What Is an Ethereum Improvement Proposal (EIP)?

 ارے بچو اور سب دوستو! آج میں تمہیں ایک دلچسپ کہانی سناؤں گا، بالکل ایک استاد کی طرح، جیسے کلاس روم میں بیٹھ کر سمجھاتا ہوں۔ ہم بات کریں گے "Ethereum Improvement Proposal" کی، جسے مختصراً EIP کہتے ہیں۔ یہ کوئی پیچیدہ چیز نہیں، بلکہ ایک سادہ سی بات ہے جو Ethereum نامی ایک بڑی ڈیجیٹل دنیا کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ میں آسان الفاظ استعمال کروں گا، جیسے تم اپنے دوستوں سے بات کرتے ہو، اور مثالیں بھی دوں گا تاکہ تم آسانی سے سمجھ جاؤ۔ چلو شروع کرتے ہیں، قدم بہ قدم، جیسے کوئی کہانی سناتے ہیں!


سب سے پہلے، Ethereum کیا ہے؟ تصور کرو کہ Ethereum ایک بہت بڑا کمپیوٹر ہے جو انٹرنیٹ پر چلتا ہے، اور یہ کمپیوٹر دنیا بھر کے لوگوں کو پیسے بھیجنے، گیمز کھیلنے، یا اپنی چیزیں محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بلاک چین ٹیکنالوجی پر چلتا ہے، جو ایک زنجیر کی طرح ہے جہاں ہر چیز ریکارڈ ہو جاتی ہے اور کوئی اسے بدل نہیں سکتا۔ اب، یہ کمپیوٹر ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا – لوگ چاہتے ہیں کہ یہ تیز ہو، سستا ہو، اور نئی چیزیں کر سکے۔ تو، اسے بہتر بنانے کے لیے لوگ "تجاویز" دیتے ہیں، اور ان تجاویز کو EIP کہتے ہیں۔ یعنی، Ethereum کو بہتر کرنے کی پیشکش!


اب، یہ EIP کیسے شروع ہوا؟ یہ کہانی 2015 میں شروع ہوئی جب Ethereum کی ٹیم نے دیکھا کہ لوگوں کے اچھے آئیڈیاز کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ Bitcoin کی طرح ہے، جہاں BIP (Bitcoin Improvement Proposal) ہوتی ہیں، لیکن Ethereum کے لیے EIP بنی۔ یہ ایک کھلا نظام ہے، مطلب کوئی بھی شخص – تم، میں، یا کوئی انجینئیر – ایک اچھا آئیڈیا دے سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے، "ارے، Ethereum کو ایسا کرنا چاہیے!" یہ ایک جمہوری طریقہ ہے، جیسے سکول میں تم کلاس کے لیے نئی گیم کا آئیڈیا دو اور سب مل کر فیصلہ کریں کہ اچھا ہے یا نہیں۔


چلو، اب دیکھتے ہیں کہ EIP کیسے کام کرتی ہے۔ یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ ایک قدم بہ قدم عمل ہے۔ کوئی شخص ایک آئیڈیا سوچتا ہے، پھر اسے لکھ کر GitHub نامی ایک ویب سائٹ پر شیئر کرتا ہے۔ یہ لکھائی ایک فارمیٹ میں ہوتی ہے، جیسے ایک خط لکھنا: تم بتاؤ کہ مسئلہ کیا ہے، حل کیا ہے، اور کیوں یہ اچھا ہے۔ پھر، دوسرے لوگ اسے دیکھتے ہیں، بات کرتے ہیں، اور اگر اچھا لگے تو اسے اپنانے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ عمل چار مراحل سے گزرتا ہے:


پہلا مرحلہ "ڈرافٹ" ہے – یعنی ابتدائی مسودہ۔ جیسے تم ایک کہانی لکھو اور دوستوں کو دکھاؤ کہ "یہ کیسی ہے؟" لوگ تبصرے کرتے ہیں اور بہتر بناتے ہیں۔


دوسرا "ریویو" – اب لوگ اسے چیک کرتے ہیں کہ واقعی کام کرے گی یا نہیں۔ جیسے استاد تمہارا ہوم ورک چیک کرے۔


