2. **چھوٹے قرضے کا چکر (Short-term Debt Cycle):** یہ ایک چھوٹا سمندری طوفان ہے۔ جب موسم اچھا ہوتا ہے، لوگ خوش ہوتے ہیں، زیادہ خرچ کرتے ہیں اور قرضے لیتے ہیں۔ پھر بینک سود بڑھا دیتے ہیں، قرضہ لینا مشکل ہو جاتا ہے، خرچ کم ہوتا ہے اور معیشت سست پڑ جاتی ہے (یعنی recession)۔ پھر بینک سود گھٹاتے ہیں اور چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ 7-10 سال بعد آتا رہتا ہے۔
Ray Dalio Warns: Only These 4 Investments Will Survive (18 Months Left) - YouTube
بالکل، میں آپ کو استاد کی طرح سمجھاتا ہوں۔ یہ کہانی دراصل ایک بہت بڑے اقتصادی دھچرے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو۔ تصور کریں کہ ہم سب ایک بڑی کشتی میں سفر کر رہے ہیں۔ کشتی کا نام "معیشت" ہے۔
**کشتی کیسے چلتی ہے؟**
کشتی کو آگے بڑھانے کے لیے تین چیزیں اہم ہیں:
1. **محنت اور ایجادات (Productivity):** اگر ہم پہلے سے بہتر اور زیادہ چیزیں بنائیں، کشتی تیز چلتی ہے۔
2. **چھوٹے قرضے کا چکر (Short-term Debt Cycle):** یہ ایک چھوٹا سمندری طوفان ہے۔ جب موسم اچھا ہوتا ہے، لوگ خوش ہوتے ہیں، زیادہ خرچ کرتے ہیں اور قرضے لیتے ہیں۔ پھر بینک سود بڑھا دیتے ہیں، قرضہ لینا مشکل ہو جاتا ہے، خرچ کم ہوتا ہے اور معیشت سست پڑ جاتی ہے (یعنی recession)۔ پھر بینک سود گھٹاتے ہیں اور چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ 7-10 سال بعد آتا رہتا ہے۔
3. **لمبے وقت کے قرضے کا چکر (Long-term Debt Cycle):** یہ ایک بہت بڑا طوفان ہے جو 75-100 سال بعد آتا ہے۔ آہستہ آہستہ پورا ملک، کمپنیاں اور لوگ بہت زیادہ قرضے میں ڈوب جاتے ہیں۔ آخرکار اتنا قرضہ ہو جاتا ہے کہ اس کا سود ادا کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
**ابھی ہم کہاں ہیں؟**
کہانی بتاتی ہے کہ ابھی 2026 میں، ہم اسی **بڑے طوفان کے بالکل قریب** ہیں۔ امریکہ کا کل قرضہ 90 کھرب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے۔ حکومت صرف قرضے کے سود کی ادائیگی پر ہر سال ایک کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہی ہے۔ یعنی ہماری کشتی پانی سے بھری جا رہی ہے۔
**طوفان آنے پر تین راستے ہیں:**
1. **ڈیفالٹ (Default):** یعنی قرضہ ادا نہ کرنا۔ جیسے کوئی آدمی بینک کا قرضہ ادا نہ کرے اور دیوالیہ ہو جائے۔ اس سے بے تحاشہ دولت تباہ ہوتی ہے۔
2. **ریسٹرکچرنگ (Restructuring):** یعنی قرضہ معاف کروانا یا کم کروانا۔ اگر آپ نے کسی کو 100 روپے دیے تھے، وہ کہے کہ میں صرف 50 روپے واپس دوں گا۔ آپ کا 50 روپے ضائع۔
