ایک شخص، جو شاید ایک انٹرویو کرنے والا ہے، بوسٹن شہر میں گھومتا ہے اور امیر لوگوں سے پوچھتا ہے کہ وہ کیسے اتنا پیسہ کمایا۔ بوسٹن ایک بہت امیر شہر ہے، جہاں ہزاروں لاکھ پتی اور کئی ارب پتی رہتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ امیر ہونے کا راز کیا ہے – محنت، ہمت، اور اچھے خیالات۔ میں تمہیں مکمل تفصیل سے بتاؤں گا، اور جہاں ضروری ہو گا، مثالیں دے کر سمجھاؤں گا، تاکہ تم بھی آسانی سے سمجھ جاؤ،
(20) Asking Billionaires How They Got RICH! (Boston) - YouTube
ایک شخص، جو شاید ایک انٹرویو کرنے والا ہے، بوسٹن شہر میں گھومتا ہے اور امیر لوگوں سے پوچھتا ہے کہ وہ کیسے اتنا پیسہ کمایا۔ بوسٹن ایک بہت امیر شہر ہے، جہاں ہزاروں لاکھ پتی اور کئی ارب پتی رہتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ امیر ہونے کا راز کیا ہے – محنت، ہمت، اور اچھے خیالات۔ میں تمہیں مکمل تفصیل سے بتاؤں گا، اور جہاں ضروری ہو گا، مثالیں دے کر سمجھاؤں گا، تاکہ تم بھی آسانی سے سمجھ جاؤ،
انٹرویو کرنے والا شخص کہتا ہے کہ وہ بوسٹن میں پہلی بار آیا ہے، جو دنیا کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ وہاں 40 ہزار سے زیادہ لاکھ پتی اور 10 سے زیادہ ارب پتی رہتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ آج میں امیر علاقوں میں جاؤں گا اور ان ارب پتیوں سے پوچھوں گا کہ تم کیسے امیر ہوئے، تمہارا راز کیا ہے، تاکہ تم لوگ بھی ان کی طرح بن سکو۔ یہ ویڈیو شروع سے آخر تک مزے کی ہے، تو آخر تک دیکھو، وہ کہتا ہے۔ اب، تصور کرو جیسے تم ایک پارک میں گھوم رہے ہو اور اچانک کوئی امیر شخص مل جائے – ایسے ہی وہ لوگوں سے بات کرتا ہے۔
اب پہلا انٹرویو: ایک شخص سے پوچھتا ہے، "تم کتنے سال کے تھے جب لاکھ پتی بنے؟" وہ کہتا ہے، "میں 20 سال کی عمر میں۔" پھر پوچھتا ہے، "کیسے امیر ہوئے؟" وہ کہتا ہے، "میں ایک موجد ہوں۔" یعنی وہ نئی چیزیں بناتا ہے۔ اس نے "Whoop" نام کی ایک چیز بنائی، جو ایک گھڑی کی طرح ہے جو لوگوں کی صحت چیک کرتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے 2012 میں کمپنی شروع کی، اب میں 35 سال کا ہوں، اور کمپنی کی قیمت 3.6 ارب ڈالر ہے۔ یعنی وہ ارب پتی ہے! اب سمجھاؤں، بچو، یہ جیسے تم ایک کھلونا بناؤ جو سب کو پسند آ جائے، اور پھر وہ کھلونا بیچ کر تم امیر ہو جاؤ۔ مثال: تصور کرو تم ایک ایسا پانی کا گلاس بناؤ جو خود بتائے کہ کتنا پانی پینا چاہیے – ایسے ہی اس نے صحت کی گھڑی بنائی۔
وہ بتاتا ہے کہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی گیا، لیکن اس نے سوچا کہ میں کسی کے لیے کام نہیں کروں گا، خود کمپنی بناؤں گا۔ وہ کہتا ہے کہ کاروبار کرنا آسان نہیں، اس میں ہمت چاہیے۔ جیسے جب تم سکول میں کوئی سخت ٹیسٹ دیتے ہو اور ڈرتے ہو، لیکن ہمت کر کے کرتے ہو – ایسے ہی کاروبار میں مسائل آتے ہیں، اور ہمت سے حل کرتے ہیں۔ اس کی کمپنی ایک بار پیسے ختم ہونے والی تھی، پروڈکٹ فیل ہو رہی تھی، لیکن وہ نہیں ہارا۔ کیوں؟ کیونکہ ایک دن ٹی وی پر دیکھا کہ مشہور کھلاڑی LeBron James اس کی گھڑی پہنے ہوئے ہے! یہ دیکھ کر اسے ہمت ملی۔ مثال: جیسے تم ایک ڈرائنگ بناؤ، اور اچانک تمہارا دوست کہے کہ یہ بہت اچھی ہے، تو تم اور بنانا چاہو گے – ایسے ہی چھوٹی کامیابی بڑی ہمت دیتی ہے۔
وہ کہتا ہے کہ ہر کوئی کاروبار کے لیے نہیں بنا، کیونکہ یہ درد اور تکلیف کا کام ہے، لیکن اگر تمہیں کوئی چیز پسند ہے تو اسے کرو۔ مقابلہ سے مت ڈرو، بلکہ اچھا پروڈکٹ بناؤ۔ مثال: Amazon نے اس کی نقل کی، لیکن ناکام ہوئی کیونکہ اس میں جادو نہیں تھا – جیسے تم ایک مزے کا کیک بناؤ، اور کوئی نقل کرے لیکن ذائقہ نہ بنائے، تو لوگ تمہارا ہی کھائیں گے۔ آخر میں، وہ کہتا ہے کہ اربوں کی کمپنی بنانے کا راز: جو پسند ہو اسے کرتے رہو، محنت کرو، اچھی ٹیم بناؤ، اور ہار مت مانو۔
