(56) What They DON'T Tell You About Borrowing Against Bitcoin - YouTube

 (56) What They DON'T Tell You About Borrowing Against Bitcoin - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=SWjKJhVZKag&list=WL&index=6


بٹ کوائن کے بدلے ادھار لینا بظاہر ایک بہت شاندار منصوبہ لگتا ہے کہ آپ کو اپنے بٹ کوائن بیچنے بھی نہیں پڑیں گے، ٹیکس بھی نہیں دینا پڑے گا اور ہاتھ میں نقد رقم بھی آ جائے گی ۔ لیکن حقیقت میں یہ عام لوگوں کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ آئیے میں آپ کو ایک استاد کی طرح تفصیل سے سمجھاتا ہوں کہ امیر لوگ یہ کام کیسے کرتے ہیں اور عام لوگوں کے لیے اس میں کیا خطرات چھپے ہیں۔


### امیروں اور عام لوگوں کے ادھار میں فرق


سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ امیر لوگ اپنی کل دولت کا بہت ہی چھوٹا حصہ، جیسے صرف 1 فیصد، ادھار لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اگر مارکیٹ نیچے بھی چلی جائے تو ان کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے پاس پیچھے بہت پیسہ ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس، ایک عام انسان جب بٹ کوائن کے بدلے قرض لیتا ہے تو وہ اکثر اپنی زندگی کی جمع پونجی کا بڑا حصہ (جیسے 50 فیصد) داؤ پر لگا دیتا ہے ۔


### سود کی شرح اور اخراجات


امیر لوگوں کو بینکوں سے بہت کم شرح سود پر قرض مل جاتا ہے، جیسے 4 سے 5 فیصد ۔ لیکن عام لوگوں کو بٹ کوائن کے بدلے 10 سے 15 فیصد تک مہنگا سود دینا پڑتا ہے ۔ جب سود اتنا زیادہ ہو تو آپ کو منافع کمانے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، جو کہ ہر بار ممکن نہیں ہوتا ۔


### ضمانت کے طور پر رکھی گئی چیزیں


امیر لوگ اکثر ایسی چیزیں ضمانت (Collateral) کے طور پر رکھتے ہیں جن کی قیمت آہستہ آہستہ بدلتی ہے، جیسے بڑی عمارتیں یا بانڈز ۔ بٹ کوائن ایک ایسی چیز ہے جس کی قیمت ایک ہی دن میں 10 سے 30 فیصد تک گر سکتی ہے ۔ اگر قیمت اچانک گر جائے تو قرض دینے والا ادارہ فوراً آپ کے بٹ کوائن بیچ کر اپنا پیسہ پورا کر لیتا ہے، جسے "لیکویڈیشن" کہتے ہیں ۔


### ایک سادہ مثال: جان اور سارہ


اس بات کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ سارہ ایک بہت امیر خاتون ہیں جن کے پاس 15 ملین ڈالر ہیں ۔ انہوں نے 8 لاکھ ڈالر قرض لیا۔ جب مارکیٹ تھوڑی نیچے آئی تو انہوں نے اپنے دوسرے ذخائر سے پیسہ نکال کر اپنی ضمانت بڑھا دی اور ان کا قرض محفوظ رہا ۔


دوسری طرف جان ہے، جس نے بڑی مشکل سے 80 ہزار ڈالر کے بٹ کوائن جمع کیے تھے ۔ اس نے گھر کی مرمت کے لیے 30 ہزار ڈالر ادھار لیے اور اپنے تمام بٹ کوائن ضمانت کے طور پر رکھ دیے ۔ جب بٹ کوائن کی قیمت 40 فیصد گری، تو جان کے پاس مزید پیسے نہیں تھے کہ وہ ضمانت میں دے سکے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کمپنی نے جان کے سارے بٹ کوائن سستے داموں بیچ دیے اور جان کی سالوں کی محنت ضائع ہو گئی ۔


### پیشہ ورانہ مشورے اور منصوبہ بندی


امیر لوگوں کے پاس وکیلوں، اکاؤنٹنٹس اور ماہرین کی پوری ٹیم ہوتی ہے جو ہر قدم پر انہیں بتاتی ہے کہ کتنا خطرہ ہے ۔ وہ ہر برے حالات کے لیے پہلے سے تیاری کرتے ہیں ۔ عام انسان اکثر سوشل میڈیا کی ویڈیوز دیکھ کر جذباتی فیصلہ کرتا ہے اور اس کے پاس کوئی "پلان بی" نہیں ہوتا ۔


### قرض کا مقصد


امیر لوگ ادھار لے کر ایسی چیزیں خریدتے ہیں جو انہیں مزید کما کر دیں، جیسے کوئی کاروبار یا کرائے والی دکانیں ۔ عام لوگ اکثر قرض لے کر گاڑی خریدتے ہیں، گھر کی سجاوٹ کرتے ہیں یا چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں ۔ یہ چیزیں انہیں کما کر نہیں دیتیں بلکہ ان کی جیب سے مزید پیسہ نکالتی ہیں ۔


### خلاصہ اور سبق


بٹ کوائن کے بدلے ادھار لینا بذات خود برا نہیں ہے، لیکن یہ صرف تب کرنا چاہیے جب آپ کے پاس پیچھے بہت سے دوسرے مالی ذرائع ہوں ۔ اگر آپ کے پاس صرف بٹ کوائن ہی آپ کی کل دولت ہے، تو اسے ادھار کے لیے استعمال کرنا ایک بہت بڑا جوا ہو سکتا ہے ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو ان سوالات کی فہرست دوں جو آپ کو کسی بھی قسم کا قرض لینے سے پہلے خود سے پوچھنے چاہئیں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