تیسرا "لاسٹ کال" – یہ آخری موقع ہے کہ کوئی اعتراض کرے۔ جیسے فلم دیکھنے سے پہلے ٹریلر دیکھ کر کہو، "ٹھیک ہے نا؟"


چوتھا "فائنل" – اگر سب مان جائیں تو یہ Ethereum میں شامل ہو جاتی ہے! لیکن اگر کوئی مسئلہ ہو تو اسے روکا یا تبدیل کیا جا سکتا ہے۔


اب، EIP کی کئی اقسام ہوتی ہیں، جیسے مختلف قسم کے کھلونے۔ ایک قسم "کور EIP" ہے، جو Ethereum کے بنیادی نظام کو تبدیل کرتی ہے، جیسے کمپیوٹر کا انجن تبدیل کرنا تاکہ تیز چلے۔ مثال کے طور پر، EIP-1559، جو 2021 میں آیا۔ یہ کیا کرتا ہے؟ Ethereum پر ٹرانزیکشن (پیسے بھیجنے) کی فیس کو بہتر بناتا ہے۔ پہلے فیس بہت اوپر نیچے ہوتی تھی، جیسے بازار میں چیزیں مہنگی سستی ہوتی رہتی ہیں۔ اب، یہ فیس کا ایک حصہ جلاتا ہے (یعنی ختم کر دیتا ہے)، جس سے Ethereum کی کرنسی (Ether) کی قدر بڑھ سکتی ہے۔ تصور کرو، جیسے تمہارے سکول میں کینٹین کی لائن لمبی ہو تو ٹکٹ سسٹم لگا دو تاکہ سب کو جلدی ملے!


دوسری قسم "نیٹ ورکنگ EIP" ہے، جو Ethereum کے کمپیوٹرز کے درمیان بات چیت کو بہتر بناتی ہے۔ جیسے تمہارے فون اور کمپیوٹر کو تیز انٹرنیٹ سے جوڑنا۔


تیسری "انٹرفیس EIP"، جو پروگرامرز کو بتاتی ہے کہ کوڈ کیسے لکھیں تاکہ سب ایک جیسا ہو۔ جیسے سکول کے یونیفارم کا اصول۔


چوتھی اور مشہور "ERC"، جو Ethereum Request for Comment ہے۔ یہ معیارات ہیں جو نئی چیزیں بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ مثال: ERC-20، جو ٹوکنز (ڈیجیٹل سکے) بنانے کا طریقہ ہے۔ بہت سی کریپٹو کرنسیاں اسی پر بنی ہیں، جیسے تم ایک ریسپی سے کئی قسم کی کیک بنا لو۔ ایک اور مثال ERC-721، جو NFTs (Non-Fungible Tokens) کے لیے ہے۔ NFTs کیا ہیں؟ جیسے تمہارا ایک خاص ڈرائنگ جو دنیا میں ایک ہی ہے، اور تم اسے بیچ سکتے ہو۔ مشہور CryptoKitties گیم اسی پر بنی، جہاں لوگ ڈیجیٹل بلیاں جمع کرتے ہیں!


کیوں EIP اہم ہے؟ کیونکہ Ethereum ایک بڑی کمیونٹی ہے، اور EIP سے سب مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ Ethereum کو محفوظ، تیز، اور نئی ٹیکنالوجیز جیسے "شاردنگ" (کام تقسیم کرنا) یا "پرائیوسی" (رازداری) کے لیے تیار کرتی ہے۔ اگر EIP نہ ہوتی تو Ethereum پرانی گاڑی کی طرح رک جاتی، لیکن اب یہ نئی کار کی طرح اپڈیٹ ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر، EIP-3074 نے سیکیورٹی بڑھائی، جیسے تمہارے گھر کا تالا مضبوط کرنا تاکہ چور نہ آئے۔


بچو، دیکھا؟ EIP ایک ٹیم ورک کی طرح ہے جہاں لوگ آئیڈیاز شیئر کرتے ہیں، بات کرتے ہیں، اور مل کر Ethereum کو بہتر بناتے ہیں۔ اگر تمہیں کوئی آئیڈیا آئے، تم بھی GitHub پر جا کر EIP بنا سکتے ہو! اب بتاؤ، کیا سمجھ آیا؟ اگر کچھ پوچھنا ہو تو پوچھو، میں اور بھی مثالیں دے سکتا ہوں!

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