یہ کہانی ایک چھوٹی ویڈیو سے لی گئی ہے جو بیت کوئن نامی ایک خاص چیز کے بارے میں بتاتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ اگر ایک خاص چیز ہو جائے تو بینکوں کا سارا نظام ٹوٹ سکتا ہے۔ سب سے پہلے، پیسے کیا ہوتے ہیں؟ تم سوچو گے کہ پیسے وہ نوٹ اور سکے ہیں جو تمہاری جیب میں ہوتے ہیں، لیکن آج کل پیسے زیادہ تر کمپیوٹر میں نمبر ہوتے ہیں۔ بینکوں کو ایک خاص اجازت ملتی ہے کہ وہ پیسہ خود بنا سکتے ہیں۔ اگر تم یا میں پیسہ بنانے کی کوشش کریں تو جیل ہو جائے گی، لیکن بینکوں کو لائسنس ملتا ہے تو وہ کر سکتے ہیں۔ یہ کیسے ہوتا ہے؟ جب کوئی شخص بینک سے قرض لیتا ہے، تو بینک پیسہ "تخلیق" کر دیتا ہے۔ مطلب، وہ کمپیوٹر میں لکھ دیتا ہے کہ تمہارے اکاؤنٹ میں پیسہ آ گیا، حالانکہ پہلے سے وہاں کچھ نہیں تھا!

 (38) The Banking System Breaks If This Happens #shorts #bitcoin - YouTube



 یہ کہانی ایک چھوٹی ویڈیو سے لی گئی ہے جو بیت کوئن نامی ایک خاص چیز کے بارے میں بتاتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ اگر ایک خاص چیز ہو جائے تو بینکوں کا سارا نظام ٹوٹ سکتا ہے۔


سب سے پہلے، پیسے کیا ہوتے ہیں؟ تم سوچو گے کہ پیسے وہ نوٹ اور سکے ہیں جو تمہاری جیب میں ہوتے ہیں، لیکن آج کل پیسے زیادہ تر کمپیوٹر میں نمبر ہوتے ہیں۔ بینکوں کو ایک خاص اجازت ملتی ہے کہ وہ پیسہ خود بنا سکتے ہیں۔ اگر تم یا میں پیسہ بنانے کی کوشش کریں تو جیل ہو جائے گی، لیکن بینکوں کو لائسنس ملتا ہے تو وہ کر سکتے ہیں۔ یہ کیسے ہوتا ہے؟ جب کوئی شخص بینک سے قرض لیتا ہے، تو بینک پیسہ "تخلیق" کر دیتا ہے۔ مطلب، وہ کمپیوٹر میں لکھ دیتا ہے کہ تمہارے اکاؤنٹ میں پیسہ آ گیا، حالانکہ پہلے سے وہاں کچھ نہیں تھا!


اب ایک آسان مثال لو: فرض کرو تمہارے پاس ایک کھیل کا بورڈ ہے جہاں تم پیسے بنا سکتے ہو۔ تم اپنے دوست کو 100 روپے کا قرض دیتے ہو، اور تم اپنے نوٹ بک میں لکھ دیتے ہو کہ اب اس کے پاس 100 روپے ہیں۔ لیکن تم اس سے سود بھی مانگتے ہو، یعنی وہ تمہیں 110 روپے واپس دے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم نے صرف 100 روپے بنائے تھے، وہ اضافی 10 روپے کہاں سے آئیں گے؟ وہ نہیں آئیں گے، جب تک تم کسی اور دوست کو مزید قرض نہ دو اور مزید پیسہ نہ بناؤ۔ تو، یہ ایک چین کی طرح چلتا رہتا ہے – ہمیشہ نئے قرض چاہیے تاکہ پرانے قرض ادا ہو سکیں۔ اگر یہ چین رک جائے تو سب کا سب کھیل ختم ہو جاتا ہے!


