### ڈرتے ہوئے امیر بننے والا جاپانی ٹریڈر: بیبیریون کی زندگی کی دلچسپ کہانی، جو سٹاک مارکیٹ کی دنیا میں خوف کو اپنی طاقت بنا کر اربوں کمایا اور لیجنڈ بن گیا

 ### ڈرتے ہوئے امیر بننے والا جاپانی ٹریڈر: بیبیریون کی زندگی کی دلچسپ کہانی، جو سٹاک مارکیٹ کی دنیا میں خوف کو اپنی طاقت بنا کر اربوں کمایا اور لیجنڈ بن گیا


بطور ایک مصنف جو مالیاتی کہانیوں اور ٹریڈنگ کی دنیا کی دلچسپی رکھتا ہوں، آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کی کہانی سناتا ہوں جو جاپان کی سٹاک مارکیٹ میں ایک عام طالب علم سے ارب پتی ٹریڈر بنا۔ یہ کہانی ہے بیبیریون کی، جو اپنے خوف اور احتیاط کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا کر کامیاب ہوا۔ بیبیریون کا اصل نام شاید کبھی سامنے نہ آیا ہو، لیکن اس کا تخلص "بیبیریون" جاپانی لفظ "بیبیرُو" سے نکلا ہے، جو ایک بزدل یا خوفزدہ شخص کو بیان کرتا ہے۔ یہ کہانی نہ صرف ٹریڈنگ کی تکنیکوں کی ہے بلکہ زندگی کی جدوجہد، دوستیوں، دھوکہ دہی اور ذہنی صحت کی اہمیت کی بھی ہے۔ آئیے قدم بہ قدم اس کی زندگی کو دیکھتے ہیں، جہاں ہر اہم لفظ اور تصور کو تفصیل سے سمجھاتے ہوئے مثالیں دیں گے تاکہ آپ کو مکمل طور پر واضح ہو جائے۔


#### بیبیریون کی ابتدائی جدوجہد: کالج کا طالب علم جو ناکامی سے خوفزدہ تھا

سال 2000 میں جاپان کی سٹاک اور ایکسچینج مارکیٹس بہت غیر مستحکم تھیں۔ "غیر مستحکم" کا مطلب ہے کہ مارکیٹ کی قیمتیں تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھیں، جیسے ایک کشتی جو طوفان میں ڈول رہی ہو۔ حکومت نے ایمرجنسی اقدامات کا اعلان کیا تاکہ مارکیٹ کو مستحکم کیا جا سکے۔ اس وقت بیبیریون ایک کالج کا طالب علم تھا جو گریجویشن کے قریب تھا اور اسے انٹرن شپ کی تلاش تھی۔ "انٹرن شپ" ایک قسم کی تربیت ہوتی ہے جو کمپنی میں نوکری کی تیاری کے لیے کی جاتی ہے۔ وہ غریب تھا اور اس کے پاس صرف چند ماہ تھے کہ کوئی نوکری یا انٹرن شپ مل جائے، ورنہ وہ بے روزگار ہو جاتا۔


بیبیریون نے 1999 میں ورچوئل ٹریڈنگ شروع کی، یعنی خیالی پیسوں سے سٹاک خریدنے کی پریکٹس۔ چھ ماہ بعد اس نے اپنے والدین سے قرض لے کر پہلا حقیقی سٹاک خریدا۔ خزاں 2000 تک اس کے پاس تقریباً 30 لاکھ ین (جاپانی کرنسی) تھے۔ شروع میں وہ خوش قسمتی سے جیت رہا تھا، لیکن ایک بڑی رپورٹ نے سب بدل دیا۔ اوریکو نامی کمپنی، جو جاپان کی بڑی کریڈٹ کمپنی تھی، بحران میں پھنس گئی۔ "کریڈٹ کمپنی" وہ ہوتی ہے جو لوگوں کو قرض دیتی ہے، جیسے بینک کارڈ کمپنیاں۔ ٹیک سٹاک ببل (ایک قسم کا مالیاتی بلبلا جہاں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قیمتیں غیر حقیقی طور پر بڑھ جاتی ہیں) پھٹنے سے لوگوں کی لائف سیونگز ختم ہو گئیں اور کمپنیاں دیوالیہ ہوئیں۔ اوریکو کا سٹاک ایک ماہ میں 26.5 فیصد گر گیا۔


