اسٹریٹجی کمپنی کا ایس ٹی آر سی شیئرز: گیارہ پوائنٹ پانچ فیصد سالانہ منافع کیوں جھوٹ نہیں بلکہ بیت کوائن کی طاقت سے چلنے والی حقیقی کامیابی ہے – ایک استاد کی طرح بچوں سمیت سب کے لیے آسان مثالوں کے ساتھ مکمل اور سادہ وضاحت
اسٹریٹجی کمپنی کا ایس ٹی آر سی شیئرز: گیارہ پوائنٹ پانچ فیصد سالانہ منافع کیوں جھوٹ نہیں بلکہ بیت کوائن کی طاقت سے چلنے والی حقیقی کامیابی ہے – ایک استاد کی طرح بچوں سمیت سب کے لیے آسان مثالوں کے ساتھ مکمل اور سادہ وضاحت
سلام دوستو! میں آپ کا دوست اور استاد ہوں۔ آج ہم ایک دلچسپ کہانی سنتے ہیں جو بیت کوائن نامی ایک خاص چیز سے جڑی ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اسٹریٹجی کمپنی کا ایس ٹی آر سی نام کا شیئر ایک دھوکہ ہے، ایک پونزی سکیم ہے، ایک پریمڈ سکیم ہے کیونکہ اس کا سالانہ منافع گیارہ پوائنٹ پانچ فیصد ہے اور یہ بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ بالکل جھوٹ نہیں ہے۔ یہ بیت کوائن کی طاقت کی وجہ سے چلتا ہے۔ آئیے ہم قدم بہ قدم، بہت آسان الفاظ میں، بچوں کی طرح سمجھنے والے طریقے سے بات کرتے ہیں۔ ہر بات کو مثال دے کر کھول کر بتاؤں گا تاکہ کوئی بھی چھوٹا بچہ یا بڑا شخص آسانی سے سمجھ جائے۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لو کہ پونزی سکیم کیا ہوتی ہے۔ پونزی سکیم ایک دھوکہ کا کھیل ہے۔ تصور کرو ایک لڑکا کہتا ہے، "مجھے ایک روپیہ دو، میں تمہیں دو روپے واپس دوں گا۔" پہلا آدمی ایک روپیہ دیتا ہے۔ لڑکا دوسرے آدمی سے دو روپے لیتا ہے اور پہلے کو دو روپے دے دیتا ہے۔ پھر تیسرا آدمی آتا ہے، اس سے تین روپے لیتا ہے اور دوسرے کو دو روپے دے دیتا ہے۔ یہ چلتا رہتا ہے جب تک نئے لوگ آتے رہتے ہیں۔ جب نئے لوگ ختم ہو جاتے ہیں تو سب کا پیسہ ختم اور آخر والے لوگ روتے رہ جاتے ہیں۔ یہ دھوکہ ہے کیونکہ کوئی حقیقی کام نہیں ہوتا، صرف نئے لوگوں کا پیسہ پرانوں کو دیا جاتا ہے۔
اب اسٹریٹجی کمپنی کا ایس ٹی آر سی بالکل اس سے الگ ہے۔ ایس ٹی آر سی ایک قسم کا ڈیجیٹل کریڈٹ ہے۔ یعنی کمپنی آپ سے پیسہ مانگتی ہے اور کہتی ہے، "مجھے سو ڈالر دو، میں تمہیں ہر سال گیارہ پوائنٹ پانچ روپے ہر سو ڈالر پر دیتا رہوں گا۔" یہ منافع ہمیشہ ملتا رہے گا جب تک تم شیئر رکھو گے۔ تم چاہو تو کسی بھی وقت شیئر بیچ سکتے ہو اور اپنا پیسہ واپس لے سکتے ہو۔ اب یہ پیسہ کمپنی کیا کرتی ہے؟ یہ بیت کوائن خریدتی ہے۔
بیت کوائن کیا ہے؟ بیت کوائن ایک خاص ڈیجیٹل پیسہ ہے جس کی کل مقدار ہمیشہ کے لیے صرف دو کروڑ دس لاکھ ہے۔ کوئی بھی اس سے زیادہ نہیں بنا سکتا۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے ایک باغ میں صرف دو کروڑ دس لاکھ پھل ہوں اور کوئی نئی جگہ سے پھل نہ آ سکیں۔ جیسے جیسے لوگ اسے چاہتے ہیں، اس کی قیمت بڑھتی جاتی ہے۔ ڈالر یا روپیہ تو حکومت جتنا چاہے چھاپ سکتی ہے، اس لیے اس کی قیمت گرتی رہتی ہے۔
