# اکسل میں خودکار طریقے سے ٹرائل بیلنس، انکم سٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ تیار کرنے کا مکمل طریقہ

 # اکسل میں خودکار طریقے سے ٹرائل بیلنس، انکم سٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ تیار کرنے کا مکمل طریقہ


## فنانشل سٹیٹمنٹس اکاؤنٹنگ سائیکل کی مکمل گائیڈ


اگر آپ اکاؤنٹنگ کے پیشے سے وابستہ ہیں یا فنانشل سٹیٹمنٹس بنانے کا طریقہ سیکھنا چاہتے ہیں تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔ اس میں ہم آپ کو مرحلہ وار بتائیں گے کہ کس طرح چارٹ آف اکاؤنٹس سے لے کر فنانشل سٹیٹمنٹس تک کا سفر اکسل میں آٹومیشن کے ساتھ مکمل کیا جا سکتا ہے۔


## فنانشل سٹیٹمنٹس کا تعارف


فنانشل سٹیٹمنٹس کسی بھی کاروبار کی مالی صحت جاننے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ یہ تین اہم حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں:

1. **انکم سٹیٹمنٹ** (منافع بخش حساب)

2. **بیلنس شیٹ** (مالی پوزیشن)

3. **کیش فلو سٹیٹمنٹ** (نقدی بہاؤ)


آئیے اب ہم تفصیل سے سمجھتے ہیں کہ انہیں کیسے تیار کیا جائے۔


## چارٹ آف اکاؤنٹس کی تیاری


چارٹ آف اکاؤنٹس کسی بھی اکاؤنٹنگ سسٹم کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہ وہ فہرست ہے جس میں تمام اکاؤنٹس کو ان کی اقسام کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔


### اکاؤنٹس کی اہم کیٹیگریز


اکاؤنٹس کو پانچ اہم کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے:


1. **اثاثے (Assets)** - کاروبار کی ملکیت والی چیزیں

   - مثال: کیش، بینک، انوینٹری، مشینری


2. **واجبات (Liabilities)** - کاروبار پر واجب الادا رقم

   - مثال: قرضے، اکاؤنٹس پیبل


3. **ایکویٹی (Equity)** - مالک کا سرمایہ

   - مثال: کیپٹل، ریٹینڈ ارننگز


4. **آمدنی (Revenue)** - کاروبار کی کمائی

   - مثال: سیلز، سروس انکم


5. **اخراجات (Expenses)** - کاروبار پر ہونے والے اخراجات

   - مثال: تنخواہ، کرایہ، دفتری اخراجات


### چارٹ آف اکاؤنٹس کی تیاری کا طریقہ


اکسل میں چارٹ آف اکاؤنٹس تیار کرنے کا طریقہ:


1. **نیا ورک شیٹ بنائیں** - اس کا نام "چارٹ آف اکاؤنٹس" رکھیں

2. **کالمز کی ترتیب** - تین کالم بنائیں: اکاؤنٹ کا نام، اکاؤنٹ کی قسم، فنانشل سٹیٹمنٹ

3. **اکاؤنٹس درج کریں** - تمام اکاؤنٹس کو ان کی اقسام کے مطابق لکھیں


مثال کے طور پر:

- کیش (نقد رقم) - اثاثہ - بیلنس شیٹ

- بینک - اثاثہ - بیلنس شیٹ

- انوینٹری - اثاثہ - بیلنس شیٹ

- کیپٹل - ایکویٹی - بیلنس شیٹ

- سیلز - آمدنی - انکم سٹیٹمنٹ

- تنخواہ - اخراجات - انکم سٹیٹمنٹ


## جنرل انٹریز کا اندراج


جنرل انٹریز روزمرہ کے لین دین کا ریکارڈ ہوتی ہیں۔ یہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کے اصولوں پر مبنی ہوتی ہیں۔


### جنرل انٹریز کے لیے ٹیبل کی تیاری


اکسل میں جنرل انٹریز کے لیے ٹیبل بنانے کا طریقہ:


1. **کالمز بنائیں** - تاریخ، تفصیل، اکاؤنٹ، ڈیبٹ، کریڈٹ

2. **ٹیبل فارمیٹ** - ڈیٹا کو ٹیبل میں تبدیل کریں (Ctrl+T)

3. **ڈیزائن منتخب کریں** - مناسب ٹیبل ڈیزائن چنیں

4. **فلٹرز ہٹائیں** - اگر ضرورت نہ ہو تو فلٹرز کو ختم کریں


### انٹریز کی عملی مثالیں


آئیے کچھ عام کاروباری لین دین کی انٹریز دیکھتے ہیں:


**مثال 1: کاروبار کا آغاز 5 ملین روپے نقد کے ساتھ**

- تاریخ: 1 جولائی 2020

- ڈیبٹ: کیش اکاؤنٹ (5,000,000)

- کریڈٹ: کیپٹل اکاؤنٹ (5,000,000)


