**عنوان: کرپٹو کرنسی میں ہونے والی بڑی دھاندلی کے گندے راز**
یہ ویڈیو کا خلاصہ اردو میں پیش ہے۔ ویڈیو میں مارک ماس نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ہونے والے بڑے دھاندلی (Con) کے بارے میں بتایا ہے، جس میں FTX ایکسچینج اور اس کے بانی سیم بینک مین فرائیڈ شامل ہیں۔
**عنوان: کرپٹو کرنسی میں ہونے والی بڑی دھاندلی کے گندے راز**
اس ویڈیو میں مارک ماس نے بتایا ہے کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں جو خونریزی (Blood Bath) ہوئی ہے، اس کے پیچھے ایک بہت بڑی دھاندلی (Con Game) چھپی ہوئی ہے۔
**کون ہے سیم بینک مین فرائیڈ؟**
سیم بینک مین فرائیڈ FTX کرپٹو ایکسچینج اور Alameda Research کا بانی ہے۔ اسے میڈیا نے "اگلا وارن بفیٹ" (Next Warren Buffett) کہہ کر پکارا تھا۔ وہ صرف 29 سال کی عمر میں ارب پتی بن گیا تھا اور اس کی کمپنی FTX کی مالیت 32 ارب ڈالر بتائی جاتی تھی۔
**یہ دھاندلی کیسے کام کرتی تھی؟**
مارک ماس نے اس دھاندلی کو سمجھانے کے لیے ایک مثال دی ہے:
1. **باکس (Box) بنانا:** فرض کریں کہ ایک شخص نے ایک "باکس" بنایا، جس کا کوئی حقیقی کام نہیں ہے، لیکن اسے "دنیا بدل دینے والی ٹیکنالوجی" (World Changing Protocol) کا نام دے دیا گیا۔
2. **ٹوکن (Token) جاری کرنا:** اس باکس کے لیے ایک ڈیجیٹل ٹوکن (جیسے کرپٹو کرنسی) بنا دی گئی۔ فرض کریں کہ اس ٹوکن کی کل تعداد 100 ملین ہے۔
3. **مارکیٹ بنانا (Market Making):** اس ٹوکن کو Alameda Research (جو سیم بینک مین فرائیڈ کی ہی دوسری کمپنی ہے) کو دے دیا گیا۔ Alameda نے اس ٹوکن کی قیمت خود طے کرنا شروع کر دی۔ وہ آپس میں ہی اس ٹوکن کو ایک دوسرے کو بیچنے لگے، پہلے 3 سینٹ میں، پھر 6 سینٹ میں، پھر 9 سینٹ میں اور پھر 50 سینٹ میں۔
4. **عوام کو پھنسانا (Luring the Public):** جب عوام (Retail Investors) نے دیکھا کہ اس ٹوکن کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے تو وہ اسے خریدنے کے لیے دوڑ پڑے۔ انہیں لگا کہ یہ واقعی کوئی قیمتی چیز ہے۔ ان ٹوکنز کو FTX ایکسچینج پر فروخت کیا گیا۔
سیم بینک مین فرائیڈ خود ایک انٹرویو میں کہتا ہے کہ "لوگ اس باکس کو قیمتی سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ مارکیٹ میکرز (Alameda) نے قیمت بڑھا کر یہ تاثر (Perception) دیا ہوتا ہے کہ یہ قیمتی ہے۔"
**یہ فراڈ (Ponzi Scheme) کیسے بنا؟**
* **FTT ٹوکن:** FTX ایکسچینج نے خود بھی اپنا ایک ٹوکن بنایا جسے FTT کہا جاتا تھا۔ اس ٹوکن کی بھی کوئی حقیقی قیمت نہیں تھی۔
* **Alameda کی مدد:** Alameda نے FTT ٹوکن کی بھی مارکیٹ بنائی اور اس کی قیمت صفر سے بڑھا کر 9.6 ارب ڈالر کر دی۔
* **جعلسازی (Fraud):** Alameda کے پاس جو اثاثے (Assets) تھے، ان میں سے زیادہ تر FTT ٹوکن تھے، یعنی ان کی اپنی بنائی ہوئی چیز۔
**پردہ فاش ہونا (The Leak):**
2 نومبر 2022 کو Alameda Research کی خفیہ بیلنس شیٹ (Balance Sheet) لیک ہو گئی۔ اس میں یہ انکشاف ہوا کہ Alameda کے پاس 14.6 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں، جن میں سے زیادہ تر FTT ٹوکن ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس کوئی حقیقی اثاثہ (جیسے ڈالر) نہیں ہے، صرف ان کا اپنا بنا ہوا ٹوکن ہے۔