مثال سے سمجھو۔ فرض کرو تم ایک بچے ہو۔ تمہارے پاس سو روپے ہیں۔ تم یہ سو روپے ایک دوست کو دیتے ہو اور کہتے ہو، "اس سے ایک آم کا درخت خرید لو۔" دوست درخت خریدتا ہے۔ درخت ہر سال گیارہ روپے کے آم دیتا ہے جو تمہیں ملتے ہیں۔ ساتھ ہی درخت بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کی قیمت سو سے بڑھ کر ایک سو اسی روپے ہو جاتی ہے۔ تمہیں ہر سال گیارہ روپے ملتے رہتے ہیں اور دوست کو درخت کی قیمت بڑھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ یہ دھوکہ نہیں ہے کیونکہ درخت حقیقی ہے اور اس کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ بالکل ایسا ہی اسٹریٹجی کمپنی کرتی ہے۔ وہ تمہارا سو ڈالر لے کر بیت کوائن خریدتی ہے۔ تمہیں ہر سال گیارہ پوائنٹ پانچ فیصد منافع ملتا رہتا ہے اور بیت کوائن کی قیمت بڑھنے سے کمپنی کو فائدہ ہوتا ہے۔
اب دیکھو یہ گیارہ پوائنٹ پانچ فیصد کیسے کام کرتا ہے۔ ایک شیئر کی قیمت تقریباً سو ڈالر ہے۔ کمپنی کہتی ہے، "اس پر ہر سال گیارہ پوائنٹ پانچ ڈالر دوں گی۔" یعنی سو ڈالر پر گیارہ پوائنٹ پانچ ڈالر سالانہ۔ یہ منافع ہمیشہ ملتا رہے گا۔ لوگ اسے خریدتے ہیں کیونکہ بینک میں پیسہ رکھنے پر صرف پوائنٹ ایک فیصد بھی نہیں ملتا۔ یہاں گیارہ پوائنٹ پانچ فیصد مل رہا ہے۔ لوگ خریدتے ہیں تو شیئر کی قیمت سو کے قریب رہتی ہے اور ٹریڈنگ زیادہ ہوتی ہے۔ پہلے ٹریڈنگ کم تھی، اب لاکھوں ڈالر کی ٹریڈنگ ہو رہی ہے۔ یعنی جب تمہیں پیسہ چاہیے تو کوئی نہ کوئی خریدنے کو تیار مل جاتا ہے۔ بالکل جیسے تم اپنے بچت کے پیسے سے شادی یا سکول کے فیس کے لیے تیار ہو تو یہ شیئر بیچ سکتے ہو۔
کمپنی یہ پیسہ لے کر بیت کوائن خریدتی ہے۔ مثال لو۔ کمپنی دس کروڑ ڈالر کا ایس ٹی آر سی جاری کرتی ہے۔ تم سب مل کر دس کروڑ دیتے ہو۔ کمپنی دس کروڑ سے بیت کوائن خریدتی ہے۔ اگر بیت کوائن سالانہ اکیس فیصد بڑھتا ہے تو تین سال بعد وہ بیت کوائن اٹھائیس کروڑ کا ہو جاتا ہے۔ کمپنی نے تمہیں تین سال میں تقریباً تین کروڑ اٹھائیس لاکھ ڈالر منافع دیا۔ پھر بھی کمپنی کو باقی بچتا ہے کیونکہ بیت کوائن کی قیمت زیادہ بڑھی۔ یہ فائدہ کمپنی کے اصل شیئر والوں کو جاتا ہے۔
اب اگر کوئی کہے کہ بیت کوائن کی قیمت گر بھی سکتی ہے؟ ہاں، گر سکتی ہے۔ لیکن کمپنی نے سوچا ہے۔ اس کے پاس ڈھائی ارب ڈالر نقد پیسہ ہے جو دو سال سے زیادہ کا منافع دے سکتا ہے۔ اور اس کے پاس پچاس ارب ڈالر سے زیادہ کا بیت کوائن ہے جو پچپن سال سے زیادہ کا منافع دے سکتا ہے۔ یعنی اگر تھوڑا گر بھی جائے تو کمپنی دو سال تک آرام سے منافع دے سکتی ہے۔
