**ایران کی جنگ نے سٹریٹ آف ہرموز کو بند کر کے دنیا کو غذائی بحران میں دھکیل دیا ہے – تیل کی قیمتوں کے علاوہ کھاد کی کمی سے کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہونے والی ہیں، بچوں سمیت ہر ایک کے لیے سادہ مثالوں کے ساتھ مکمل اور آسان وضاحت**
**ایران کی جنگ نے سٹریٹ آف ہرموز کو بند کر کے دنیا کو غذائی بحران میں دھکیل دیا ہے – تیل کی قیمتوں کے علاوہ کھاد کی کمی سے کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہونے والی ہیں، بچوں سمیت ہر ایک کے لیے سادہ مثالوں کے ساتھ مکمل اور آسان وضاحت**
پیارے دوستو،
میں آپ کا استاد ہوں اور آج آپ کو ایک ایسی سچی کہانی سناتا ہوں جو پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ کہانی بہت اہم ہے کیونکہ یہ صرف بڑوں کے لیے نہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی آسان ہے۔ میں ہر ایک لفظ کو بہت سادہ الفاظ میں، مکمل تفصیل سے بتاؤں گا اور ہر جگہ روزمرہ کی مثالوں سے سمجھاؤں گا تاکہ کوئی بھی بچہ، ماں، باپ یا بوڑھا شخص آسانی سے سمجھ جائے۔ کوئی پیچیدہ لفظ نہیں، کوئی جدول نہیں، بس جیسے گھر میں بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ چلیں شروع کرتے ہیں۔
سب سے پہلے سمجھ لیں کہ **سٹریٹ آف ہرموز** کیا چیز ہے؟
یہ ایک بہت تنگ سمندری راستہ ہے، جیسے آپ کے گھر کے سامنے والی ایک تنگ گلی ہو جس سے صرف ایک کار گزر سکتی ہو۔ یہ خلیج فارس (ایران کے قریب والا سمندر) کو کھلے عرب سمندر سے جوڑتا ہے۔ اس تنگ راستے سے دنیا بھر کے بڑے بڑے جہاز گزرتے ہیں۔ ان جہازوں میں تیل، گیس اور سب سے اہم چیز **کھاد** بھری ہوتی ہے۔ اگر یہ گلی بند ہو جائے تو جیسے سکول کا گیٹ بند ہو جائے اور بچے سکول نہ جا سکیں، ویسے ہی یہ جہاز رک جاتے ہیں۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد یہ راستہ پہلی بار بند کر دیا ہے۔ یہ ان کا دفاع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حملہ ہوا تو ہم یہ راستہ بند کر دیں گے۔ اس سے ایران کو بھی نقصان ہے مگر یہ ان کی حکمت عملی ہے۔
اب بات کرتے ہیں **تیل** کی۔
تیل مہنگا ہو رہا ہے۔ اس سے گاڑیاں، بسوں کے کرایے، بڑھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں ریسٹورنٹس کم کھانا بنا رہے ہیں کیونکہ گیس مہنگی ہو گئی۔ سری لنکا میں کھانا پکانے کی گیس کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔ ایشیا کے کئی ملکوں میں ٹرانسپورٹ اور شاپنگ کے خرچے بڑھ گئے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، تیل صرف ایک حصہ ہے۔ اصل بڑا خطرہ **کھانا** ہے۔
اب سب سے اہم لفظ **کھاد** کو سمجھیں۔
کھاد پودوں کے لیے خاص غذا ہے۔ جیسے بچوں کو دودھ، انڈے، روٹی کھانے سے جسم بڑھتا ہے اور وہ صحت مند ہوتے ہیں، ویسے ہی پودوں کو کھاد سے اچھی فصل اگتی ہے۔ بغیر کھاد کے گندم، چاول، مکئی، سبزیاں کمزور اور کم اگتی ہیں۔ دنیا کی جدید کھیتی باڑی کا دارومدار اسی کھاد پر ہے۔
اب دیکھیں یہ کھاد کیسے بنتی ہے؟
اس کے لیے **قدرتی گیس** چاہیے۔ قدرتی گیس ایک قدرتی گیس ہے جو زمین کے اندر سے نکالی جاتی ہے۔ جیسے گھر میں سلنڈر گیس سے چائے بناتے ہیں، ویسے ہی یہ گیس استعمال ہوتی ہے۔ اس گیس کو توڑ کر **ہائیڈروجن** نکالتے ہیں۔ ہائیڈروجن ایک چھوٹی گیس ہے۔ پھر اسے ہوا سے لی گئی **نائٹروجن** کے ساتھ ملا کر **امونیا** بناتے ہیں۔ امونیا ایک خاص کیمیکل ہے جو بدبو دار گیس کی طرح ہے مگر کھاد بنانے کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس امونیا سے **یوریا** نامی سفید پاؤڈر والی کھاد بنتی ہے۔ کسان اس یوریا کو زمین میں ڈالتے ہیں تو فصل خوب اگتی ہے۔
