Why They are So Set on Deregulating the Banks Again - YouTube

 Why They are So Set on Deregulating the Banks Again - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=SnMMpZ5Pipw


بینکوں کی ریگولیشن اور ان کے قوانین میں تبدیلی ایک ایسا موضوع ہے جو سننے میں تو مشکل لگتا ہے، لیکن اس کا اثر ہماری جیب اور ملک کی معیشت پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ آئیے اسے بہت سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیں۔


### بینک کیسے کام کرتے ہیں؟


سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بینک کا اصل کام کیا ہے۔ جب آپ بینک میں اپنے پیسے جمع کرواتے ہیں، تو اصل میں آپ بینک کو قرض دے رہے ہوتے ہیں ۔ بینک ان پیسوں کو آگے دوسرے لوگوں یا حکومت کو قرض کے طور پر دے دیتا ہے ۔ بینک کا منافع اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ آپ کو کتنا سود یا بچت دے رہا ہے اور آگے قرض لینے والوں سے کتنا وصول کر رہا ہے ۔


### دو اہم قوانین: SLR اور LCR


حکومت نے بینکوں پر دو بڑے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں تاکہ وہ حد سے زیادہ خطرہ نہ مول لیں:


1. 

**سپلیمنٹری لیوریج ریشو (SLR):** یہ قانون بینک کو بتاتا ہے کہ اس کے پاس موجود کل سرمائے کے مقابلے میں وہ کتنا قرض دے سکتا ہے ۔ یہ ایک طرح کی 'حد' (Cap) ہے تاکہ بینک بہت زیادہ قرضے نہ بانٹ دے ۔



2. 

**لیکویڈیٹی کوریج ریشو (LCR):** یہ قانون بینک کو مجبور کرتا ہے کہ وہ کچھ پیسہ ایسی جگہوں پر رکھے جہاں سے ضرورت پڑنے پر فوراً نقد رقم مل سکے، جیسے کہ سرکاری بانڈز یا ٹریژریز ۔




مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں قوانین ایک دوسرے کے الٹ کام کرتے ہیں ۔ ایک قانون بینک کو کہتا ہے کہ 'محفوظ اثاثے (جیسے سرکاری ٹریژریز) خریدو' ، جبکہ دوسرا قانون کہتا ہے کہ 'آپ نے بہت زیادہ اثاثے جمع کر لیے ہیں، اب آپ مزید قرض نہیں دے سکتے' ۔


### ڈی ریگولیشن (قوانین ختم کرنا) کیوں ہو رہی ہے؟


حکومت پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے ۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بینکوں پر سے 'SLR' کی پابندی ہٹا دی جائے تو وہ حکومت کو زیادہ قرض دے سکیں گے ۔ جب بینک بہت زیادہ سرکاری ٹریژریز خریدیں گے، تو شرح سود نیچے آ جائے گی اور حکومت کے لیے اپنا قرض سنبھالنا سستا ہو جائے گا ۔


### اس کا عام آدمی اور معیشت پر کیا اثر ہوگا؟


اس تبدیلی کے دو بڑے پہلو ہیں:


**مہنگائی کا خطرہ:** جب بینک زیادہ قرضے دیں گے، تو مارکیٹ میں پیسہ زیادہ آئے گا ۔ زیادہ پیسہ ہونے کا مطلب ہے کہ لوگ چیزیں زیادہ خریدیں گے، جس سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں یعنی مہنگائی ہو سکتی ہے ۔



**معاشی ترقی:** دوسری طرف، جب بینکوں پر سے پابندی ہٹے گی، تو وہ عام لوگوں اور کاروباری اداروں کو بھی زیادہ قرض دے سکیں گے ۔ اس سے لوگ اپنے پرانے مہنگے قرضے سستے کروا سکیں گے اور نئے کاروبار شروع ہوں گے، جس سے ملک میں پیداوار بڑھے گی ۔




### ایک سادہ مثال: پیزا کی کہانی


اس پوری صورتحال کو ایک پیزا کی مثال سے سمجھیں:


تصور کریں کہ ایک بڑا پیزا ہے جس کے 8 ٹکڑے ہیں ۔ یہ پیزا ملک کی اصل دولت ہے اور ٹکڑے اس میں موجود پیسہ ہیں۔

اگر آپ پیزا کا سائز وہی رہنے دیں لیکن اس کے ٹکڑے 8 کے بجائے 16 کر دیں، تو ہر ٹکڑا چھوٹا ہو جائے گا ۔ یہ **مہنگائی** ہے؛ یعنی پیسہ تو زیادہ ہو گیا لیکن اس کی طاقت کم ہو گئی ۔


لیکن اگر آپ ٹکڑے کاٹنے کے ساتھ ساتھ پیزا کا سائز بھی بڑا کر دیں، تو 16 ٹکڑے ہونے کے باوجود ہر شخص کو اتنا ہی پیزا ملے گا جتنا پہلے مل رہا تھا ۔ بینکوں کی ڈی ریگولیشن کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگرچہ مارکیٹ میں پیسہ بڑھے گا (ٹکڑے زیادہ ہوں گے)، لیکن اس پیسے سے کاروبار بڑھیں گے تو ملک کی پیداوار بھی بڑھے گی (پیزا بڑا ہوگا)، جس سے مہنگائی کا اثر کم ہو جائے گا ۔


مختصر یہ کہ حکومت بینکوں کو 'کھلی چھٹی' دینے کا سوچ رہی ہے تاکہ وہ حکومت اور عوام دونوں کو زیادہ قرض دے سکیں، جس سے معیشت کا پہیہ تیز چل سکے ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس بارے میں مزید وضاحت کروں کہ اس سے اسٹاک مارکیٹ یا سونے کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