یہی چیز بینکوں میں ہوتی ہے۔ یہ نظام "فریکشنل ریزرو بینکنگ" کہلاتا ہے۔ مطلب، بینک صرف تھوڑا سا پیسہ رکھتے ہیں اور باقی قرض دے کر پیسہ بناتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ ایک "پونزی سکیم" کی طرح ہے۔ پونزی سکیم کیا ہے؟ یہ ایک دھوکہ ہے جہاں تم لوگوں سے پیسہ لیتے ہو اور پرانے لوگوں کو ادائیگی کے لیے نئے لوگوں کا پیسہ استعمال کرتے ہو۔ ایک دن جب نئے لوگ نہیں آتے تو سارا دھوکہ سامنے آ جاتا ہے اور سب کا پیسہ ڈوب جاتا ہے۔ بینکوں میں بھی یہی ہے – قرض ہمیشہ بڑھتے رہنے چاہیے، ورنہ لوگ، کمپنیاں اور حکومتیں دیوالیہ ہو جاتی ہیں۔ یہ شروع سے ہی ٹوٹنے کے لیے بنا ہے!


اب اہم حصہ: اگر ایک چیز ہو جائے تو یہ سارا بینکنگ کا نظام ٹوٹ جائے گا۔ وہ چیز کیا ہے؟ "فل ریزرو بینکنگ" کی اجازت دینا! فل ریزرو کا مطلب ہے کہ بینک تمہارے پیسے کے پیچھے اصلی چیزیں رکھیں، جیسے سونے یا حکومت کے بانڈز۔ مطلب، اگر تم بینک میں 100 روپے جمع کرواؤ تو بینک کے پاس واقعی 100 روپے کی چیزیں ہوں گی جو تمہاری ملکیت ہوں گی۔ اب اگر یہ اجازت مل جائے تو کیا ہوگا؟ لوگ اپنے پیسے فریکشنل ریزرو سے نکال کر فل ریزرو میں ڈالنے لگیں گے، کیونکہ وہ محفوظ ہے۔ یہ ایک بڑی بھیڑ کی طرح ہوگا جہاں سب بینک سے پیسہ نکالنے دوڑیں گے، اور فریکشنل ریزرو والے بینک خالی ہو جائیں گے۔ نتیجہ؟ سارا نظام کریش ہو جائے گا!


ایک مزے کی مثال لو: فرض کرو تم ایک پارک میں آئس کریم بیچ رہے ہو۔ تم صرف 10 آئس کریمز رکھتے ہو لیکن 100 لوگوں کو وعدہ کر دیتے ہو کہ تم انہیں آئس کریم دو گے (یہی فریکشنل ریزرو ہے)۔ اب اگر ایک نئی آئس کریم کی دکان کھل جائے جہاں واقعی ہر شخص کے لیے آئس کریم ہو (فل ریزرو)، تو سب تمہاری دکان چھوڑ کر وہاں چلے جائیں گے۔ تمہاری دکان خالی ہو جائے گی اور تم دیوالیہ ہو جاؤ گے! یہی بینکوں کے ساتھ ہوگا۔ حکومت اس لیے فل ریزرو کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ یہ فریکشنل والے کو توڑ دے گی۔


اب بیت کوئن کا کیا تعلق؟ بیت کوئن ایک نئی قسم کا پیسہ ہے جو کمپیوٹر پر چلتا ہے اور کوئی بینک اسے کنٹرول نہیں کرتا۔ یہ اس لیے خاص ہے کیونکہ اس کی تعداد محدود ہے – یہ ہمیشہ بڑھتا نہیں رہتا جیسے بینکوں کا پیسہ۔ بیت کوئن یہ بتاتا ہے کہ بینکوں کا پیسہ (جسے فیٹ منی کہتے ہیں) شروع سے ہی کمزور ہے کیونکہ یہ قرض کی توسیع پر چلتا ہے۔ جیسے ایک بلبلا جو پھٹنے والا ہے۔ بیت کوئن ایک متبادل ہے جو اس پونزی سکیم سے بچاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر تمہارے پاس ایک کھلونا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا (جیسے بیت کوئن کی محدود تعداد)، تو تمہیں ہمیشہ نئے کھلونے بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن بینکوں کا پیسہ ایسا نہیں – یہ ہمیشہ مزید چاہیے!


تو بچو، یہ کہانی بتاتی ہے کہ ہمارا پیسوں کا نظام ایک نازک کھیل ہے جو قرض پر چلتا ہے۔ اگر فل ریزرو جیسا کچھ آ جائے تو یہ ٹوٹ سکتا ہے۔ بیت کوئن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید ایک بہتر طریقہ ہے۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