یہ بالکل گھر خریدنے جیسا ہے۔ تصور کرو تم چھ لاکھ پچیس ہزار کا گھر خریدتے ہو۔ بیس فیصد یعنی ایک لاکھ پچیس ہزار اپنا اور پانچ لاکھ کا قرض لیتے ہو۔ قرض پر چھ فیصد سود دیتے ہو۔ تیس سال میں تم سود کے طور پر تقریباً پانچ لاکھ اناسی ہزار روپے دیتے ہو۔ لیکن گھر کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں گھر کی قیمت ہمیشہ بڑھتی ہے۔ بیت کوائن بھی ایسا ہی ہے لیکن اس کی مقدار ہمیشہ محدود ہے۔ گھر تو جتنا چاہیں بنا سکتے ہیں، بیت کوائن نہیں۔ اس لیے اس کی قیمت زیادہ بڑھنے کا امکان ہے۔
لوگ ایس ٹی آر سی خریدتے ہیں کیونکہ وہ استحکام چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا پیسہ بینک میں بیٹھا رہے اور بینک چار فیصد کمائے اور تمہیں پوائنٹ ایک دے۔ یہاں کمپنی بیت کوائن کی بڑھتی قیمت سے فائدہ اٹھاتی ہے اور تمہیں گیارہ پوائنٹ پانچ دے دیتی ہے۔ کمپنی نو پوائنٹ پانچ فیصد رکھتی ہے۔ دونوں کو فائدہ۔
اب ایک بڑی بات۔ ڈالر یا روپیہ کی کہانی۔ ڈالر کی قیمت گرتی رہتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک ڈالر سے سولہ پوائنٹ نو بیت کوائن خریدے جا سکتے تھے۔ اب ایک ڈالر سے صرف ایک ہزار چار سو سات سو ساتھی خریدے جاتے ہیں۔ جیسے جیسے ڈالر گرتا ہے، بیت کوائن بڑھتا ہے۔ اگر ڈالر ختم ہو جائے تو بھی تمہارا سو ڈالر والا شیئر سو ڈالر ہی رہے گا لیکن وہ سو ڈالر بہت کم بیت کوائن خرید سکے گا۔ اس لیے لمبے عرصے کے لیے بیت کوائن خود رکھنا بہتر ہے۔ ایس ٹی آر سی قلیل مدتی کے لیے اچھا ہے جب تمہیں مستقل منافع چاہیے۔
کمپنی ہر روز مزید بیت کوائن خریدتی رہتی ہے۔ یہ لوگوں سے پیسہ لے کر جو بیت کوائن بیچنا چاہتے ہیں ان سے خریدتی ہے۔ کوئی زبردستی نہیں۔ بالکل جیسے تم اپنا پرانا کھلونا بیچو اور کوئی خرید لے۔ یہ دھوکہ نہیں۔
ایک مشہور شخص نے کہا تھا کہ بیت کوائن پونزی سکیم ہے۔ کمپنی کے سربراہ نے جواب دیا کہ بیت کوائن میں کوئی ایک مالک نہیں، کوئی وعدہ نہیں، صرف ایک کھلا نظام ہے۔ ایس ٹی آر سی بھی اسی طرح ہے۔ یہ پونزی نہیں کیونکہ منافع نئے لوگوں کے پیسے سے نہیں، بیت کوائن کی قیمت بڑھنے سے آتا ہے۔
اگر تم بیت کوائن کی محدود مقدار پر یقین رکھتے ہو تو یہ سمجھ لو گے کہ دوسروں کا پیسہ لے کر اسے خریدنا بالکل منطقی ہے۔ جیسے گھر والے کرتے ہیں۔ گھر والے کہیں گے یہ دھوکہ ہے تو صرف اس لیے کہ وہ بیت کوائن نہیں سمجھتے۔
دوستو، یہ کہانی اس لیے ہے کہ تم سمجھو۔ اگر تمہیں مستقل گیارہ پوائنٹ پانچ فیصد منافع چاہیے تو ایس ٹی آر سی دیکھو۔ اگر لمبے عرصے کا بڑا فائدہ چاہیے تو خود بیت کوائن رکھو۔ دونوں میں فائدہ ہے لیکن دھوکہ بالکل نہیں۔ یہ بیت کوائن کی طاقت ہے جو سب کو فائدہ دے رہی ہے۔
اب تم خود سوچو۔ کیا تم اس بات کو سمجھ گئے؟ اگر کوئی سوال ہو تو پوچھو۔ میں ہمیشہ کی طرح آسان الفاظ میں بتاتا رہوں گا۔
Comments
Post a Comment