وارن بفیٹ کا 2026 ریسیشن پورٹ فولیو: گریگ ایبل نے چار مستقل سٹاکس کا اعلان کیا، 64 ارب ڈالر کے حصص کو چھوڑ دیا – ایک سادہ کہانی جو بچوں تک سمجھنے کے لیے استاد کی طرح بیان کی گئی ہے
وارن بفیٹ کا 2026 ریسیشن پورٹ فولیو: گریگ ایبل نے چار مستقل سٹاکس کا اعلان کیا، 64 ارب ڈالر کے حصص کو چھوڑ دیا – ایک سادہ کہانی جو بچوں تک سمجھنے کے لیے استاد کی طرح بیان کی گئی ہے
دوستو، آج میں آپ کو ایک دلچسپ کہانی سناتا ہوں، جیسے سکول میں استاد بچوں کو کہانی سناتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بہت بڑے اور ہوشیار شخص کی جس کا نام وارن بفیٹ ہے۔ وہ دنیا کے سب سے امیر اور سب سے کامیاب سرمایہ کاروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے ایک بڑی کمپنی بنائی جس کا نام برکشائر ہیتھ وے ہے۔ یہ کمپنی ایسے ہے جیسے ایک بہت بڑا خزانہ ہے جس میں پیسے، کمپنیوں کے حصص اور بہت سی چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔
اب 2026 میں وارن بفیٹ نے ریٹائر ہو گئے، یعنی وہ اب کمپنی چلانے والے بڑے باس نہیں رہے۔ ان کی جگہ ایک نئے شخص نے کام سنبھالا جس کا نام گریگ ایبل ہے۔ گریگ ایبل نے اپنا پہلا خط لکھا جو 18 صفحات کا تھا۔ اس خط میں انہوں نے کچھ بہت اہم بات بتائی جو سب کو حیران کر دیتی ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے صرف چار کمپنیوں کے حصص کو "مستقل اور نہ چھوڑنے والے" کہا۔ ان چار کا نام ہے ایپل، امریکن ایکسپریس، کوکا کولا اور موڈیز۔ یہ چار ایسے ہیں جیسے آپ کے گھر میں وہ چار چیزیں جو آپ کبھی نہیں بیچتے، چاہے کوئی بھی حال ہو۔ باقی سب کچھ، یعنی 64 ارب ڈالر کے حصص، انہوں نے اس فہرست میں نہیں ڈالا۔ مطلب یہ کہ یہ 64 ارب ڈالر والے حصص شاید بدلے جا سکتے ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ اب کمپنی کا مستقبل تھوڑا بدلنے والا ہے۔
اب آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں کہ یہ پورٹ فولیو کیا چیز ہے۔ پورٹ فولیو کا مطلب ہے ایک بڑا بیگ جس میں مختلف کمپنیوں کے حصص رکھے ہوں، جیسے آپ کے پاس کھلونے، کتابیں اور کینڈیوں کا بیگ ہو۔ بفیٹ نے دہائیوں سے یہ بیگ بنایا۔ لیکن اب ایبل نے کہا کہ صرف چار چیزیں ہمیشہ رکھی جائیں گی، باقی شاید نئی چیزیں آئیں گی۔ یہ بات پڑھ کر لگتا ہے جیسے بفیٹ نے ایک بڑا خزانہ تیار کیا اور ایبل اب اسے تھوڑا نئی شکل دینے والے ہیں۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں اس بڑے خزانے کی جو بفیٹ نے چھوڑا۔ 