# دنیا کا سب سے بڑا سکیم کیس: چن ژہی کی پراسرار زندگی، کرپٹو کرنسی فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کی تاریک حقیقت

 # دنیا کا سب سے بڑا سکیم کیس: چن ژہی کی پراسرار زندگی، کرپٹو کرنسی فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کی تاریک حقیقت


بطور ایک تجزیہ کار اور تحقیقی مصنف، میں نے متعدد مالیاتی جرائم اور بین الاقوامی سکیموں پر تحقیق کی ہے۔ آج ہم ایک ایسے کیس کی بات کریں گے جو نہ صرف مالیاتی دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے بلکہ اس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔ یہ کیس 2025 میں سامنے آیا اور ایک 37 سالہ شخص چن ژہی کی کہانی ہے، جو چار ملکوں – چین، امریکہ، برطانیہ اور کمبوڈیا – کے اربوں روپے لوٹ کر پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ آٹھ بڑی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس کے پیچھے ہیں، لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ یہ صرف ایک فراڈ کی کہانی نہیں، بلکہ ایک خوفناک حقیقت ہے جو انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور سیاسی کرپشن کی گہرائیوں کو چھوتی ہے۔ آئیے اس کی مکمل تفصیلات کو قدم بہ قدم سمجھتے ہیں، مثالوں کے ساتھ، تاکہ ہر بات واضح ہو جائے۔


### چن ژہی کی ابتدائی زندگی اور کاروباری آغاز

چن ژہی کا جنم 1987 میں چین کے فوجیان صوبے کے ایک چھوٹے سے شہر شاؤ میں ہوا۔ اس کا خاندان مالی طور پر کمزور تھا، یعنی ماں باپ کی آمدنی اتنی نہیں تھی کہ وہ آسائشیں حاصل کر سکتے۔ مثال کے طور پر، ایسے خاندانوں میں بچے اکثر سکول کی بجائے خاندانی کاروبار میں مدد کرتے ہیں۔ چن ژہی بھی بچپن سے ہی کاروباری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتا تھا۔ وہ لوگوں سے کاروبار کی باتیں کرتا اور خاندانی چھوٹے کام کاج میں مدد دیتا۔ جوانی میں اس نے فوجیان سے ہی اپنا پہلا کاروبار شروع کیا۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں، جب انٹرنیٹ ٹیکنالوجی فوجیان میں پہنچی، تو اس نے ایک انٹرنیٹ کیفے کھولا۔ یہ ایک چھوٹا سا کاروبار تھا، جہاں لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے تھے، لیکن اس کا وژن بہت بڑا تھا۔


اس نے کیفے کو توسیع دیتے ہوئے آن لائن گیمنگ سنٹرز کھولے، جہاں لوگ رات بھر گیمز کھیلتے رہتے۔ مثال کے طور پر، آج کل کے گیمنگ کیفے جیسے جہاں نوجوان راتوں کو بیٹھ کر آن لائن گیمز کھیلتے ہیں، ویسے ہی اس نے شروع کیا اور اچھا منافع کمایا۔ دو تین سال بعد، اس نے ڈیٹا ٹریڈنگ شروع کی، یعنی ڈیٹا کی خرید و فروخت۔ پھر ایک میچ میکنگ ویب سائٹ بنائی، جو لوگوں کو شادی کے لیے جوڑنے کا کام کرتی تھی، جیسے آج کی شادی ڈاٹ کام۔ اس کے علاوہ ایک گیمنگ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ بھی بنائی۔ یہ سب انٹرنیٹ پر مبنی کاروبار تھے۔ سب سے بڑی کامیابی اسے چین کے مشہور گیم "لیجنڈ" کے لیے پرائیویٹ سرورز بنا کر ملی، جہاں لوگ گیم کھیلتے تھے۔ یہ اس کی پہلی بڑی کامیابی تھی، جس سے وہ فوجیان میں ایک مشہور تاجر بن گیا۔


### کمبوڈیا کی طرف منتقلی اور ریئل اسٹیٹ کا آغاز

2010 کے آخر یا 2011 کے شروع میں، چن ژہی نے چین چھوڑ کر کمبوڈیا کا رخ کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چین کا ریئل اسٹیٹ مارکیٹ بہت گرم تھا، یعنی عمارتیں اور تعمیرات بہت زیادہ ہو رہی تھیں، قیمتوں میں اضافہ تھا، اور مواقع کم تھے۔ مثال کے طور پر، جیسے آج ہندوستان کے بڑے شہروں میں پراپرٹی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ویسے ہی چین میں تھا۔ کمبوڈیا میں مواقع دیکھے، خاص طور پر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی وجہ سے چینی سرمایہ کاری بڑھ رہی تھی۔ کمبوڈیا میں چینی سیاح اور جواری آ رہے تھے، کیونکہ چین میں جوا غیر قانونی ہے، لیکن کمبوڈیا میں قانونی۔


