عالمی معیشت کا اصل خطرہ: جاپان کا معاشی بحران اور دنیا پر اس کے اثرات
عالمی معیشت کا اصل خطرہ: جاپان کا معاشی بحران اور دنیا پر اس کے اثرات
آج کل جب بھی ہم خبریں سنتے ہیں تو ہمارا دھیان مشرقِ وسطیٰ کے حالات یا تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف جاتا ہے۔ میڈیا ہمیں یہی باور کرواتا ہے کہ دنیا کا امن اور معیشت انہی خطوں سے جڑی ہے، لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ اصل طوفان جاپان میں اٹھ رہا ہے جو خاموشی سے پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہے۔ سال 2024 میں جاپان نے 17 سال بعد اپنی اس پالیسی کو ختم کر دیا جس کے تحت وہاں قرض لینا تقریباً مفت تھا۔ اگر آپ کا بینک میں اکاؤنٹ ہے یا آپ نے کوئی قرض لے رکھا ہے، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ٹوکیو میں ہونے والی یہ تبدیلیاں براہِ راست آپ کی جیب پر اثر انداز ہوں گی۔
### آبادی کا معاشی بلیک ہول
ظاہری طور پر جاپان ایک ایسی جگہ نظر آتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کا راج ہے، روبوٹس سڑکوں پر گھومتے ہیں اور شہر دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے سے زیادہ صاف ستھرے اور جدید ہیں۔ لیکن ان چمکتی دمکتی روشنیوں کے پیچھے ایک خوفناک حقیقت چھپی ہے، اور وہ ہے جاپان کی تیزی سے گرتی ہوئی آبادی۔ سال 2026 میں جاپان کی کل آبادی تقریباً 122.6 ملین رہ گئی ہے، جبکہ 2010 میں یہ 128 ملین تھی۔ ہر سال جاپان سے تقریباً 5 لاکھ لوگ کم ہو رہے ہیں، جو ایسا ہی ہے جیسے ہر 12 ماہ میں ایک پورا بڑا شہر دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائے۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جاپان میں بوڑھے افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ 2022 تک 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی شرح 29 فیصد سے تجاوز کر چکی تھی۔ شرحِ پیدائش اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہر ایک پیدائش کے مقابلے میں دو اموات ہو رہی ہیں۔ جب کام کرنے والے نوجوان کم ہوں گے اور ریٹائر ہونے والے بوڑھے زیادہ، تو ٹیکس کا نظام بیٹھ جاتا ہے اور ملک کی معاشی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔
### مفت پیسے کا جوا اور اس کا انجام
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے جاپان کے مرکزی بینک نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے شرحِ سود کو صفر بلکہ کبھی کبھار منفی میں رکھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بینکوں سے قرض لینا بالکل مفت تھا۔ لوگ، خاندان اور بڑی کمپنیاں بلا خوف و خطر قرض لینے لگیں۔ حتیٰ کہ وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ وہ جاپان سے 0 فیصد پر رقم ادھار لیتے اور اسے ڈالرز میں تبدیل کر کے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لگا دیتے۔ اسے "ین کیری ٹریڈ" کہا جاتا تھا۔
یہ ایک ایسی ترکیب تھی جس سے سب پیسہ کما رہے تھے، لیکن یہ نظام زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا تھا۔ جاپان پر قرضوں کا بوجھ اس کی کل معیشت کا 260 فیصد ہو گیا، جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ 2026 تک آتے آتے یہ جوا اب ختم ہو رہا ہے اور اب اس کا بل ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
### مہنگائی کا طوفان اور کرنسی کی گرتی قدر
جاپان کے پاس قدرتی وسائل کی کمی ہے، اس لیے اسے تیل اور توانائی کے لیے دوسرے ملکوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ 2026 میں تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس نے جاپان کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ جب دنیا بھر میں مرکزی بینک مہنگائی کو روکنے کے لیے شرحِ سود بڑھا رہے تھے، تو جاپان ایک عجیب پھندے میں پھنس گیا۔ اگر وہ شرحِ سود بڑھاتا تو اس کی اپنی حکومت دیوالیہ ہو جاتی کیونکہ اس پر قرضوں کا ہمالیہ کھڑا ہے، اور اگر وہ سود صفر پر رکھتا تو اس کی کرنسی یعنی 'ین' کی قدر ختم ہو جاتی۔
جاپان نے صفر فیصد سود کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ین کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بری طرح گر گئی۔ 2021 میں جو ین 110 پر تھا، وہ 2026 میں 160 تک پہنچ گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ چند ہی سالوں میں جاپانیوں کی محنت کی کمائی کی قدر 30 فیصد کم ہو گئی۔ مجبوری میں جاپانی حکام کو سود کی شرح 0.75 فیصد تک بڑھانی پڑی، جس نے 17 سالہ 'مفت قرضوں' کے دور کا خاتمہ کر دیا۔
### عالمی معیشت پر اثرات: خاموش تباہی
اصل مسئلہ اب شروع ہوتا ہے جسے ہم 'ین کی واپسی' کہہ سکتے ہیں۔ جاپان دنیا کا سب سے بڑا قرض دہندہ ہے اور اس نے امریکہ کا 1.2 ٹریلین ڈالر کا قرض خرید رکھا ہے۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے امریکی فوج کے 18 ماہ کے اخراجات پورے کیے جا سکتے ہیں۔ اب جب جاپان میں شرحِ سود بڑھ رہی ہے، تو جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے امریکی قرضوں میں پیسہ رکھنے کا فائدہ ختم ہو رہا ہے۔ وہ اپنا پیسہ نکال کر واپس جاپان لا رہے ہیں۔
جب جاپان امریکہ کے قرضے بیچنا شروع کرے گا، تو امریکی حکومت کو نئے خریدار ڈھونڈنے کے لیے سود کی شرح مزید بڑھانی پڑے گی۔ اس کے نتیجے میں آپ کے گھر کے قرضے، کریڈٹ کارڈ کا سود اور روزمرہ کی اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ بڑی کمپنیاں جیسے ایپل، مائیکروسافٹ اور این ویڈیا کے حصص (شیئرز) بھی گر سکتے ہیں کیونکہ سرمایہ کار ین کا قرضہ اتارنے کے لیے اپنے منافع بخش اثاثے بیچنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو اخباروں کی سرخیوں میں تو نظر نہیں آتی، لیکن پسِ پردہ پوری دنیا کے مالیاتی نظام کو ہلا کر رکھ دے گی۔
آج عالمی معیشت ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔ ین کے گرنے کے بعد اگلا نمبر ڈالر کا ہو سکتا ہے، اور جب ایسا ہوگا تو پوری دنیا کا معاشی نقشہ بدل جائے گا۔
[http://www.youtube.com/watch?v=agQu5Ei7Kbk](http://www.youtube.com/watch?v=agQu5Ei7Kbk)
http://googleusercontent.com/youtube_content/1
Comments
Post a Comment