What Is Rehypothecation Risk in Crypto Lending?

 آئیے، میرے پیارے طلباء، آج ہم ایک دلچسپ کہانی سنتے ہیں جو کریپٹو کی دنیا سے متعلق ہے۔ میں تمہیں ایک استاد کی طرح سمجھاؤں گا، جیسے کلاس میں بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ یہ کہانی ہے "ری ہائپوتھیکیشن رسک" کی، جو کریپٹو لینڈنگ میں ہوتی ہے۔ میں اسے مکمل تفصیل سے، آسان اور سیدھے الفاظ میں بیان کروں گا، جیسے کوئی کہانی سنا رہا ہوں۔ بچوں کو بھی سمجھ آ جائے گی، کیونکہ میں روزمرہ کی مثالیں دوں گا، جیسے کھیلنے کی چیزیں یا سکول کی چیزیں استعمال کر کے۔ تیار ہو؟ چلو شروع کرتے ہیں!


سب سے پہلے، تصور کرو کہ تمہارے پاس ایک کھلونا ہے، جیسے ایک خوبصورت گیند۔ تم اس گیند کو اپنے دوست کو ادھار دیتے ہو، تاکہ وہ کھیل سکے، اور وہ تمہیں اس کے بدلے کچھ پیسے یا کوئی چیز دے گا۔ یہ ہے "ہائپوتھیکیشن" – یعنی تم اپنی گیند کو بطور ضمانت (کولیٹرل) استعمال کر رہے ہو لون کے لیے۔ تم اب بھی گیند کے مالک ہو، لیکن اگر تم لون واپس نہ کرو تو دوست گیند رکھ لے گا۔


اب، ری ہائپوتھیکیشن کیا ہے؟ یہ اور بھی مزے کی چیز ہے، لیکن خطرناک بھی۔ تصور کرو کہ تمہارا دوست، جسے تم نے گیند ادھار دی ہے، وہ گیند کو خود استعمال کرنے کی بجائے، اسے کسی تیسرے دوست کو ادھار دے دیتا ہے! یعنی گیند اب تمہارے ہاتھ سے نکل کر کئی ہاتھوں میں گھوم رہی ہے۔ یہ ری ہائپوتھیکیشن ہے – یعنی ضمانت کو دوبارہ استعمال کرنا۔ کریپٹو کی دنیا میں، یہ کریپٹو لینڈنگ پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے، جیسے بائنانس یا دیگر ایکسچینجز۔


کریپٹو لینڈنگ کیا ہے؟ یہ ایسے ہے جیسے تم اپنے پیسے بینک میں جمع کرو اور بینک تمہیں انٹرسٹ (سود) دے۔ کریپٹو میں، لوگ اپنے کریپٹو کوائنز، جیسے بٹ کوائن یا ایتھیریم، ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہیں تاکہ وہ انٹرسٹ کمائیں۔ پلیٹ فارم یہ کوائنز لیتا ہے اور انہیں دوسروں کو لون دے کر زیادہ انٹرسٹ کماتا ہے۔ اس سے پلیٹ فارم کو فائدہ ہوتا ہے، اور تمہیں بھی زیادہ انٹرسٹ ملتا ہے۔ لیکن یہاں ری ہائپوتھیکیشن آتی ہے: پلیٹ فارم تمہارے کوائنز کو نہ صرف لون دے دیتا ہے، بلکہ انہیں خود کے لیے بھی استعمال کرتا ہے، جیسے مزید لون لینے یا ٹریڈ کرنے کے لیے۔ اس سے پیسہ بڑھتا ہے، لیکن خطرہ بھی بڑھتا ہے۔


اب، رسک کیا ہے؟ یعنی خطرہ۔ یہ کہانی کا سب سے اہم حصہ ہے۔ تصور کرو کہ تمہاری گیند جو تیسرے دوست کے پاس پہنچ گئی ہے، وہ دوست گیند کھو بیٹھتا ہے یا توڑ دیتا ہے! اب، تمہارا پہلا دوست گیند واپس نہیں کر سکتا، اور تم بھی گیند سے محروم ہو جاتے ہو۔ کریپٹو میں یہی ہوتا ہے: اگر وہ تیسرے شخص (جسے کاؤنٹر پارٹی کہتے ہیں) لون واپس نہ کر سکے، تو پلیٹ فارم کے پاس پیسہ ختم ہو جاتا ہے۔ پلیٹ فارم دیوالیہ ہو سکتا ہے، اور تم اپنے کوائنز واپس نہ لے سکو۔ اسے "ری ہائپوتھیکیشن رسک" کہتے ہیں۔


ایک آسان مثال دوں: فرض کرو تم نے 1 بٹ کوائن ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، اور وہ تمہیں 5% انٹرسٹ دے رہا ہے۔ پلیٹ فارم اس بٹ کوائن کو ایک بڑے تاجر کو 8% پر لون دے دیتا ہے۔ اب، اگر وہ تاجر مارکیٹ میں نقصان کرے اور لون واپس نہ کر سکے، تو پلیٹ فارم کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اگر بہت سے لوگ ایک ساتھ اپنے کوائنز واپس مانگیں (جیسے بینک رن، یعنی سب لوگ ایک ساتھ پیسہ نکالنے کی کوشش کریں)، تو پلیٹ فارم واپس نہیں دے سکتا، کیونکہ کوائنز کہیں اور پھنسے ہوئے ہیں۔ نتیجہ؟ پلیٹ فارم بند ہو جاتا ہے، اور تمہارے پیسے غائب!