وہ سہانوکویل پہنچا، جو ایک ساحلی شہر تھا، جو پہلے مچھیروں کا تھا، لیکن اب چینی کیسینوز کا مرکز بن چکا تھا۔ یہاں کوئی پابندی نہیں تھی، کوئی بھی کاروبار شروع کر سکتا تھا۔ چن ژہی نے ریئل اسٹیٹ میں قدم رکھا۔ اس کا پہلا سرمایہ پراسرار تھا: اس نے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے ایک خط دیا کہ اس کے ایک نامعلوم چچا نے 2 ملین ڈالر بھیجے ہیں۔ یہ پیسہ کہاں سے آیا، کبھی ثابت نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر، یہ ایک لانڈرنگ کا طریقہ ہو سکتا ہے، جہاں پیسہ غیر قانونی ذرائع سے آتا ہے لیکن کاغذات پر قانونی دکھایا جاتا ہے۔


کمبوڈیا میں زمین خریدنے کے لیے شہریت درکار تھی، تو 2014 میں اس نے چینی شہریت چھوڑ کر کمبوڈیائی شہریت حاصل کی، اور مبینہ طور پر 3 لاکھ ڈالر کا عطیہ حکومت کو دیا۔ 2015 میں، صرف 27 سال کی عمر میں، اس نے پرنس ہولڈنگ گروپ قائم کیا، جو ریئل اسٹیٹ، تعمیرات اور لگژری مالز پر توجہ دیتا تھا۔ اس نے فنوم پین میں پراجیکٹس شروع کیے۔


### سیاسی روابط اور توسیع

2015 سے 2019 تک، پرنس گروپ نے کمبوڈیائی حکومت سے کئی معاہدے کیے۔ چن ژہی نے سیاسی روابط مضبوط کیے۔ 2017 میں، وہ کمبوڈیا کی وزارت داخلہ کا مشیر بنا دیا گیا، جو ایک اعلیٰ عہدہ تھا۔ اسی سال، وزارت داخلہ کے وزیر کے بیٹے سر سوکھا کے ساتھ مل کر جینبی کیسینو کمپنی بنائی۔ مثال کے طور پر، یہ سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال ہے، جیسے کوئی تاجر سیاست دانوں کے ساتھ شراکت کر کے اپنا کاروبار بڑھاتا ہے۔


2018 میں، اس نے پرنس بینک قائم کیا اور کمرشل بینکنگ لائسنس حاصل کیا، مبینہ طور پر بڑی رشوتیں دے کر، جیسے ایک لگژری یاٹ اور گھڑیاں۔ اسی سال، اس نے قبرص کا پاسپورٹ 5 ملین ڈالر کے عطیہ سے حاصل کیا، جو ٹیکس ہیون ہے اور یورپی یونین تک رسائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ٹیکس ہیون ممالک جیسے کیریبئین آئی لینڈز، جہاں امیر لوگ ٹیکس بچاتے ہیں۔


2019 میں، کمبوڈیا کا ریئل اسٹیٹ ببل پھٹا، آن لائن جوا پر پابندی لگی، اور 4.5 لاکھ چینی شہری واپس چلے گئے۔ کئی کاروبار بند ہوئے، لیکن چن ژہی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس نے لندن میں 12 ملین پاؤنڈ کی حویلی، 95 ملین پاؤنڈ کی عمارت، نیویارک میں پراپرٹی، پرائیویٹ جیٹ، سپر یاٹ اور پکاسو کی پینٹنگ خریدی۔


### اعزازات اور مزید روابط

2020 میں، کمبوڈیا کے بادشاہ نوروڈوم سہامونی نے اسے "نیوک اوکا" کا اعزاز دیا، جو ملک کا اعلیٰ اعزاز ہے۔ مبینہ طور پر، اس کے لیے 5 لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا۔ اسی سال، اسے ڈپلومیٹک پاسپورٹ ملا۔ اب اس کے پاس چین، کمبوڈیا، وانواتو، قبرص اور سینٹ لوسیا کے پاسپورٹ تھے۔ اس کے روابط کمبوڈیا کے سابق وزیر اعظم ہن سین اور دیگر اعلیٰ افسران سے تھے۔