3. **مہنگائی (Inflation):** زیادہ نوٹ چھاپنا۔ جیسے پہلے 100 روپے میں ایک بستہ آتا تھا، اب اسی بستے کے 200 روپے لگتے ہیں۔ آپ کی جمع پونجی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔ یہ **سب سے عام راستہ ہے** جو مرکزی بینک اختیار کرتے ہیں۔
**تاریخ ہمیں کیا سکھاتی ہے؟**
جب بھی یہ بڑا طوفان (لمبا قرضے کا چکر) ختم ہوا ہے، **کاغذی دولت** جیسے عام شیئرز اور بانڈز کی قیمتیں بہت گر گئی ہیں۔ لیکن تاریخ میں ہر بار صرف **چار قسم کی چیزیں** محفوظ رہی ہیں، بلکہ ان کی قیمت بڑھ گئی۔
---
### وہ چار محفوظ جائیدیں (Investments) کون سی ہیں؟
**(1) اصلی سونا چاندی (Physical Gold & Silver)**
* **کیوں؟** کیونکہ یہ حکومت یا بینک "پرنٹ" نہیں کر سکتے۔ جب کاغذی کرنسی (جیسے ڈالر، روپیہ) کی قدر گرتی ہے، تو سونے چاندی کی قدر برقرار رہتی ہے یا بڑھ جاتی ہے۔
* **مثال:** 1970 میں جب بہت مہنگائی ہوئی، سونا 35 ڈالر سے بڑھ کر 850 ڈالر ہو گیا۔ جس نے 10,000 ڈالر کا سونا خریدا تھا، اس کے 10,000 ڈالر، 1980 میں 2,40,000 ڈالر کے ہو گئے۔
* **یاد رکھیں:** یہ کوئی "امیر بنانے والی" سرمایہ کاری نہیں ہے۔ یہ ایک **انشورنس پالیسی** ہے۔ اچھے وقتوں میں یہ پیسہ "سوتا" رہے گا، لیکن برے وقتوں میں آپ کی باقی جائیداد کو تباہ ہونے سے بچائے گا۔
**(2) قیمت طاقت والی کمپنیاں (Businesses with Pricing Power)**
* **کیوں؟** کیونکہ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو مہنگائی کے وقت اپنی چیزوں کی قیمتیں بڑھا سکتی ہیں، اور لوگ پھر بھی انہیں خریدتے رہیں گے۔
* **مثال:** سوچیں **پروکٹر اینڈ گیمبل** کی۔ ان کے پاس ٹائڈ (صابن)، پیمپرز (ڈائپر)، گلٹ (ریزر) ہیں۔ اگر مہنگائی ہو جائے اور ان کی لاگت بڑھ جائے، تو وہ اپنے صابن کی قیمت بھی بڑھا دیں گے۔ ہو سکتا ہے آپ مہنگا صابن چھوڑ کر سستا صابن لینا شروع کر دیں، **لیکن صابن خریدنا نہیں چھوڑیں گے**۔ یہی ہے قیمت طاقت۔
* **ایسی ہی کمپنیاں:** **کوکا کولا** (لوگ مشروبات پیتے رہیں گے)، **جانسن اینڈ جانسن** (بیمار ادویات اور بینڈ ایڈ خریدتے رہیں گے)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں (**Utilities**)۔
**(3) حکومت کے مختصر مدتی بانڈز (Short-term Government Securities)**
* **کیوں؟** یہ آپ کی **"خشک بارود"** ہے۔ جب طوفان آتا ہے، ہر چیز سستی ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کے پاس نقد رقم یا اس جیسی محفوظ چیز ہو، تو آپ سستے داموں اچھی چیزیں خرید سکتے ہیں۔
* **مثال:** 2008 کے بحران میں، اچھی کمپنیوں کے بانڈز 60 ڈالر میں مل رہے تھے۔ جس کے پاس نقد تھا، اس نے وہ بانڈز خرید لیے۔ ایک سال بعد وہی بانڈز 100 ڈالر کے ہو گئے۔ اس نے 40 ڈالر کا منافع کمایا۔
* **اصل فائدہ:** یہ رقم آپ کو **موقع** دیتی ہے کہ جب سب گھبرا کر اپنا مال سستے داموں بیچ رہے ہوں، آپ اسے خرید سکیں۔