اب سٹریٹ آف ہرموز سے دنیا کی تقریباً ایک تہائی (یعنی 33 فیصد) **نائٹروجن والی کھاد** گزرتی ہے۔ اور دنیا کی تقریباً آدھی **سلفر** بھی اسی راستے سے آتی ہے۔ سلفر ایک قدرتی عنصر ہے جو پھاسفیٹ کھاد بنانے میں کام آتا ہے۔ پھاسفیٹ کھاد پودوں کو جڑیں مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ہر مہینے 13 لاکھ ٹن کھاد اس راستے سے برآمد ہوتی ہے۔ اگر صرف 30 دن بھی بند رہے تو کھاد کی کمی مہینوں تک رہے گی۔
اب وقت بھی بہت برا ہے۔
دنیا بھر کے کسان اب فصل بو رہے ہیں۔ پودوں کو ابھی کھاد چاہیے۔ جیسے بچہ سکول جانے سے پہلے ناشتہ کرتا ہے، ویسے ہی پودوں کو اب کھاد ملنی چاہیے۔ اگر کھاد نہ ملی تو فصل کم ہو جائے گی۔
کسان کیا کرتے ہیں جب کھاد مہنگی ہو؟
کچھ کسان کم کھاد ڈالتے ہیں تو فصل کم اگتی ہے۔ کچھ دوسری فصل اگاتے ہیں جو کم کھاد چاہے۔ دونوں صورتوں میں دنیا بھر کی غذائی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد کھاد کی قیمتیں 10 سے 30 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ یہ بہت بڑا اضافہ ہے۔
اب سوچیں کتنے لوگ اس پر منحصر ہیں؟
دنیا کے 40 ارب لوگ (یعنی تقریباً آدھی آبادی) ایسی غذائیں کھاتے ہیں جو مصنوعی نائٹروجن کھاد سے اگائی جاتی ہیں۔ یعنی آپ کا روٹی، چاول، دال، سبزی، سب اسی کھاد پر منحصر ہے۔ اگر کھاد کم ہوئی تو یا تو دکانوں پر کھانا کم ہو جائے گا یا قیمتیں اتنی بڑھ جائیں گی کہ غریب لوگ نہیں خرید سکیں گے۔
تیل کی مہنگی بھی مسئلہ بڑھا رہی ہے۔
تیل ٹریکٹر چلانے، پانی دینے، جہازوں اور ٹرکوں میں استعمال ہوتا ہے۔ کھانے کی پیداوار کا تقریباً آدھا خرچہ تیل پر ہوتا ہے۔ جیسے بچہ سکول جانے کے لیے بس کا کرایہ بڑھ جائے تو ماں باپ پریشان ہوتے ہیں، ویسے ہی کسان اور دکان والے پریشان ہیں۔
اس سے پہلے دو بڑے بحران آ چکے ہیں۔
ایک کورونا کی وبا میں، دوسرا 2022 میں یوکرین کی جنگ میں۔ اب یہ تیسرا بحران بن سکتا ہے۔
کون سے ملک زیادہ خطرے میں ہیں؟
بھارت بہت بڑی مقدار میں گلف سے کھاد لاتا ہے۔ برازیل دنیا کا بڑا کسان ملک ہے مگر وہ بھی گلف کی کھاد پر منحصر ہے۔ خلیج کے ملک 80 سے 90 فیصد کھانا باہر سے لاتے ہیں۔ اگر راستہ بند رہا تو انہیں اپنے ذخیرے استعمال کرنے پڑیں گے یا مہنگے راستوں سے لانا پڑے گا۔
اگر یہ راستہ جلدی کھل گیا تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔ مگر اگر جنگ لمبی چلی اور راستہ بند رہا تو اربوں لوگوں کی زندگی متاثر ہو گی۔ کھانے کی قیمتیں بڑھیں گی، غریب لوگ پریشان ہوں گے، بچوں کا دودھ، روٹی بھی مہنگا ہو جائے گا۔
پیارے بچو، اب آپ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ ایک تنگ سمندری راستہ بند ہونے سے پوری دنیا کے کھانے پر کیسے اثر پڑتا ہے۔ جیسے ایک چھوٹی سی گلی بند ہونے سے سکول کا سارا ٹریفک رک جاتا ہے، ویسے ہی یہ ایک چھوٹا سا راستہ بند ہونے سے دنیا بھر کی کھاد، تیل اور کھانا متاثر ہو رہا ہے۔
امید ہے آپ کو یہ کہانی مکمل طور پر سمجھ آ گئی۔ اب آپ گھر والوں کو بھی سادہ الفاظ میں بتا سکتے ہیں۔ اللہ سب کو محفوظ رکھے اور جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے۔
آپ کا استاد،
جو ہمیشہ آسان طریقے سے سمجھانا پسند کرتا ہے۔
Comments
Post a Comment