2025 کے آخر تک برکشائر ہیتھ وے کے پاس 373 ارب ڈالر نقد پیسے اور خزانے کے بلز تھے۔ یہ اتنا بڑا ہے جیسے اگر آپ کے گھر میں ایک بہت بڑا پگ بیگ ہو جس میں اتنا پیسہ ہو کہ پورا شہر خرید سکتے ہوں۔ یہ پیسہ اتنا زیادہ ہے کہ دنیا کی چار بڑی کمپنیاں ایپل، ایمیزون، الفابیٹ اور مائیکروسافٹ سب کے سب ملا کر بھی اس سے کم پیسہ رکھتی ہیں۔ یہ پیسہ کیسے جمع ہوا؟ بفیٹ نے تین سال میں اسے تین گنا بڑھایا۔ 2022 میں صرف 15 ارب تھا، پھر 167 ارب ہوا، اور پھر 381 ارب تک پہنچا۔ انہوں نے یہ سب پیسہ بنایا بہت سے حصص بیچ کر۔ یعنی جیسے آپ اپنے پرانے کھلونے بیچ کر نئے بچت کرتے ہیں۔ 300 ارب سے زیادہ پیسہ امریکہ کے خزانے کے بلز میں ہے۔ یہ بلز ایسے محفوظ ہیں جیسے بینک میں رکھا پیسہ جو کبھی نہیں ڈوبتا۔ اس سے ہر سال 12 ارب ڈالر بغیر کچھ کیے مل رہے ہیں۔
اب سوچیں، یہ پیسہ کیوں جمع کیا؟ بفیٹ کو لگا کہ مارکیٹ میں بڑا گراوٹ آنے والا ہے، جیسے بارش کے دن میں چھت ٹپکتی ہے تو آپ چھتری تیار رکھتے ہیں۔ ایبل نے بھی کہا کہ یہ پیسہ ایک ہتھیار ہے جو جب دوسرے ڈرتے ہیں تو ہم بہادری سے کام کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2008 میں جب دنیا کا بڑا بحران آیا تو بفیٹ کے پاس صرف 31 ارب پیسہ تھا۔ اس سے انہوں نے گولڈمین سیکس، جنرل الیکٹرک اور بینک آف امریکہ کے ساتھ ڈیل کیں اور 16 ارب ڈالر سے زیادہ فائدہ کمایا۔ اب ان کے پاس اس سے 12 گنا زیادہ پیسہ ہے۔ یعنی جیسے بچہ اپنے پگ بیگ سے بڑا ہو گیا ہو اور اب بڑے بڑے کھلونے خرید سکتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں ان حصص کی جو بفیٹ نے بیچے۔ تین سال سے ہر تین مہینے بعد وہ زیادہ بیچتے رہے۔ 2025 میں اکیلے 24 ارب ڈالر کے حصص بیچے۔ 2024 میں 134 ارب ڈالر۔ سب سے بڑا حصہ ایپل کا تھا۔ ایپل وہ کمپنی ہے جو فون، کمپیوٹر اور گانے بناتی ہے۔ پہلے 900 ملین حصص تھے، اب صرف 228 ملین رہ گئے، یعنی تین چوتھائی بیچ دیے۔ پھر بھی ایپل سب سے بڑا ہے 62 ارب ڈالر کا، یعنی پورے بیگ کا 22.6 فیصد۔ کیوں بیچا؟ کیونکہ ایپل کے حصص مہنگے تھے، 30 گنا زیادہ قیمت پر۔ بفیٹ نے کہا کہ جب مارکیٹ بہت مہنگی ہو تو کچھ بیچ کر محفوظ پیسہ رکھ لو۔ مثال جیسے اگر آپ کا پسندیدہ کھلونا 100 روپے کا ہو جائے لیکن آپ کو لگے کہ کل 50 کا ہو جائے گا تو آپ کچھ بیچ کر بچت کر لو۔