**(4) پیداواری حقیقی جائیدیں (Productive Real Assets)**
* **کیوں؟** کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی انسان کو ہر حال میں ضرورت ہے، چاہے کرنسی کی کتنی ہی قدر گر جائے۔
* **مثال:**
* **کاشتکاری کی زمین (Farmland):** وہ اناج پیدا کرتی ہے۔ لوگوں کو کھانا تو کھانا ہے نا؟
* **کرایہ کے مکانات (Rental Properties):** لوگوں کو رہنے کے لیے جگہ تو چاہیے ہوتی ہے۔ مہنگائی بڑھے گی تو کرایہ بھی بڑھے گا۔
* **فائدہ:** یہ جائیدیں نہ صرف قیمت برقرار رکھتی ہیں بلکہ آپ کو **آمدنی** بھی دیتی رہتی ہیں (جیسے اناج یا کرایہ)۔
---
### ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ایک آسان پلان
1. **سب سے پہلے اپنے پیسے کا جائزہ لیں۔** اپنے تمام سرمائے کو دیکھیں۔ ہر چیز سے پوچھیں: "اگر بہت زیادہ مہنگائی آتی ہے اور قرضے کا بحران آتا ہے، تو کیا میرا یہ پیسہ محفوظ رہے گا؟" اگر جواب 'نہیں' ہے، تو اسے بیچنے کا سوچیں۔
2. **آہستہ آہستہ ان چار ٹوکریوں میں پیسہ لگائیں۔** ایک دم سے سب کچھ نہ بیچیں۔ 6 مہینے کا پلان بنائیں۔
* **پہلا مہینہ:** تھوڑا سا اصلی سونا خریدیں۔
* **دوسرا مہینہ:** دو ایسی کمپنیوں کے شیئر خریدیں جو قیمت طاقت رکھتی ہوں (جیسے کوکا کولا)۔ تھوڑا پیسہ حکومت کے مختصر مدتی بانڈز میں لگائیں۔
* **تیسرا مہینہ:** مزید ایسی کمپنیوں کے شیئر خریدیں۔
* **چوتھا مہینہ:** اپنا سونے چاندی کا حصہ بڑھائیں۔
* **پانچواں مہینہ:** پیداواری جائیدادوں میں پیسہ لگائیں، جیسے فارم لینڈ یا کرایہ کے مکانوں سے منافع دینے والی کمپنیاں (REITs)۔
3. **شور کو نظر انداز کریں۔** جب آپ یہ تبدیلی کر رہے ہوں گے، بازار شاید اور بڑھ جائے۔ لوگ کہیں گے "دیکھو، مارکیٹ تو چڑھ رہی ہے، تم کیوں ڈر رہے ہو؟" لیکن آپ کو طویل مدتی طوفان کے لیے تیار ہونا ہے، اگلے مہینے کے اتار چڑھاؤ کے لیے نہیں۔
4. **ایک نظام (System) بنائیں اور اس پر قائم رہیں۔** جذبات (خوف، لالچ، امید) آپ کو نقصان پہنچائیں گے۔ خوف آپ کو بحران کے وقت سستے داموں بیچنے پر مجبور کرے گا۔ لالچ آپ کو اوپر کی چوٹی پر خریدنے پر اکسائے گا۔ ایک لکھا ہوا پلان آپ کو اپنے ہی جذبات سے بچائے گا۔
**آخری بات:**
یہ کہانی ہمیں خبردار کر رہی ہے کہ **تاریخ خود کو دہرا رہی ہے**۔ جو لوگ پہلے ہی سے تیار ہو جائیں گے، وہ نہ صرف بچ جائیں گے بلکہ اس بحران کے بعد مزید مضبوط ہوں گے۔ جو لوگ روٹی کو روٹی، کہانی کو کہانی سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے، ان کی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ ضائع ہو سکتا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
Comments
Post a Comment