**مثال 2: بینک میں رقم جمع کروائی (1.5 ملین)**

- تاریخ: 2 جولائی

- ڈیبٹ: بینک اکاؤنٹ (1,500,000)

- کریڈٹ: کیش اکاؤنٹ (1,500,000)


**مثال 3: انوینٹری کی خریداری قرض پر (750,000)**

- تاریخ: 5 جولائی

- ڈیبٹ: انوینٹری اکاؤنٹ (750,000)

- کریڈٹ: میگا مارٹس (اکاؤنٹس پیبل) (750,000)


**مثال 4: کیش پر انوینٹری کی فروخت (300,000)**

- تاریخ: 14 جولائی

- ڈیبٹ: کیش اکاؤنٹ (300,000)

- کریڈٹ: سیلز اکاؤنٹ (300,000)


## ڈیٹا ویلیڈیشن کا استعمال


غلطیوں سے بچنے کے لیے ڈیٹا ویلیڈیشن کا استعمال کریں:


1. **اکاؤنٹس کی فہرست بنائیں** - چارٹ آف اکاؤنٹس سے تمام اکاؤنٹس کاپی کریں

2. **ڈیٹا ویلیڈیشن لگائیں** - جنرل انٹری کے اکاؤنٹ کالم میں ویلیڈیشن لگائیں

3. **فہرست منتخب کریں** - ویلیڈیشن میں لسٹ آپشن چنیں اور اکاؤنٹس کی رینج دیں


اس طرح جب بھی آپ انٹری کریں گے، صرف چارٹ آف اکاؤنٹس میں موجود اکاؤنٹس ہی منتخب کر سکیں گے۔


## لیجرز کی تیاری


لیجرز مختلف اکاؤنٹس کی تفصیلات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ جنرل انٹریز سے ڈیٹا لے کر تیار کیے جاتے ہیں۔


### لیجرز بنانے کا خودکار طریقہ


1. **پِوٹ ٹیبل بنائیں** - جنرل انٹری کے ڈیٹا پر کلک کریں، پھر Insert > PivotTable

2. **نیا ورک شیٹ منتخب کریں** - پِوٹ ٹیبل کو نئی شیٹ میں بنائیں

3. **فیلڈز ترتیب دیں**:

   - Rows: اکاؤنٹ

   - Columns: ڈیبٹ/کریڈٹ

   - Values: ڈیبٹ اور کریڈٹ کی رقم


4. **ڈیزائن بہتر بنائیں**:

   - Report Layout > Show in Tabular Form

   - Subtotals > Do Not Show Subtotals

   - Repeat All Item Labels


5. **بیلنس کالم شامل کریں**:

   - PivotTable Analyze > Fields, Items & Sets > Calculated Field

   - نام: بیلنس

   - فارمولا: = ڈیبٹ - کریڈٹ


### سلائسر کا استعمال


سلائسر کی مدد سے آپ مختلف اکاؤنٹس کے لیے علیحدہ علیحدہ لیجر دیکھ سکتے ہیں:


1. **سلائسر انسرٹ کریں** - PivotTable Analyze > Insert Slicer

2. **اکاؤنٹ منتخب کریں** - اکاؤنٹ فیلڈ کو سلائسر کے لیے چنیں

3. **سلائسر استعمال کریں** - کسی بھی اکاؤنٹ پر کلک کریں، اس کا لیجر ظاہر ہو جائے گا


## ٹرائل بیلنس کی تیاری


ٹرائل بیلنس تمام اکاؤنٹس کے بیلنس کا خلاصہ ہوتا ہے۔ اسے لیجر سے آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے۔


### ٹرائل بیلنس بنانے کا طریقہ


1. **پِوٹ ٹیبل کاپی کریں** - لیجر والی شیٹ کو کاپی کریں

2. **سلائسر ہٹائیں** - غیر ضروری سلائسر کو ڈیلیٹ کریں

3. **تاریخ کالم ہٹائیں** - صرف اکاؤنٹ اور بیلنس رکھیں

4. **نام تبدیل کریں** - شیٹ کا نام "ٹرائل بیلنس" رکھیں


ٹرائل بیلنس میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کا کل برابر ہونا چاہیے۔


## انکم سٹیٹمنٹ کی تیاری


انکم سٹیٹمنٹ کاروبار کی منافع بخشی ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایک مخصوص مدت کی آمدنی اور اخراجات کا خلاصہ ہوتی ہے۔


### انکم سٹیٹمنٹ کا فارمیٹ


```

کمپنی کا نام

انکم سٹیٹمنٹ

برائے مدت ختم ہونے والی [تاریخ]


آمدنی:

    سیلز                            xxx

کل آمدنی                            xxx


اخراجات:

    کاسٹ آف گڈز سولڈ                xxx

    تنخواہ کے اخراجات                xxx

    کرایہ کے اخراجات                 xxx

    دفتری اخراجات                    xxx

    تفریحی اخراجات                   xxx

کل اخراجات                           xxx


خالص منافع (نقصان)                   xxx

