے صدر، فرانکلن ڈیلانو روزویلٹ (FDR) کہتے تھے کہ یہ خودکشی ہے۔
FDR نے مارچ 1933 میں صدر بنتے ہی بینک بند کر دیے، تاکہ لوگ پیسے نہ نکالیں۔ پھر، انہوں نے سونے پر حملہ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ ڈالر کی قدر کم ہو، تاکہ چیزیں مہنگی ہوں (انفلیشن)، کسانوں کی آمدنی بڑھے، اور معیشت چلے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں کے پاس سونے کے سکے اور سرٹیفکیٹ تھے۔ اگر ڈالر کی قدر کم ہوتی، تو لوگ سونا چھپا لیتے اور کاغذی پیسے استعمال نہیں کرتے۔ تو، FDR نے سونا لے لیا!
اپریل 5، 1933 کو، انہوں نے "ایگزیکٹو آرڈر 6102" جاری کیا۔ یہ کیا تھا؟ آسان کہانی: ہر شہری کو حکم دیا گیا کہ اپنا سونے کا سکہ، بلین، یا سرٹیفکیٹ فیڈرل ریزرو بینک میں جمع کرا دے۔ بدلے میں، پرانے ریٹ پر کاغذی نوٹ ملیں گے ($20.67 فی اونس)۔ اگر نہیں کیا، تو $10,000 جرمانہ یا 10 سال جیل! یہ "گریٹ کنفیسکیشن" تھا، یعنی سونے کی چوری۔ لوگ خوفزدہ تھے، بینک فیل ہو چکے تھے، تو وہ مان گئے۔ لائنیں لگیں، لوگوں نے سونے دیے اور کاغذی پیسے لے لیے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ سونا کی قیمت بڑھنے والی ہے، اور ڈالر کی قدر گرنے والی ہے۔ یہ ایک بڑا دھوکہ تھا!
گرمیوں تک، حکومت کے پاس سارا سونے تھا۔ لیکن بحران ختم نہیں ہوا۔ تو، اکتوبر 1933 میں، FDR نے "گولڈ بائینگ پروگرام" شروع کیا۔ وہ نئی کانوں سے سونا پرانی قیمت سے زیادہ پر خریدنے لگے۔ اور یہاں دلچسپ بات: ہر صبح، FDR اپنے بیڈروم میں ناشتہ کرتے (ابلا انڈا کھاتے) اور ہینری مورگن تھاؤ جونیئر (ٹریژری سیکریٹری) کے ساتھ سونے کی نئی قیمت طے کرتے۔ ایک دن، انہوں نے 21 سینٹ بڑھا دیے۔ پوچھا کیوں 21؟ بولے، "لکی نمبر ہے، 3 گنا 7!" یہ مذاق نہیں، سچ ہے۔ یہ کر کے وہ مارکیٹ کو بتاتے تھے کہ ڈالر کمزور ہو رہا ہے۔ روایتی بینکر غصے میں تھے، کچھ استعفیٰ دے گئے۔ لیکن یہ کام کر رہا تھا: اشیاء کی قیمتیں بڑھنے لگیں، ڈالر کی قدر گرنے لگی۔
لیکن یہ عارضی تھا۔ FDR کو مستقل قانون چاہیے تھا۔ تو، جنوری 1934 میں، "گولڈ ریزرو ایکٹ" منظور ہوا۔ یہ کیا کرتا تھا؟ فیڈرل ریزرو کا سارا سونے ٹریژری (حکومتی خزانے) کو دے دیا گیا۔ بدلے میں، فیڈ کو کاغذی سرٹیفکیٹ ملے، جو سونے کے لیے تبدیل نہیں ہو سکتے تھے۔ یہ فیڈ کی آزادی چھین لی گئی۔ پھر، اگلے دن، 31 جنوری کو، FDR نے سونے کی قیمت $35 فی اونس کر دی! یعنی، ڈالر کی قدر 40% گر گئی۔ مثال: اگر آپ کے پاس 100 اونس سونے ہے، پرانی قیمت پر $2067 کی مالیت۔ نئی قیمت پر $3500! حکومت نے $2.8 بلین کا فائدہ کیا، بغیر کچھ کیے۔ یہ جادو تھا!