بیبیریون نے سوچا کہ یہ ڈپ (قیمت میں کمی) خریدنے کا موقع ہے، تو اس نے خریدا۔ لیکن معیشت مزید خراب ہوئی اور سٹاک 76 فیصد گر گیا۔ وہ گھبرا کر بیچتا رہا اور تقریباً 5 لاکھ ین کا نقصان ہوا۔ یہ درد اسے یاد رہا اور اس نے ٹریڈنگ کو سنجیدہ لینا چھوڑ دیا۔ اب وہ انٹرن شپ پر فوکس کر رہا تھا، لیکن جاپان ریسیشن (معاشی تنزلی) میں تھا، جہاں نوکریاں کم تھیں۔ اس کا ایک کلاس میٹ ٹاکاڈانوبابا ٹرین سٹیشن پر خودکشی کر گیا کیونکہ انٹرن شپ نہ ملی۔ بیبیریون نے کہا کہ کمپنیاں دیوالیہ ہو جاتی ہیں، ریسیشن میں لوگ نوکریاں کھو دیتے ہیں، تو اس نے پروفیشنل جواری (ٹریڈر) بننے کا فیصلہ کیا۔


#### 2چینل کی دریافت اور ٹریڈنگ کی نئی دنیا

دسمبر 2002 میں بیبیریون نے 2چینل نامی آن لائن فورم دریافت کیا، جو ایک جاپانی ویب سائٹ تھی جہاں لوگ بغیر نام کے بات چیت کرتے تھے۔ یہ اس کی پسندیدہ پاپ گروپ مورننگ میوزومے کے فین بورڈ سے شروع ہوا، پھر وہ سٹاک مارکیٹ بورڈ پر پہنچا۔ وہاں ایک شخص سی آئی ایس کا پوسٹ دیکھا جو اس کی زندگی بدل گیا۔ "سی آئی ایس" ایک ٹریڈر تھا جو نقصان میں تھا۔ بیبیریون نے دسمبر 2002 میں پہلی آف لائن میٹ اپ میں شرکت کی، جہاں ٹریڈرز شراب پی کر بات چیت کرتے تھے۔ یہ اس کی پہلی حقیقی دوستی تھی۔ سی آئی ایس نے بعد میں اپنی کتاب میں لکھا کہ اگر یہ میٹ اپ نہ ہوتی تو وہ ٹریڈنگ چھوڑ دیتا۔


بیبیریون کا تخلص "بیبیریون" اس کے بزدلانہ مزاج سے آیا، یعنی وہ خطرہ مول لینے سے ڈرتا تھا۔ وہ شوگی (جاپانی شطرنج) کھیلتا تھا جو توجہ کی مشق تھی۔ اس نے چارٹ انڈیکیٹرز استعمال کیے، جیسے فائیو ڈے اور ٹوینٹی فائیو ڈے موونگ ایوریج (قیمت کی اوسط جو پچھلے دنوں کی بنیاد پر ہوتی ہے) اور والیوم (ٹریڈ کی مقدار)۔ وہ صرف قیمت کی حرکت پر ٹریڈ کرتا تھا، نہ کہ کمپنی کی بنیادوں پر۔ مثال کے طور پر، اگر ایک سٹاک کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہو تو وہ خریدتا، چاہے کمپنی کمزور ہو۔ وہ صرف چھوٹی کمپنیوں (سمال کیپس) اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس (ایمریجنگ سٹاکس) پر فوکس کرتا تھا، جہاں قیمت کی حرکت بڑی ہوتی تھی۔ وہ کبھی شارٹ سیلنگ (قیمت گرنے پر بیچنا) یا مارجن ٹریڈنگ (قرض لے کر ٹریڈ) نہیں کرتا تھا۔


