جی پی مورگن نے راز کھول دیے: پرائیویٹ کریڈٹ کا بحران مالیاتی نظام کو ہلا رہا ہے، کیا یہ دوسرا بڑا مالیاتی بحران کا آغاز ہے؟ بچوں سے لے کر بڑوں تک کے لیے سادہ اور مکمل وضاحت
جی پی مورگن نے راز کھول دیے: پرائیویٹ کریڈٹ کا بحران مالیاتی نظام کو ہلا رہا ہے، کیا یہ دوسرا بڑا مالیاتی بحران کا آغاز ہے؟ بچوں سے لے کر بڑوں تک کے لیے سادہ اور مکمل وضاحت
میرے پیارے قارئین اور بچو، آج میں آپ کے سامنے ایک استاد کی طرح بیٹھ کر یہ کہانی سنا رہا ہوں۔ یہ کہانی ایک بڑے بینک کی ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو پیسے دیتا ہے۔ اس کہانی میں کوئی پیچیدہ الفاظ نہیں ہوں گے۔ ہر چیز کو ایسے بتاؤں گا جیسے ہم گھر میں بیٹھے چائے پی رہے ہوں اور میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔ چھوٹے بچے بھی آسانی سے سمجھ جائیں گے کیونکہ میں ہر بات کو روزمرہ کی مثالوں سے جوڑ کر بتاؤں گا۔ چلو شروع کرتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھو کہ پرائیویٹ کریڈٹ کیا چیز ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ اپنے دوست کو پیسے قرض دے دو، بینک کے بغیر۔ کوئی بڑی کمپنی کہتی ہے کہ مجھے پیسے دو، میں اپنا کاروبار بڑھاؤں گا۔ یہ پرائیویٹ کریڈٹ والے لوگ ان کمپنیوں کو پیسے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی جو کمپیوٹر کے پروگرام بناتی ہے، وہ یہ پیسے لے کر نئے آئیڈیا بناتی ہے۔ لیکن جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو یہ کمپنیاں پیسے واپس نہیں کر پاتیں۔ بالکل ویسے جیسے آپ کا دوست قرض لے کر کہے کہ میں واپس کروں گا، مگر اس کا کام بند ہو جائے تو وہ واپس نہ کر سکے۔
اب جی پی مورگن نامی یہ بہت بڑا بینک ہے۔ یہ دنیا کا ایک طاقتور بینک ہے جو ہر جگہ پیسے کا کام کرتا ہے۔ حال ہی میں اس بینک نے کہا کہ ہم نے ان پرائیویٹ کریڈٹ والوں کے قرضوں کی قیمت کم کر دی ہے۔ یعنی جو قرضے انہوں نے دیے تھے، ان کی ویلیو گر گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سافٹ ویئر کمپنیاں اب پہلے جیسے نہیں چل رہی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی آئی اے آئی نے کام بدل دیا، مزدوروں کے کام کم ہو گئے، اور معیشت سست پڑ گئی۔ بالکل ویسے جیسے بارش نہ ہو تو فصل خراب ہو جائے اور کسان پیسے نہ کما سکے۔
اس کے بعد جی پی مورگن نے کہا کہ ہم اب ان پرائیویٹ کریڈٹ والوں کو زیادہ پیسے نہیں دیں گے۔ یہ ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہ بینک دوسرے بینکوں کو بھی پیسے دیتا ہے۔ جب یہ بینک رک جاتا ہے تو پورا نظام رک جاتا ہے۔ اب دیگر بڑے بینک جیسے ڈوئچے بینک اور مورگن سٹینلے بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھی پرائیویٹ کریڈٹ میں مسائل ہیں۔ یہ خبر ایک جھٹکا ہے۔
اب دیکھیں کہ یہ بحران کیسے شروع ہوتا ہے۔ مالیاتی بحران ہمیشہ اسی طرح شروع ہوتے ہیں۔ پہلے بڑی کمپنیوں کے شیئرز گرتے ہیں۔ شیئر کیا ہے؟ یہ ایسا ٹکٹ ہے جس سے آپ کمپنی کا تھوڑا مالک بن جاتے ہیں۔ اگر کمپنی اچھی چلے تو شیئر کی قیمت بڑھتی ہے، اگر بری چلے تو گرتی ہے۔ مثال کے طور پر بلیک راک نامی کمپنی کا شیئر سال کے شروع میں اچھا چل رہا تھا، مگر پرائیویٹ کریڈٹ کے مسائل آتے ہی گر گیا۔ اسی طرح بلیک اسٹون اور بلیو آؤل کی شیئرز بھی بہت گر گئیں۔ بلیو آؤل تو ۳۵ فیصد سے زیادہ گر گئی۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ کا پسندیدہ کھلونا ٹوٹ جائے اور آپ رو پڑیں۔
