صہیونیست نظریے کا عالمی پھیلائو، نفاذ اور مختلف ممالک میں نئے بستیوں کا قیام


دنیا بھر میں اسرائیل اور صیہونیت کو صرف ایک مخصوص جغرافیائی خطے (فلسطین) تک محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں صیہونی نظریات اور آبادکاری کا ماڈل محض مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے مختلف براعظموں اور ممالک میں تیزی سے سرایت کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے پرفضا مقامات سے لے کر یورپ کے پرسکون پہاڑی وادیوں تک، صیہونی آبادکاری کا یہ نفسیاتی اور معاشی رویہ دو واضح شکلوں میں سامنے آ رہا ہے: ایک وہ جنونی عسکری طبقہ جو فوج سے فراغت کے بعد دوسرے ممالک میں جا کر مقامی قوانین اور ثقافت کی تذلیل کرتا ہے، اور دوسرا وہ لبرل صیہونی طبقہ جو جمہوریت کی بحالی کے نام پر دوسرے ممالک کی زمینوں اور جائیدادوں پر قابض ہو رہا ہے۔


1. جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں "حُمص ٹریل" اور نفسیاتی غلبہ


اسرائیلی فوج (Occupation Forces) سے 2 سے 3 سالہ اجباری عسکری سروس مکمل کرنے کے بعد، ہزاروں اسرائیلی نوجوانوں کو جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا بھیجا جاتا ہے جسے "دی بگ ٹرپ" (The Big Trip) کہا جاتا ہے۔ ان سابق فوجی اہلکاروں کے لیے بھارت اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں خصوصی سیاحتی اور آبادکاری کے راستے بنائے گئے ہیں جنہیں "حُمص ٹریل" (Hummus Trail) کہا جاتا ہے۔ بھارت کے علاقوں جیسے دھرام کوٹ، مانالی، اور کسول میں اسرائیلیوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ کسول کو "چھوٹا اسرائیل" کہا جاتا ہے۔


ان علاقوں میں مقامی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جاتی ہے؛ عبرانی زبان میں سائن بورڈز، بغیر پرمٹ کے غیر قانونی کاروبار، اور مقامی بستیوں میں غلبہ قائم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ مقامی باشندوں کے حقوق اور قوانین کو یکسر نظر انداز کر کے قانون سے بالاتر ہونے کا ایک ایسا معاشی اور اجتماعی ماحول تیار کیا جاتا ہے جو ایک قابض ذہنیت کا عکاس ہے۔


2. "فرائر" کلچر اور صیہونی نفسیات میں غلبہ حاصل کرنے کا جنون


اسرائیلی معاشرے کے طرزِ عمل کو سمجھنے کے لیے وہاں کے ایک اہم ترین معاشی و سماجی لفظ "فرائر" (Frier) کا سمجھنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب ایک ایسا انسان ہے جسے آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکے۔ اسرائیلی معاشرے میں قانون کی پاسداری کرنے والے یا سیدھے راستے پر چلنے والے شخص کو "فرائر" کہا جاتا ہے، جو ان کے ہاں ایک انتہائی توہین آمیز لفظ ہے۔


وہاں کا اصل فلسفہ "کامیابی کا طریقہ" (Success Method) کہلاتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ جب تک کوئی دوسرا آپ کو سختی سے نہ روکے، آپ تمام حدیں پار کرتے رہیں اور ہر ممکن طریقے سے دوسروں کا استحصال کریں۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس کے تحت مغربی کنارے (West Bank) میں 7 لاکھ سے زائد صیہونی آبادکار فلسطین کی زمینوں کو مسلسل غصب کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں یہی جارحانہ روپ اپناتے ہیں۔


3. یورپی ممالک اور اطالیہ میں لبرل صیہونیت کا "پروجیکٹ بیٹا"


صیہونی آبادکاری کی دوسری اور زیادہ خطرناک شکل وہ لبرل طبقہ ہے جو خود کو مہذب اور جمہوریت پسند ظاہر کرتا ہے۔ اٹلی کی وادی و الساسیا (Valsasia) میں "پروجیکٹ بیٹا" (Project Beta) کے تحت درجنوں اسرائیلی خاندانوں کو آباد کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ لبرل صیہونی ہیں جو اسرائیل میں عدالتی اصلاحات اور نیتن یاہو کی حکومت کے بعد وہاں سے نکل کر یورپی ممالک کی زمینوں کو اپنا نیا مسکن بنا رہے ہیں۔


یہ طبقہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ "اچھے اسرائیلی" ہیں اور جمہوریت کی تلاش میں آئے ہیں، لیکن ان کا طرز فکر بھی بالکل سامراجی ہے۔ وہ اٹلی کی صدیوں پرانی تاریخی وادیوں کو ایک ایسی "دوشیزہ زمین" کے طور پر دیکھتے ہیں جس پر قبضہ کر کے اسے آباد کیا جانا چاہیے۔ وہ یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ صیہونیت کی اصل بنیاد ہی غصب اور نسل پرستی پر مبنی ہے، اور جب ایک جگہ معاشی و سیاسی بوجھ بڑھتا ہے تو وہ دوسرے ممالک کی زمینوں پر حق جتانے پہنچ جاتے ہیں۔


4. قبرص، یونان اور یورپ میں صیہونی جائیدادوں پر قبضہ اور "نیا اسرائیل" کا قیام


صیہونی نظریے کا اگلا ہدف اب قبرص، یونان، اور پرتگال جیسے ممالک ہیں۔ وہاں اسرائیلی سرمایہ کار بڑے پیمانے پر زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ مختلف صیہونی گروپس جیسے "نیو اسرائیل"، "نوح کی کشتی 2.0" (Noah's Ark 2.0) اور "پلان بی" (Plan B) یورپ کے اندر صیہونی بستیاں اور کمیونز قائم کر رہے ہیں۔


یونان اور قبرص کی حکومتیں اپنے دفاعی اور معاشی معاہدوں کے تحت اسرائیلی افواج کو اپنے ہوائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی کھلی اجازت دے رہی ہیں۔ یونان میں صیہونی اپنے فوجیوں کے لیے بحالی کے مراکز اور بستیاں بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور معیشت صیہونی اثر و رسوخ کے نیچے دبتی جا رہی ہے۔


5. مستقل مظلومیت کا بیانیہ اور صیہونی نظریے کی عالمی حقیقت


اسرائیل کے اندر بچپن سے ہی بچوں کو مظلومیت اور خوف کی ایسی تربیت دی جاتی ہے جو نرسری سے شروع ہو کر ہولوکاسٹ کی مثالوں کے ساتھ فوج میں شامل ہونے تک جاری رہتی ہے۔ اسی "دائمی مظلومیت" (Perpetual Victimhood) کے احساس کو استعمال کر کے عسکری مظالم کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔


ایک طرف فلسطینی باشندے اپنی ہی سرزمین پر قید ہیں اور اپنے ہی گھروں سے محروم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف صیہونی نسل پرست دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر زمینیں خریدنے، اپنے قوانین نافذ کرنے اور نئے شہر قائم کرنے کو اپنا بنیادی اور قانونی حق سمجھتے ہیں۔ صیہونیت کا یہ استعماری نظریہ سرحدی حدود کا پابند نہیں ہے بلکہ یہ جہاں بھی جاتا ہے، زمین پر قبضہ کرنے اور مقامی آبادیوں کو معاشی و سیاسی طور پر تسخیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


یوٹیوب لنک:

[http://www.youtube.com/watch?v=Yq_fWXKidhk](http://www.youtube.com/watch?v=Yq_fWXKidhk)

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