#### سی آئی ایس کی mentorship اور کامیابی کی شروعات

بیبیریون نے سی آئی ایس کو ٹریڈنگ سکھائی، جو شروع میں بنیادوں پر ٹریڈ کرتا تھا (یعنی اچھی کمپنیاں سستی خریدنا)۔ مثال: ڈائیڈو ڈرینکو نامی کمپنی، جو وینڈنگ مشین کمپنی تھی، ٹاپکس انڈیکس میں شامل ہونے والی تھی۔ "ٹاپکس" جاپان کی بڑی کمپنیوں کا انڈیکس ہے، جیسے ایس اینڈ پی 500۔ جب کوئی کمپنی شامل ہوتی تو فنڈز خود بخود خریدتے، قیمت بڑھ جاتی۔ بیبیریون اور سی آئی ایس نے مل کر ایسے ٹریڈز کیے۔ بیبیریون کی احتیاط سی آئی ایس کی جارحیت سے ملی اور دونوں نے پیسے کمائے۔


#### رقابت اور ذہنی دباؤ: گرمی 2003 کا مقابلہ

گرمی 2003 میں مارکیٹ بُل (بڑھتی ہوئی) تھی۔ سی آئی ایس نے یو او اے کی حکمت عملی اپنائی، جو مارکیٹ کی مثبت سمت پر سوار ہونے کی تھی۔ بیبیریون نے اپنی حکمت عملی بہتر کی: (1) ٹاپکس ایڈیشن کمپنیاں خریدنا، (2) غیر ملکی اداروں کی خریداری کا سامنے آنا، (3) ایمریجنگ شاٹ گن۔ "ایمریجنگ شاٹ گن" میں وہ انڈیکس میں کراس (موونگ ایوریج کا ملنا) دیکھ کر 10 سٹاکس خریدتا، سٹاپ لاس (نقصان روکنے کا آرڈر) لگاتا۔ مثال: اگر 10 میں سے 2-3 بڑھ جائیں تو منافع ہوتا، جیسے شاٹ گن سے چند گولیاں نشانہ لگنا۔ وہ مختلف انڈسٹریز سے سٹاکس منتخب کرتا تاکہ خطرہ پھیلے۔


وہ مقابلہ کرتے رہے، لیکن دسمبر 2003 میں بی این ایف نامی ٹریڈر ملا، جو ارب پتی تھا۔ یہ "لیجنڈری فروٹ پارلر میٹ اپ" کہلایا۔ بیبیریون اور سی آئی ایس متاثر ہوئے۔


#### بحران اور ریٹائرمنٹ: 2004-2005 کا دور

2004 میں مارکیٹ لیم (غیر واضح سمت کی) ہو گئی۔ بیبیریون کی حکمت عملی فیل ہوئی۔ سی آئی ایس اور بی این ایف آگے نکل گئے۔ بیبیریون نے مارچ 2005 میں ٹریڈنگ چھوڑ دی، ڈپریشن میں چلا گیا۔ وہ ٹوکیو میں گھومتا رہا، ہابیز (جیسے کھانا اور ٹور گائیڈ سرٹیفکیٹ) اپنائے۔ مگر مارکیٹ بُل رن شروع ہو گئی اور اس کے دوست اربوں کمائے۔ مثال: میزوہو سیکیورٹی کی غلطی سے بی این ایف اور سی آئی ایس نے لاکھوں کمائے۔ بیبیریون 40 کروڑ ین پر رک گیا جبکہ سی آئی ایس 300 کروڑ اور بی این ایف 1000 کروڑ پہنچ گئے۔


#### واپسی اور لیجنڈری پرفارمنس: 2006 کا کم بیک

جنوری 2006 میں لائیو ڈور اسکینڈل سے مارکیٹ گرا۔ بیبیریون نے اپارٹمنٹ خریدا اور محدود پیسوں سے ٹریڈ شروع کیا۔ ستمبر-اکتوبر 2006 میں ایمریجنگ انڈیکس میں کراس دیکھ کر شاٹ گن کی۔ وہ روزانہ 7-21 فیصد کماتا رہا، نقصان کاٹتا رہا۔ دو مہینوں میں 7.2 کروڑ سے 20.4 کروڑ پہنچا۔ یہ "ایمریجنگ گاڈ" کی کہانی بنی۔


#### اختتام اور وراثت

2008 میں بیبیریون نے ٹریڈنگ چھوڑ دی، لیکن سی آئی ایس کے ساتھ کیسینو کھولا۔ اب وہ چند ارب ین کے مالک ہیں۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ خوف کو طاقت بنایا جا سکتا ہے، لیکن دباؤ ذہنی صحت کو تباہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ ٹریڈنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو احتیاط اور صبر کو اپنائیں، جیسے بیبیریون نے کیا۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