اب، حقیقی دنیا کی مثال سنو، جو 2022 میں ہوئی۔ ایک کمپنی تھی Celsius Network۔ لوگوں نے اس پر اپنے کریپٹو جمع کیے۔ Celsius نے ان کوائنز کو ری ہائپوتھیکیشن کر کے خطرناک جگہوں پر لگایا، جیسے DeFi پروٹوکولز یا دوسری کمپنیوں کو لون دے کر۔ جب کریپٹو مارکیٹ گرا، لوگوں نے پیسے نکالنے کی کوشش کی، لیکن Celsius کے پاس پیسہ نہیں تھا کیونکہ تیسرے لوگ واپس نہیں کر رہے تھے۔ نتیجہ؟ Celsius دیوالیہ ہو گئی، اور لوگوں کے اربوں ڈالر پھنس گئے۔ ایک اور مثال Voyager Digital کی ہے۔ انہوں نے اپنے یوزرز کے کوائنز ایک ہیج فنڈ کو لون دیے، جو Three Arrows Capital کہلاتا تھا۔ وہ فنڈ دیوالیہ ہوا، اور Voyager بھی ختم ہو گئی۔ یہ سب ری ہائپوتھیکیشن کی وجہ سے ہوا، کیونکہ کوائنز زنجیر کی طرح ایک سے دوسرے کے پاس گھوم رہے تھے، اور ایک لنک ٹوٹا تو سب گر گیا۔


کریپٹو میں یہ رسک کیوں زیادہ ہے؟ روایتی بینکوں میں قوانین ہوتے ہیں، جیسے انشورنس یا حکومت کی نگرانی، جو تمہارے پیسوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن کریپٹو میں، خاص طور پر سینٹرلائزڈ پلیٹ فارمز پر، کوئی ایسی چیز نہیں۔ تم جب کوائنز جمع کرتے ہو، تو پلیٹ فارم کہتا ہے کہ وہ اب ان کے ہیں، اور تم صرف ایک قرض دار ہو۔ اگر کچھ غلط ہوا، تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ DeFi (ڈی سینٹرلائزڈ فنانس) میں تھوڑی بہتر ہے، کیونکہ سب کچھ بلاک چین پر نظر آتا ہے، لیکن وہاں بھی سمارٹ کنٹریکٹ کی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔


اب، یہ رسک کیسے کم کرو؟ میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں، جیسے استاد بچوں کو سکھاتا ہے۔ سب سے اچھا طریقہ ہے "سیلف کسٹڈی" – یعنی اپنے کوائنز خود رکھو، ایک والٹ میں جہاں صرف تمہارے پاس چابی (پرائیویٹ کی) ہو۔ جیسے تم اپنی گیند خود رکھو، نہ کسی کو ادھار دو۔ اگر لینڈنگ کرنی ہے، تو ٹرمز آف سروس پڑھو – دیکھو کہ پلیٹ فارم ری ہائپوتھیکیشن کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر انٹرسٹ بہت زیادہ ہے، جیسے 10-20%، تو سوچو کہ یہ خطرے کی نشانی ہے، کیونکہ زیادہ انٹرسٹ کا مطلب زیادہ رسک۔ کچھ پلیٹ فارمز الگ اکاؤنٹس دیتے ہیں جہاں تمہارے کوائنز الگ رکھے جاتے ہیں، لیکن یہ کم ہوتے ہیں۔ یاد رکھو، کریپٹو کا اصول ہے: "ناٹ یور کیز، ناٹ یور کوائنز" – یعنی اگر چابی تمہارے پاس نہیں، تو کوائنز تمہارے نہیں!


تو، میرے بچو اور دوستو، یہ تھی ری ہائپوتھیکیشن رسک کی پوری کہانی۔ یہ کریپٹو کو مزیدار بناتی ہے، کیونکہ پیسہ بڑھ سکتا ہے، لیکن خطرناک بھی، جیسے اونچی سلائیڈ پر کھیلنا – مزہ تو ہے، لیکن گرنے کا ڈر بھی۔ ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرو، اور اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو پوچھو۔ ٹھیک ہے؟ اب تم بتاؤ، کیا سمجھ آ گئی؟

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