اسی طرح بینک آف امریکہ کے 43 فیصد حصص بیچے۔ بینک وہ جگہ ہے جہاں لوگ پیسہ رکھتے ہیں۔ بحران میں بینک سب سے پہلے مشکل میں پڑتے ہیں۔ بفیٹ نے 2010 میں بحران کے بعد بینک خریدا تھا، اب پہلے بیچ رہے ہیں۔ ایمیزون جو آن لائن شاپنگ کرتی ہے، اس کے 77 فیصد حصص ایک ہی بار میں بیچے۔ لوگ بحران میں کم خریداری کرتے ہیں تو ایسی کمپنیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ڈی آر ہارٹن، کرافٹ ہینز اور دوسری کمپنیاں بھی مکمل بیچ دیں۔ یہ سب ایسے ہیں جیسے آپ اپنے بیگ سے وہ کھلونے نکال لو جو بارش میں خراب ہو سکتے ہیں۔ جنوری میں کرافٹ ہینز کے 27.5 فیصد حصص بیچنے کا اعلان کیا، یعنی 7 سے 8.5 ارب ڈالر۔ ایبل نے خط میں لکھا کہ ہمارا منافع کافی نہیں تھا۔ یعنی اب نئی شروعات۔
اب دیکھیں کہ بفیٹ بیچتے ہوئے کیا خرید رہے تھے۔ یہ بتاتا ہے کہ وہ کس قسم کا بحران دیکھ رہے ہیں۔ چیورون میں 1.2 ارب ڈالر کا اضافہ کیا، اب 19.9 ارب کا حصہ ہے۔ پلس ایک اور تیل کی کمپنی 11 ارب کی۔ کل تیل والے حصص 31 ارب کے۔ عام بحران میں تیل کی کمپنیاں کم ہوتی ہیں کیونکہ لوگ کم گاڑیاں چلاتے ہیں۔ لیکن بفیٹ نے خریدا کیونکہ ایران کے تنازع سے تیل 100 ڈالر سے اوپر ہو گیا۔ تیل کی سپلائی رک سکتی ہے۔ جیسے اگر بارش زیادہ ہو تو سبزیاں مہنگی ہو جائیں تو آپ نے پہلے سے کچھ اسٹور کر لیا ہو۔ یہ عام بحران نہیں، یہ سٹگ فلیشن ہے جہاں مہنگائی اور سست روی دونوں ہوں۔
چب انشورنس میں 870 ملین کا اضافہ، اب 10.7 ارب کا۔ برکشائر اصل میں ایک انشورنس کمپنی ہے۔ انشورنس کا مطلب ہے جیسے آپ گھر کا بیمہ کراتے ہیں، حادثہ ہو یا نہ ہو، ہر مہینے پیسہ دیتے ہیں۔ بحران میں کمزور انشورنس کمپنیاں بند ہو جاتی ہیں تو باقی کو زیادہ پیسہ ملتا ہے۔ یہ پیسہ ہمیشہ آتا رہتا ہے، چاہے معیشت اچھی ہو یا بری۔ الفابیٹ یعنی گوگل میں نئی پوزیشن 4.3 ارب کی خریدی۔ گوگل سرچ انجن ہے جو ہر وقت پیسہ کماتا ہے، چاہے لوگ خریداری کریں یا نہ کریں۔ نیویارک ٹائمز میں 352 ملین کا حصہ خریدا۔ بفیٹ نے 2020 میں سارے اخبار بیچے تھے کیونکہ پرنٹ ختم ہو رہا تھا۔ لیکن نیویارک ٹائمز اب ڈیجیٹل ہے، 10.9 ملین لوگ ہر مہینے 16 ڈالر دیتے ہیں۔ بحران میں لوگ خبریں پڑھنا نہیں چھوڑتے، جیسے عادت کی چیز۔
جو حصص نہیں بدلے وہ بھی کہانی سناتے ہیں۔ کوکا کولا 400 ملین حصص، 1988 سے نہیں بدلے۔ ہر سال 816 ملین ڈالر ڈیوڈنڈ ملتا ہے۔ امریکن ایکسپریس 56 ارب کا، موڈیز 12.6 ارب کا۔ یہ تینوں ایبل نے بھی مستقل کہا۔ یہ کمپنیاں ایسے ہیں جیسے پانی، ہوا اور دودھ، جو بحران میں بھی لوگ استعمال کرتے ہیں۔