```


### انکم سٹیٹمنٹ میں فارمولے لگانا


1. **ٹرائل بیلنس سے ڈیٹا لینا** - VLOOKUP یا SUMIF فارمولے استعمال کریں

2. **مثال**:

   ```

   =SUMIF(ٹرائل بیلنس!$A$2:$A$100, "سیلز", ٹرائل بیلنس!$B$2:$B$100)

   ```


3. **ٹیکس کا حساب** - منافع پر 30% ٹیکس

   ```

   =خالص_منافع * 30%

   ```


## بیلنس شیٹ کی تیاری


بیلنس شیٹ کاروبار کی مالی پوزیشن ظاہر کرتی ہے۔ یہ اثاثوں، واجبات اور ایکویٹی کا خلاصہ ہوتی ہے۔


### بیلنس شیٹ کا فارمیٹ


```

کمپنی کا نام

بیلنس شیٹ

بمطابق [تاریخ]


اثاثے:

    غیر موجودہ اثاثے:

        کمپیوٹر                         xxx

    کل غیر موجودہ اثاثے                  xxx

    

    موجودہ اثاثے:

        کیش                             xxx

        بینک                            xxx

        انوینٹری                        xxx

        وصولیاں                          xxx

    کل موجودہ اثاثے                      xxx


کل اثاثے                                 xxx


واجبات اور ایکویٹی:

    موجودہ واجبات:

        قابل ادائیگی اکاؤنٹس              xxx

        قابل ادائیگی ٹیکس                 xxx

    کل واجبات                             xxx

    

    ایکویٹی:

        سرمایہ                           xxx

        خالص منافع                       xxx

    کل ایکویٹی                            xxx


کل واجبات اور ایکویٹی                     xxx

```


### بیلنس شیٹ میں فارمولے لگانا


1. **غیر موجودہ اثاثے** - کمپیوٹر جیسے طویل المدتی اثاثے

2. **موجودہ اثاثے** - کیش، بینک، انوینٹری، وصولیاں

3. **موجودہ واجبات** - قابل ادائیگی اکاؤنٹس، ٹیکس

4. **ایکویٹی** - سرمایہ + خالص منافع


### انکم سٹیٹمنٹ سے لنک کرنا


بیلنس شیٹ میں خالص منافع کو انکم سٹیٹمنٹ سے لنک کریں:


```

=انکم_سٹیٹمنٹ!B10

```


یہاں B10 وہ سیل ہے جہاں خالص منافع لکھا ہے۔


## چیک اینڈ بیلنس


فنانشل سٹیٹمنٹس تیار کرنے کے بعد درج ذیل چیزوں کو ضرور چیک کریں:


1. **ٹرائل بیلنس میں ڈیبٹ اور کریڈٹ برابر ہوں**

2. **انکم سٹیٹمنٹ کا خالص منافع مثبت ہو (اگر منافع میں ہو)**

3. **بیلنس شیٹ میں کل اثاثے = کل واجبات + کل ایکویٹی**


## پرنٹنگ اور پیشکش


فنانشل سٹیٹمنٹس کی پیشکش بہت اہم ہوتی ہے۔ پرنٹ کرنے سے پہلے:


1. **پیج لے آؤٹ چیک کریں** - Page Layout > Orientation

2. **مارجنز سیٹ کریں** - مناسب مارجنز رکھیں

3. **پرنٹ ایریا منتخب کریں** - صرف ضروری حصہ پرنٹ کریں

4. **پرنٹ پیشکش دیکھیں** - Ctrl+P سے پرنٹ پیشکش دیکھیں


## عملی مشورے


1. **فارمولز کو چیک کریں** - ہر فارمولے کو ایک بار ضرور چیک کریں

2. **ڈیٹا ویلیڈیشن استعمال کریں** - غلطیوں سے بچنے کے لیے

3. **بیک اپ رکھیں** - اہم ڈیٹا کا بیک اپ ضرور رکھیں

4. **سادگی برتیں** - پیچیدہ فارمولوں سے بچیں

5. **لیبلنگ واضح رکھیں** - ہر آئٹم کو واضح طور پر لیبل کریں


## اختتام


اس مکمل گائیڈ میں آپ نے سیکھا کہ کس طرح چارٹ آف اکاؤنٹس سے شروع کرتے ہوئے جنرل انٹریز، لیجرز، ٹرائل بیلنس اور آخر میں انکم سٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ تک کا سفر طے کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار انڈسٹری میں استعمال ہونے والے معیاری طریقوں پر مبنی ہے۔


یاد رکھیں کہ فنانشل سٹیٹمنٹس تیار کرنا ایک فن ہے جس میں مشق سے مہارت حاصل ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ مشق کریں گے، اتنا ہی بہتر ہوتے جائیں گے۔


اگر آپ کو کسی مرحلے میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو دوبارہ اس مضمون کا مطالعہ کریں اور مرحلہ وار طریقہ کار پر عمل کریں۔ ان شاء اللہ آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