### تاریک حقیقت: پگ بچنگ سکیم اور انسانی اسمگلنگ

چن ژہی کا اصل کاروبار کرپٹو کرنسی فراڈ، پگ بچنگ سکیم اور جبری مشقت تھا۔ پگ بچنگ ایک چینی فراڈ تکنیک ہے، جہاں سکیمر جعلی اکاؤنٹس بنا کر، خاص طور پر ڈیٹنگ ایپس پر، لوگوں سے ماہینوں رومانٹک تعلقات قائم کرتے ہیں۔ اعتماد بننے کے بعد، وہ کرپٹو میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جیسے کوئی آن لائن بوائے فرینڈ بن کر پیسے لوٹ لے۔


2015 سے 2020 تک، پرنس گروپ نے کمبوڈیا میں 10 کمپاؤنڈ بنائے، جہاں ہزاروں لوگوں کو جبری طور پر رکھا جاتا تھا۔ یہ لوگ انسانی اسمگلنگ کے ذریعے لائے جاتے تھے۔ مشہور کمپاؤنڈ گولڈن فارچون ریزورٹ ورلڈ تھا، جو فنوم پین کے قریب تھا۔ یہاں دیواریں اونچی، خاردار تاریں اور گارڈز تھے۔ لوگوں کو پیٹا جاتا، بجلی کے جھٹکے دیے جاتے۔ ورکرز زیادہ تر چینی، ویتنامی، ملائیشین، برطانوی اور امریکی تھے، جو جعلی نوکریوں کے اشتہاروں سے لائے جاتے تھے۔ پہنچتے ہی پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے۔ ہر دن 50 متاثرین کو سکیم کرنے کا ہدف ہوتا۔


یہاں فون فارمز چلتے تھے، جہاں 1250 موبائل اور 76,000 سوشل میڈیا اکاؤنٹس تھے۔ ایک دن میں 30 ملین ڈالر کا منافع ہوا۔ 100 سے زیادہ شیل کمپنیاں 12 ملکوں میں بنائیں، جیسے ہانگ کانگ اور امریکہ۔ کرپٹو ایکسچینجز، مائننگ فارمز اور آن لائن جوا پلیٹ فارمز بھی چلائے۔


### کرپشن کا جال

یہ سب بڑے پیمانے پر رشوتوں سے ممکن تھا۔ مثال کے طور پر، ایک ایسوسی ایٹ نے 3 ملین ڈالر کا یاٹ ایک افسر کو دیا۔ چینی وزارت پبلک سیکیورٹی اور وزارت اسٹیٹ سیکیورٹی کے افسران کو رشوتیں دی جاتیں، جو پیشگی وارننگ دیتے۔ یہ افسران اپنے ہی شہریوں کو جان بوجھ کر بھیجتے۔ یہ ایک سٹیٹ پروٹیکٹڈ آپریشن تھا۔


### خاتمہ اور غائب ہونا

2023 میں، ایک 25 سالہ شخص ای منگڈالی کا قتل ہوا، جو ایک کمپاؤنڈ میں کام کرتا تھا۔ چینی عدالت نے پرنس گروپ کو 700 ملین ڈالر کی غیر قانونی آمدنی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بیجنگ نے ٹاسک فورس بنائی۔ اپریل 2023 میں، چن ژہی امریکہ فرار ہوا۔ 2024 میں، ایف بی آئی، چینی اور برطانوی ایجنسیاں متحرک ہوئیں۔


اکتوبر 2025 میں، امریکہ نے وائر فراڈ، سازش اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے اور 127,271 بٹ کوائنز (15 بلین ڈالر) ضبط کیے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی بٹ کوائن ضبطی ہے۔ یو ایس ٹریژری نے پرنس گروپ کو ٹرانس نیشنل کرمنل آرگنائزیشن قرار دیا۔ برطانیہ نے 172 ملین ڈالر کی پراپرٹیز فریز کیں۔ سنگاپور نے 115 ملین ڈالر کے اثاثے ضبط کیے۔


چن ژہی 18 اکتوبر 2025 سے غائب ہے۔ اس کے ایسوسی ایٹس سے تفتیش جاری ہے۔ کمبوڈیا نے اس کی شہریت منسوخ کر دی۔ پرنس بینک کے اکاؤنٹس فریز ہوئے، عام لوگوں کا پیسہ پھنس گیا۔


### نتیجہ اور سبق

یہ کیس سیاسی روابط، طاقت، بین الاقوامی پیچیدگیوں اور ہر سطح پر کرپشن کی وجہ سے دیر تک چلا۔ مثال کے طور پر، اگر ابتدائی 2 ملین ڈالر کی تحقیقات ہوتی تو یہ روکا جا سکتا۔ ایسے لوگ ہمیشہ آتے رہیں گے جب تک کرپشن ہے۔ آپ کی رائے کیا ہے؟ یہ ایک انتباہ ہے کہ مالیاتی لالچ انسانی زندگیوں کو تباہ کر سکتی ہے۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