یہ کہانی ایک عورت کی ہے جس کا نام کرسٹینا چیپمین ہے، اور یہ شمالی کوریا کی ایک چالاکی کی کہانی ہے کہ وہ امریکہ کی کمپنیوں میں کیسے چھپ کر کام کرتے تھے۔ سب سے پہلے، کرسٹینا کے بارے میں جانو۔ وہ جنوبی کوریا میں پیدا ہوئی تھی، لیکن امریکہ میں رہتی تھی۔ بچپن میں وہ کتابیں پڑھتی اور پینٹنگ کرتی تھی، باہر کھیلنے کی بجائے۔ یہ ایسے ہے جیسے تم سکول میں کچھ بچے ہوتے ہیں جو لائبریری میں بیٹھے رہتے ہیں، کرکٹ کھیلنے کی بجائے۔ اس کی ماں کینسر کی مریض تھی، اور کرسٹینا کو پیسوں کی ضرورت تھی تاکہ ماں کا خیال رکھ سکے۔

 (20) How North Korea Hid an IT Workforce Inside US Companies | Bloomberg Investigates - YouTube



یہ کہانی ایک عورت کی ہے جس کا نام کرسٹینا چیپمین ہے، اور یہ شمالی کوریا کی ایک چالاکی کی کہانی ہے کہ وہ امریکہ کی کمپنیوں میں کیسے چھپ کر کام کرتے تھے۔ 


سب سے پہلے، کرسٹینا کے بارے میں جانو۔ وہ جنوبی کوریا میں پیدا ہوئی تھی، لیکن امریکہ میں رہتی تھی۔ بچپن میں وہ کتابیں پڑھتی اور پینٹنگ کرتی تھی، باہر کھیلنے کی بجائے۔ یہ ایسے ہے جیسے تم سکول میں کچھ بچے ہوتے ہیں جو لائبریری میں بیٹھے رہتے ہیں، کرکٹ کھیلنے کی بجائے۔ اس کی ماں کینسر کی مریض تھی، اور کرسٹینا کو پیسوں کی ضرورت تھی تاکہ ماں کا خیال رکھ سکے۔ 2020 میں، جب کورونا کی وبا آئی، کرسٹینا نے فیس بک پر دیکھ کر ایک آن لائن کورس کیا سافٹ ویئر انجینئرنگ کا۔ وہ جلدی نوکری چاہتی تھی، اور گھر سے کام کرنے والی۔


ایک دن، LinkedIn (جو نوکریوں کی ایک ویب سائٹ ہے) پر اسے ایک آفر ملی۔ ایک کمپنی نے کہا کہ تم ہماری "امریکی چہرہ" بنو – مطلب، تم امریکہ میں رہو، اور ہمارے کلائنٹس سے بات کرو۔ وہ ویب سائٹس بنانے اور ڈیٹا بیس کا کام کرتے تھے۔ کرسٹینا نے سوچا، یہ تو اچھا ہے! یہ ایسے ہے جیسے تم اپنے سکول پروجیکٹ میں کسی دوست کو اپنا نام دے دو، اور وہ پیچھے سے کام کرے، لیکن یہ بڑوں کی دنیا میں تھا۔ شروع میں سب ٹھیک تھا، وہ مہینے میں 900 ڈالر کماتی تھی۔ پھر، 2020 کے آخر میں، اس کے گھر لیپ ٹاپس آنے لگے۔ پہلے 3-4، پھر 40 تک!


کیا کرتی تھی وہ؟ وہ لیپ ٹاپس کو سیٹ اپ کرتی، ایک سافٹ ویئر انسٹال کرتی جس کا نام AnyDesk ہے (جو دور سے کمپیوٹر کنٹرول کرنے کا ہے)، اور پھر وہ لوگ جو اس کے ساتھ کام کرتے تھے، وہ دور سے لاگ ان ہوتے۔ یہ لوگ پاکستان، چین، یو اے ای، مشرقی یورپ جیسے ملکوں میں تھے۔ کرسٹینا کو لگتا تھا کہ یہ نارمل ہے، کیونکہ سافٹ ویئر کا کام دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، تصور کرو تم ایک ویڈیو گیم کھیل رہے ہو، اور تمہارا دوست دور سے تمہارے کمپیوٹر پر کنٹرول لے لے اور کھیلے – ایسا ہی تھا، لیکن پیسوں کے لیے۔ وہ مہینے میں 4 ہزار سے 12 ہزار ڈالر تک کماتی تھی، اور خوش تھی کہ ماں کے ساتھ رہ سکتی ہے۔


اب اصل کہانی کا ٹویسٹ! یہ لوگ جو کرسٹینا کے ساتھ کام کرتے تھے، وہ شمالی کوریا کے تھے! شمالی کوریا ایک ایسا ملک ہے جو دنیا سے الگ تھلگ ہے، جیسے ایک جزیرہ جو سب سے دور ہے۔ وہاں کے رہنما کم جونگ ان نے سوچا کہ پیسے کمانے کا اچھا طریقہ ٹیکنالوجی ہے۔ شمالی کوریا پر پابندیاں ہیں (یعنی، دوسرے ملک ان سے تجارت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ خطرناک ہتھیار بناتے ہیں)۔ تو انہوں نے اپنے لوگوں کو آئی ٹی (کمپیوٹر) کی تربیت دی، اور وہ امریکی کمپنیوں میں نوکریاں حاصل کرتے۔ لیکن کیسے؟ وہ جعلی امریکی نام استعمال کرتے، AI سے ریزوم بناتے (جیسے تم AI سے کارٹون بناتے ہو)، اور انٹرویو دیتے۔ کمپنیاں سوچتیں کہ یہ امریکی ہیں، اور گھر سے کام کرنے والے۔