اس فائدے سے، انہوں نے "ایکسچینج سٹیبی لائزیشن فنڈ" (ESF) بنایا، $2 بلین ڈالے۔ یہ ایک خفیہ فنڈ تھا، جو ٹریژری کنٹرول کرتی تھی، کانگریس کی منظوری کے بغیر۔ اس کا کام: کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر کے ڈالر کی قدر برقرار رکھنا۔ اب، منی مارکیٹ ختم، حکومت کنٹرول میں۔
نتیجہ؟ امریکہ نے دنیا کا سونا خریدنا شروع کیا، کیونکہ $35 کی قیمت زیادہ تھی۔ سونے کی لہر آئی، امریکہ نے ڈالر چھاپے، معیشت چلی۔ لیکن سونے زیادہ ہو گیا، تو انہوں نے "فورٹ ناکس" بنایا، کینٹکی میں ایک محفوظ قلعہ۔ یہ ایک بڑا خزانہ تھا، جہاں سارا سونا رکھا گیا۔ یہ ایک فلم کی طرح تھا: ٹرینیں خفیہ طور پر سونا لے کر آئیں۔ امریکہ کے پاس دنیا کا آدھا سونے تھا!
اب، قانونی لڑائی۔ لوگوں کے کانٹریکٹ میں "گولڈ کلاز" تھے، یعنی قرض سونے میں ادا کرو۔ FDR نے یہ ختم کر دیے۔ سپریم کورٹ میں کیس گئے۔ FDR تیار تھے کہ اگر ہارے، تو کورٹ کو نظر انداز کر دیں گے! لیکن کورٹ نے 5-4 سے FDR کے حق میں فیصلہ کیا، کہتے ہوئے کہ بحران میں حکومت ایسا کر سکتی ہے۔ ایک جج غصے میں بولا، "آئین ختم ہو گیا!"
معاشی اثرات: امریکہ کی برآمدات بڑھیں، کیونکہ ڈالر سستا۔ لیکن یورپ کے لیے برا، ان کی معیشتیں گر گئیں۔ دنیا کا گولڈ سٹینڈرڈ ختم ہو گیا۔ فیڈ کمزور ہو گئی، حکومت مضبوط۔ سونے کی کانوں والے خوش، کیونکہ حکومت $35 پر خریدتی تھی۔ ڈپریشن کم ہوئی، لیکن مکمل ختم نہیں۔ WWII میں، امریکہ نے مزید سونے لیا، اور بریٹن ووڈز میں ڈالر کو دنیا کی کرنسی بنا دیا، $35 فی اونس پر۔
اب، بعد کی کہانی۔ 1960 میں، ڈالر زیادہ چھپنے لگے، سونے کم۔ مارکیٹ میں قیمت بڑھنے لگی۔ امریکہ نے "لنڈن گولڈ پول" بنایا، خفیہ طور پر سونا بیچ کر قیمت کنٹرول کی۔ لیکن فرانس کے ڈی گال نے ڈالر واپس کر کے سونا لے لیا۔ 1968 میں پول ختم۔ 1971 میں، نکسن نے اعلان کیا کہ ڈالر اب سونے سے الگ۔ سونے کی قیمت آسمان چھو گئی ($850 تک)۔ 1974 میں، امریکہ میں سونے کی ملکیت قانونی ہو گئی۔
آج کا سبق: ESF اب بھی ہے، بحرانوں میں استعمال ہوتا ہے (جیسے 2008، 2020)۔ امریکہ کے پاس اب بھی سونے ہے، $42.22 فی اونس پر بک کیا جاتا ہے، لیکن مارکیٹ میں $2000 سے زیادہ۔ اگر بحران آئے، تو FDR کی طرح ری ویلیو کر سکتے ہیں۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ پیسہ حکومت کی چیز ہے، سونے سے الگ۔ مثال: جیسے ایک بچہ کھیل میں سکے استعمال کرتا ہے، لیکن باپ کہے کہ اب یہ سکے نہیں چلیں گے، نئی چیز چلے گی۔ FDR نے امریکہ کو بچایا، لیکن آزادی کم کی۔ آج، انفلیشن اسی کی وجہ سے ہے۔
Comments
Post a Comment