**حملہ (The Attack):**
CZ (چانگ پینگ ژاؤ)، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج Binance کے بانی ہیں، نے اس کمزوری کو بھانپ لیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ Binance اپنے پاس موجود تمام FTT ٹوکن بیچ دے گا۔ اس اعلان نے FTT ٹوکن پر بہت زیادہ فروخت کا دباؤ (Selling Pressure) ڈال دیا۔
**مگرجن کال (Margin Call):**
Alameda Research نے FTT ٹوکن کو گروی رکھ کر (Collateral) قرضے (Loans) لے رکھے تھے۔ جب FTT کی قیمت گرنے لگی تو قرض دینے والوں نے Alameda سے کہا کہ وہ مزید گروی رکھے (Margin Call)۔ Alameda نے FTT کی قیمت 22 ڈالر پر برقرار رکھنے کی کوشش کی، لیکن جب قیمت 22 ڈالر سے نیچے آئی تو Alameda دیوالیہ ہو گئی۔
**بینک رن (Bank Run):**
اسی دوران لوگوں کو ڈر لگنے لگا کہ ان کی رقم FTX پر محفوظ نہیں ہے، اس لیے انہوں نے اپنی تمام رقم FTX سے نکالنا شروع کر دی۔ 48 گھنٹوں میں 700 ملین ڈالر سے زیادہ رقم نکال لی گئی۔ FTX کے پاس اتنی رقم تھی ہی نہیں کہ وہ لوگوں کو واپس کر سکے۔
**نتیجہ:**
FTX اور Alameda Research دیوالیہ ہو گئیں۔ سیم بینک مین فرائیڈ نے ٹویٹ کیا کہ وہ Binance سے مدد مانگ رہے ہیں، لیکن Binance نے معاہدے سے انکار کر دیا۔
**مرکزی بینکوں (Central Banks) سے تعلق:**
مارک ماس کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹا سا واقعہ اس بات کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک (جیسے Bank of Japan، Bank of England اور Federal Reserve) کیا کر رہے ہیں۔
* **جاپان (Japan):** جاپان نے ین (Yen) کرنسی خود بنائی ہے، بالکل اسی طرح جیسے FTX نے FTT ٹوکن بنایا تھا۔ اب ین کی قدر گر رہی ہے تو جاپان کا مرکزی بینک ین خریدنے کے لیے اپنے پاس موجود یو ایس ٹریژری (US Treasuries) بیچ رہا ہے۔ یہ وہی کام ہے جو FTX کر رہا تھا کہ اپنی کرنسی بچانے کے لیے اثاثے بیچ رہا تھا۔
* **برطانیہ (England):** بینک آف انگلینڈ بھی پاؤنڈ (Pound) کی قدر بچانے کے لیے اپنے اثاثے بیچ رہا ہے۔
**نتیجہ:**
مارک ماس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی کرنسیوں (Fiat Currencies) کی کوئی حقیقی قیمت نہیں ہے۔ لوگ انہیں صرف اس لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قیمتی ہیں۔ جب لوگوں کا اعتماد اٹھے گا، تو یہ کرنسیاں بھی FTT ٹوکن کی طرح بے وقعت ہو جائیں گی۔
**اہم نکات:**
1. **ایکسچینج پر رقم نہ رکھیں:** کبھی بھی اپنی کرپٹو کرنسی ایکسچینج پر نہ رکھیں۔ اسے اپنے پرائیویٹ والیٹ (Private Wallet) میں رکھیں۔
2. **بے کار ٹوکن نہ خریدیں:** زیادہ تر کرپٹو کرنسیوں کی کوئی حقیقی قیمت نہیں ہے۔ وہ صرف "باکس" (Vaporware) ہیں۔
3. **خطرے سے بچیں:** کبھی بھی اتنی رقم خطرے میں نہ ڈالیں جتنا آپ کھونے کے لیے تیار نہ ہوں۔
**نوٹ:** یہ تحریر ویڈیو کی مکمل وضاحت پر مبنی ہے اور اس کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا ہے۔
Comments
Post a Comment