اب دوسرا انٹرویو: یہ MIT سکول میں ہے، جو دنیا کا بہت مشہور سکول ہے۔ وہاں Jaylen Brown سے بات کرتا ہے، جو NBA کا کھلاڑی ہے Boston Celtics ٹیم کا۔ وہ کہتا ہے کہ میں 18 سال کا تھا جب لاکھ پتی بنا، کالج چھوڑ کر NBA میں آیا۔ اب وہ 28 سال کا ہے، اور پچھلے سال 50 ملین ڈالر کمائے! یعنی تقریباً 14 ارب روپے! وہ کہتا ہے کہ کامیابی کا راز: ناکامی اور مشکلات۔ لوگ ناکامی سے ڈرتے ہیں، لیکن یہ اچھی چیز ہے کیونکہ یہ محنت اور تخلیق سکھاتی ہے۔ مثال: جیسے تم بائیسکل چلانا سیکھتے ہو، گرتے ہو، لیکن اٹھ کر دوبارہ کوشش کرتے ہو، اور آخر میں چلانا آ جاتا ہے – ایسے ہی ناکامی سے سیکھو۔
وہ کہتا ہے کہ پیسہ بینک میں نہیں رکھتا، کیونکہ پیسہ صرف کاغذ ہے۔ امیر لوگ سماجی رابطے بناتے ہیں۔ وہ اچھا negotiator ہے، یعنی سودا کرنے والا، اور برا سودا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ غریب گھر سے آیا، ماں اکیلی تھی، لیکن اب فیملی کی مدد کرتا ہے۔ ہٹیرز سے مت گھبراؤ، کیونکہ وہ تمہاری کامیابی کی نشانی ہیں۔ مثال: جیسے تم اچھا کھیل کھیلو، اور کچھ لوگ حسد کریں، لیکن تم کھیلتے رہو – ایسے ہی۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے ڈپریشن اور پریشانی کا سامنا کیا، لیکن خدا پر یقین سے نکلا۔ راز: ایمان، محنت، اور تسلسل۔
اب تیسرا انٹرویو: ایک شخص جو hedge fund میں کام کرتا تھا، یعنی پیسہ لگا کر کماتا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ میں 30 سال کا تھا جب لاکھ پتی بنا۔ وہ 21 سال ایک hedge fund کا پارٹنر رہا، جو 40 ارب ڈالر کا پیسہ سنبھالتی تھی۔ وہ غریب گھر سے آیا، ٹریلر میں رہا، لیکن لوگوں نے مدد کی اور محنت کی۔ راز: جو آسان ہے اس پر مت رک، نئی چیزیں سیکھو۔ مثال: جیسے تم صرف دائیں ہاتھ سے کھیلتے ہو، لیکن بائیں سے بھی سیکھو تاکہ بہتر ہو جاؤ۔
وہ کہتا ہے کہ امیر لوگ پیسہ انڈیکس فنڈ میں لگاتے ہیں، جیسے S&P 500۔ یعنی سادہ طریقے سے پیسہ بڑھاؤ۔ پیسہ خوشی نہیں خریدتا، بلکہ تمہیں وہی بناتا ہے جو تم ہو۔ وہ خدا پر یقین کرتا ہے، اور شادی کو بہترین فیصلہ کہتا ہے۔ 27 سال سے شادی شدہ ہے، اور کہتا ہے کہ اچھا پارٹنر چنو، جو اندر سے اچھا ہو۔ مثال: جیسے تم دوست چنو جو دل سے اچھا ہو، نہ کہ صرف خوبصورت – ایسے ہی شریک حیات چنو۔ راز: دوسروں کی مدد کرو، خود غرضی مت کرو۔
آخری انٹرویو: Samuel Adams بیئر کا بانی، Jim Koch۔ وہ ارب پتی ہے، کمپنی کی قیمت اربوں میں ہے۔ اس نے 40 سال پہلے کچن میں بیئر بنائی۔ ایک سال میں 2 ارب ڈالر کمائے۔ راز: اچھا پروڈکٹ بناؤ، مارکیٹنگ پر مت جاؤ۔ مثال: جیسے تم مزے کا جوس بناؤ، لوگ خود خریدیں گے، اشتہار کی ضرورت نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ سیل کرنا اہم ہے، لوگوں سے بات کرو۔ اس کے انکل نے کہا کہ سیل کرو، کمپیوٹر مت خریدو۔ وہ کم پیسے سے شروع کیا، بریوری نہیں بنائی بلکہ کرائے پر لی۔ 1995 میں کمپنی پبلک کی، لیکن کنٹرول اپنے پاس رکھا۔ راز: امیر ہونے سے خوش رہنا بہتر ہے۔ مثال: جیسے تم کھیلنے سے خوش ہو، پیسہ کمانے سے نہیں – ایسے ہی زندگی جیو۔
یہ کہانی سکھاتی ہے کہ امیر ہونے کا راز محنت، ہمت، اچھا پروڈکٹ، اور دوسروں کی مدد ہے۔ ناکامی سے مت ڈرو، یہ سیکھنے کا موقع ہے۔ اگر تم نے سمجھ لیا تو بتاؤ، کیا تم بھی کوئی کاروبار شروع کرو گے؟
Comments
Post a Comment