اب سب سے بڑا راز انشورنس کا فلوٹ ہے۔ فلوٹ کا مطلب ہے وہ پیسہ جو لوگ بیمہ کی قسط دیتے ہیں اور برکشائر اسے استعمال کرتا ہے جب تک دعویٰ نہ آئے۔ 2025 میں یہ 176 ارب ڈالر کا ہے۔ 1967 میں صرف 16 ملین تھا۔ انشورنس سے 9.5 ارب ڈالر کا منافع ہوا۔ یعنی یہ پیسہ مفت کا نہیں بلکہ برکشائر کو اسے رکھنے کے لیے بھی پیسہ ملتا ہے۔ کل 373 ارب نقد پلس 176 ارب فلوٹ یعنی 549 ارب ڈالر جو کبھی واپس نہیں مانگا جا سکتا۔ یہ طاقت ہے جو کوئی اور نہیں رکھتا۔ 2008 میں 31 ارب سے 16 ارب فائدہ ہوا، اب 18 گنا زیادہ طاقت ہے۔
اب مارکیٹ کیسے ہے؟ بفیٹ کا پسندیدہ پیمانہ ہے امریکہ کی ساری کمپنیوں کی قیمت بمقابلہ ملک کی آمدنی۔ یہ اب 205 سے 220 فیصد ہے، جو تاریخ کا سب سے زیادہ ہے۔ 2000 میں ڈاٹ کام بحران میں 140 تھا۔ اب اس سے 50 سے 60 فیصد زیادہ۔ مطلب اگلے آٹھ سال میں منافع بہت کم ہو گا۔ فروری میں نوکریاں 92 ہزار کم ہوئیں۔ بے روزگاری 4.4 فیصد۔ لوگوں کا اعتماد کم ہے۔ تیل 100 ڈالر سے اوپر۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ بحران قریب ہے۔
اب ایبل نے خط میں 20 سال کا پلان بتایا۔ اپنا سارا تنخواہ کا پیسہ برکشائر کے حصص میں لگائیں گے۔ مارچ میں دوبارہ حصص خریدنا شروع کیا۔ لیکن سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے صرف چار کو مستقل کہا۔ بینک آف امریکہ 28.5 ارب، چیورون 19.9 ارب، چب 10.7 ارب، الفابیٹ 5.5 ارب – یہ 64 ارب ایبل نے نہیں کہا کہ مستقل ہیں۔ مطلب یہ کہ یہ بدل سکتے ہیں۔ بفیٹ اب بھی چیئرمین ہیں لیکن فیصلے اب ایبل کے ہیں۔
تو دوستو، یہ کہانی کا سبق یہ ہے کہ بفیٹ نے تین سال بیچ کر محفوظ کیا، تیل اور انشورنس خریدا، نقد رکھا۔ آپ بھی اپنے پیسے دیکھیں۔ اگر کل مارکیٹ 30 فیصد گر جائے تو کیا آپ بچ سکتے ہیں اور خرید سکتے ہیں یا گھبرا کر بیچ دیں گے؟ یہ 549 ارب کی طاقت برکشائر کو دیتی ہے کہ جب سب ڈرتے ہیں تو وہ بڑی ڈیل کرے۔ ایبل اب یہ 64 ارب کے ساتھ کیا کریں گے، یہ 2026 کی سب سے بڑی کہانی ہے۔
یہ تھی وارن بفیٹ اور گریگ ایبل کی سادہ کہانی، جیسے استاد بچوں کو سمجھاتا ہے۔ ہر بات مثالوں سے، جیسے پگ بیگ، کھلونے، بارش اور بیمہ۔ اب آپ بھی سوچیں، اپنے چھوٹے سے بیگ کو کیسے مضبوط بنائیں۔
Comments
Post a Comment