اس کے علاوہ ایک بڑا گروپ ہے جسے ایکس ایل ایف کہتے ہیں۔ یہ ایک ٹوکری ہے جس میں بہت سے بڑے بینک اور کمپنیاں ہیں جیسے جی پی مورگن، برکشائر، ویلز فارگو۔ یہ ٹوکری بھی سال بھر میں بہت گر گئی ہے۔ بالکل ۲۰۰۷ اور ۲۰۰۸ کے مالیاتی بحران جیسا۔ اس وقت بھی شیئرز گرے تھے اور پھر پورا نظام ڈگمگا گیا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سب ٹھیک ہے، مگر حقیقت میں سب خراب ہو رہا تھا۔
اب ایک اور مثال دیکھیں۔ برطانیہ میں ایم ایف ایس نامی کمپنی تھی جو گھروں کے قرضے دیتی تھی۔ یہ بھی پرائیویٹ کریڈٹ سے پیسے لے کر کام کرتی تھی۔ اچانک یہ کمپنی ٹوٹ گئی۔ لوگوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ہے، مگر یہ ایک اور کاکروچ (چھپکلا) نکل آیا۔ اب کلیف واٹر نامی ایک بڑی فنڈ ہے جس کے پاس ۳۳ ارب ڈالر ہیں۔ لوگ اپنا پیسہ واپس مانگ رہے ہیں۔ یہ ریڈیمپشن کہلاتا ہے۔ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ میرا پیسہ لوٹا دو۔ مگر یہ فنڈ کے پاس جو قرضے ہیں وہ جلدی نہیں بیچے جا سکتے۔ اگر وہ جلدی بیچیں تو بہت سستے داموں بیچیں گے۔ یہ فائر سیل ہے۔ مثال کے طور پر آپ کا گھر جل رہا ہو تو آپ فرنیچر سڑک پر سستا بیچ دو۔ خریدار کہے گا کہ ۱۰۰ روپے کا سامان ۵۰ روپے میں لوں گا۔ اس سے فنڈ ٹوٹ جاتا ہے۔
اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بحران کیوں پھیلتا ہے۔ ہماری معیشت قرضوں پر چلتی ہے۔ جیسے ایک سائیکل جو گھومتا رہتا ہے۔ بینک پیسے دیتے ہیں، کاروبار چلتے ہیں، لوگ کام کرتے ہیں، پیسے کماتے ہیں اور واپس کرتے ہیں۔ مگر اگر مزدوروں کا کام کم ہو جائے تو سب رک جاتا ہے۔
مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک بڑا دائرہ ہے۔ اس میں سب سے نیچے مزدور ہیں۔ اگر مزدوروں کے کام کم ہوں تو ان کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں۔ وہ دکانوں سے کم خریدتے ہیں۔ دکانیں یعنی کاروبار کم کماتے ہیں۔ کاروبار پرائیویٹ کریڈٹ والوں کو پیسے نہیں دے پاتے۔ پھر پرائیویٹ کریڈٹ والے بینک کو پیسے نہیں دے پاتے۔ بینک ڈرتا ہے اور کہتا ہے کہ اب میں کم پیسے دوں گا۔ اس سے معیشت اور چھوٹی ہو جاتی ہے۔ مزدوروں کے کام مزید کم ہوتے ہیں۔ یہ ایک گھنٹی چکر ہے جو بڑھتا جاتا ہے۔ بالکل ویسے جیسے ایک پتھر پہاڑ سے گرے تو نیچے جا کر بڑا تودہ بن جائے۔
جی پی مورگن جیسا بڑا بینک جب رکتا ہے تو یہ چکر پورے ملک اور دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ ۲۰۰۸ میں بھی سب پرائم قرضے کہتے تھے کہ یہ چھوٹا مسئلہ ہے مگر پورا دنیا ڈوب گیا۔ اب بھی لوگ کہتے ہیں کہ پرائیویٹ کریڈٹ چھوٹا مسئلہ ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ پھیل سکتا ہے۔
بچو، یہ کہانی ڈرانے والی ہے مگر یاد رکھو کہ ہر بحران کے بعد نئی شروعات ہوتی ہے۔ اگر آپ سمجھدار بنیں، پیسے بچائیں، اور غلط جگہ نہ لگائیں تو آپ محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ پیسے کا نظام کتنا نازک ہے۔ ایک چھوٹی سی چیز سے پورا گھر ہل جاتا ہے۔
میرے پیارے قارئین، امید ہے یہ وضاحت آپ کو بہت آسان لگی۔ ہر بات کو مثال سے سمجھایا ہے تاکہ چھوٹا بچہ بھی کہے کہ ہاں مجھے سمجھ آ گئی۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو کمنٹ میں پوچھیں، میں پھر سے استاد بن کر سمجھاؤں گا۔ اللہ آپ سب کو محفوظ رکھے۔
Comments
Post a Comment