(56) Why CBDCs Are a Threat to Financial Freedom - YouTube

 (56) Why CBDCs Are a Threat to Financial Freedom - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=8kcyg-aBfrQ&list=WL&index=3


یہ ایک بہت اہم موضوع ہے جسے ہر انسان، خاص طور پر بچوں کو بھی سمجھنا چاہیے کیونکہ اس کا تعلق ہماری آنے والی زندگی اور ہماری آزادی سے ہے۔ آئیے، میں آپ کو ایک استاد کی طرح آسان مثالوں سے سمجھاتا ہوں کہ یہ معاملہ کیا ہے۔


### **سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) کیا ہے؟**


عام طور پر ہم جو پیسے استعمال کرتے ہیں، وہ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ نوٹ جو آپ کی جیب میں ہیں اور دوسرے وہ جو آپ کے بینک اکاؤنٹ میں ڈیجیٹل صورت میں نظر آتے ہیں۔ لیکن **CBDC** ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے حکومت خود جاری کرتی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہوتی ہے ۔ یہ بٹ کوائن (Bitcoin) کی طرح نہیں ہے کیونکہ بٹ کوائن پر کسی حکومت کا قبضہ نہیں ہوتا، جبکہ CBDC کو حکومت مکمل طور پر ٹریک کر سکتی ہے ۔


---


### **بنیادی خطرہ: آپ کی آزادی پر پہرہ**


اس کہانی کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ جب حکومت کے پاس آپ کے ہر ایک پیسے کا حساب ہوگا، تو وہ آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول کر سکتی ہے ۔


**ایک مثال سے سمجھتے ہیں:**

فرض کریں آپ کے پاس 100 روپے کا کاغذ کا نوٹ ہے۔ آپ اس سے چاکلیٹ خریدیں یا کسی غریب کی مدد کریں، حکومت کو نہیں معلوم کہ وہ نوٹ کہاں گیا۔ لیکن اگر وہ پیسہ CBDC کی صورت میں ہو، تو حکومت کو پتہ ہوگا کہ آپ نے کب، کہاں اور کیوں خرچ کیا ۔


**ایک اور مثال:**

کبھی کبھی حالات ایسے ہو جاتے ہیں (جیسے حال ہی میں دنیا میں ہوا تھا) کہ حکومت کچھ پابندیاں لگا دیتی ہے ۔ اگر حکومت چاہے تو وہ ایک بٹن دبا کر آپ کے پیسے "فریز" کر سکتی ہے یا یہ کہہ سکتی ہے کہ "آپ ان پیسوں سے پیٹرول نہیں خرید سکتے" یا "آپ شہر سے باہر نہیں جا سکتے" ۔ اس صورت میں آپ کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا کیونکہ آپ 100 فیصد حکومت کے محتاج ہو جاتے ہیں ۔


---


### **بٹ کوائن اور آزادی کی سوچ**


کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں "سائفر پنکس" (Cypherpunks) کہا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ اس کا ڈیٹا اور اس کے پیسے اس کی اپنی مرضی کے مطابق ہوں، نہ کہ کوئی مرکزی ادارہ اسے بتائے کہ اسے کیا کرنا ہے ۔


بٹ کوائن اسی سوچ پر بنایا گیا ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں پیسہ اور ریاست (حکومت) الگ الگ ہوتے ہیں ۔ جس طرح مذہب اور سیاست کو الگ ہونا چاہیے، اسی طرح پیسوں کو بھی حکومت کے براہِ راست کنٹرول سے دور ہونا چاہیے تاکہ انسان خود مختار رہ سکے ۔


---


### **خلاصہ اور نصیحت**


آج کل ہماری ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے، چاہے وہ انٹرنیٹ ہو یا کیمرے، اور اب مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے اس نگرانی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے ۔ اگر ہمارا پیسہ بھی مکمل طور پر حکومت کے قبضے میں چلا گیا، تو انسانی فطرت یہ ہے کہ جن کے پاس طاقت ہوتی ہے، وہ اس کا غلط استعمال ضرور کرتے ہیں ۔


اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کے فائدے تو ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپا ہوا خطرہ ہماری مالی آزادی کا خاتمہ ہے ۔ ہمیں ایک ایسی دنیا کی ضرورت ہے جہاں ہم مانیٹر تو کیے جائیں، لیکن کم از کم اپنے محنت سے کمائے ہوئے پیسوں پر ہمارا اپنا حق اور اختیار باقی رہے ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو اس بارے میں مزید بتاؤں کہ بٹ کوائن اور سرکاری ڈیجیٹل کرنسی میں ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کیا فرق ہے؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