مسئلہ یہ تھا کہ وہ شمالی کوریا سے تھے، تو انہیں امریکی کمپیوٹر کی ضرورت تھی تاکہ لگے کہ امریکہ سے کام کر رہے ہیں۔ یہاں کرسٹینا آئی – وہ "لیپ ٹاپ فارم" چلاتی تھی، یعنی اس کے گھر لیپ ٹاپس رکھتی اور شمالی کوریائی لوگ دور سے استعمال کرتے۔ یہ پیسے شمالی کوریا کو جاتے، جو ہتھیار بنانے میں استعمال ہوتے۔ کرسٹینا کے گھر سے ہی 17 ملین ڈالر بنے! مثال دے دوں: یہ ایسے ہے جیسے کوئی چور تمہارے گھر میں چھپ کر دکان چلاتا ہے، اور تمہیں لگتا ہے کہ یہ تمہارا دوست ہے، لیکن اصل میں وہ چوری کر رہا ہے۔


کرسٹینا کو شک ہوا جب اس نے دیکھا کہ چیکس (پیسوں کے کاغذ) دوسرے لوگوں کے ناموں پر آتے، اور وہ انہیں کیش کرتی۔ ایک بار اس نے گوگل کیا کہ "کیا امریکی کمپنیاں غیر ملکیوں کو نوکری دے سکتی ہیں؟" اور جواب ملا کہ ہاں۔ ایک وکیل نے کہا کہ یہ "گرے ایریا" ہے (یعنی، نہ اچھا نہ برا)۔ لیکن پھر اسے پتہ چلا کہ نام جعلی ہیں۔ وہ چیختی کہ "یہ غیر قانونی ہے!" مگر وہ لوگ دباؤ ڈالتے۔ اس کی ماں کی موت کے دن بھی وہ کام کروانے لگے، جیسے کوئی ظالم باس۔ کرسٹینا غریب تھی، گھر میں پانی نہیں تھا، پلینٹ فٹنس میں نہاتی تھی – یہ ایسے ہے جیسے تم سکول میں کوئی بچہ جو غریب ہے، اور غلط دوستوں میں پھنس جائے۔


ایف بی آئی (امریکی پولیس کی طرح) کو پتہ چلا جب کمپنیوں نے شکایت کی۔ وہ کرسٹینا کے گھر گئے، وہاں 30-40 لیپ ٹاپس ملے، سٹکی نوٹس پر نام اور پاس ورڈ لکھے۔ کرسٹینا بھاگی، کیلیفورنیا چلی گئی، لیکن پکڑی گئی۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ چیکس کیش کرتی تھی، لیپ ٹاپس چین بھیجتی تھی (جو شمالی کوریا کے قریب ہے)۔ IRS (ٹیکس کی پولیس) نے دیکھا کہ 70 لوگوں کی شناخت چوری ہوئی، اور ٹیکس کے مسائل ہوئے۔ مثال: تصور کرو تمہارا نام کوئی استعمال کرے اور تم پر قرضہ چڑھ جائے – ایسا ہی ہوا ان لوگوں کے ساتھ۔


کرسٹینا کو گرفتار کیا گیا، عدالت میں بتایا گیا کہ یہ شمالی کوریا کی جاسوسی ہے۔ وہ روئی، کیونکہ وہ جنوبی کوریائی ہے اور شمالی کوریا کو پسند نہیں کرتی۔ وہ کہتی تھی کہ مجھے پتہ نہیں تھا، یہ合法ی نوکری تھی۔ لیکن اس کی اپنی میسیجز سے پتہ چلا کہ اسے شک تھا۔ عدالت نے اسے 102 مہینے (تقریباً 8.5 سال) جیل کی سزا دی۔ وکیل نے کہا کہ وہ ایک "پاون" (شطرنج کا پیادہ) ہے، مطلب، بڑے کھلاڑیوں کی چال میں استعمال ہوئی۔ اب وہ جیل میں ہے، اور کہتی ہے کہ مجھے افسوس ہے ان لوگوں پر جن کی شناخت چوری ہوئی۔


اب سبق، بچو: یہ کہانی بتاتی ہے کہ پیسوں کی لالچ میں جلدی نہ کرو۔ اگر کوئی نوکری یا دوست بہت اچھا لگے مگر مشکوک، تو پوچھو، چیک کرو۔ شمالی کوریا جیسے ملک چالاکی کرتے ہیں، جیسے ایک چالاک لومڑی جو جنگل میں چھپتی ہے۔ کمپنیوں کو بھی چیک کرنا چاہیے کہ ان کے ملازم واقعی کون ہیں۔ یہ دنیا کی سچائی ہے – اچھے لوگ بھی غلط راستے پر جا سکتے ہیں اگر ہوشیار نہ ہوں۔ کیا سمجھ آئی؟ اگر کوئی سوال ہو تو پوچھو!

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