(56) The Money is Worthless, So They are Distracting Us — Algorithms are the New Digital Roman Colosseum - YouTube

 (56) The Money is Worthless, So They are Distracting Us — Algorithms are the New Digital Roman Colosseum - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=OaRepz2-Y94&list=WL&index=8


یہ کہانی ایک ایسے "دماغی کنٹرول کے جال" کے بارے میں ہے جو صدیوں پہلے بھی موجود تھا اور آج کے دور میں بھی ایک نئے روپ میں ہمارے سامنے ہے۔ میں آپ کو ایک استاد کی طرح سادہ الفاظ میں سمجھاتا ہوں تاکہ بڑے تو کیا، بچے بھی اس حقیقت کو جان لیں۔


## قدیم روم کا تماشا اور چالاکی


پرانے زمانے میں جب روم کی سلطنت زوال کا شکار تھی، وہاں کے حکمران ایک بڑی مشکل میں پھنس گئے تھے ۔ ملک کی معیشت تباہ ہو رہی تھی، لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں تھیں اور وہ بھوکے اور غصے میں تھے ۔ اب حکمران معیشت تو ٹھیک نہیں کر سکتے تھے، اس لیے انہوں نے ایک چال چلی۔ انہوں نے ایک بہت بڑا سٹیڈیم بنایا جسے "کولوزیم" (Colosseum) کہا جاتا تھا ۔


اس کا مقصد صرف کھیل دکھانا نہیں تھا، بلکہ یہ لوگوں کے ذہنوں کو قابو کرنے والی ایک مشین تھی ۔ وہاں لوگوں کو مفت کھانا (روٹی) اور مفت خونی کھیل (سرکس) دکھائے جاتے تھے ۔ جب لوگ وہاں شیروں کی لڑائیاں اور بہادر سپاہیوں کے مقابلے دیکھتے، تو وہ بھول جاتے کہ وہ غریب ہیں یا ان کا ملک تباہ ہو رہا ہے ۔


**مثال:** جیسے اگر ایک بچہ بھوک سے رو رہا ہو اور آپ اسے کھانا دینے کے بجائے ایک بہت دلچسپ کارٹون لگا دیں تاکہ وہ اپنی بھوک بھول کر اس میں کھو جائے، بالکل یہی کام روم کے بادشاہ کر رہے تھے ۔


---


## آج کا دور: ڈیجیٹل کولوزیم


آج 2026 میں بھی وہی پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے، مگر اب سٹیڈیم پتھر کا نہیں بلکہ آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون ہے ۔ آج کے "گلیڈی ایٹرز" وہ سیاستدان اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں جو انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے لڑتے اور چیختے چلاتے نظر آتے ہیں ۔


ہمارے سوشل میڈیا ایپس (ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام) کے پیچھے لگے ہوئے "الگورتھم" بالکل کولوزیم کے نیچے چھپی ہوئی ان مشینوں کی طرح ہیں جو تماشائیوں کے جذبات کو کنٹرول کرتی تھیں ۔ جب آپ کو مہنگائی کی فکر ہوتی ہے، تو اچانک آپ کے سامنے کوئی مزاحیہ بلی کی ویڈیو یا کوئی فضول جھگڑا آ جاتا ہے تاکہ آپ کا ذہن اس طرف لگ جائے اور آپ اصل حقیقت نہ دیکھ سکیں ۔


**مثال:** یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ ہوم ورک نہ کرنا چاہیں اور آپ کا دوست آپ کو ویڈیو گیم کی طرف لگا دے۔ آپ گیم میں تو خوش ہو جائیں گے، لیکن آپ کا اصل مسئلہ (ہوم ورک) وہیں کا وہیں رہے گا ۔


---


## پیسے کی حقیقت اور دھوکہ


کہانی میں ایک اور اہم بات پیسے کی ہے ۔ روم کے بادشاہوں نے اپنے فضول خرچ پورے کرنے کے لیے چاندی کے سکوں میں سستی دھاتیں ملانا شروع کر دیں، جس سے پیسے کی قیمت ختم ہو گئی ۔ آج بھی بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے؛ دنیا بھر میں کاغذی کرنسی کی قیمت گر رہی ہے اور قرضے بڑھ رہے ہیں ۔ حکمران چاہتے ہیں کہ آپ اس معاشی تباہی کی طرف توجہ نہ دیں، اس لیے وہ انٹرنیٹ کے تماشوں کو مزید تیز کر رہے ہیں ۔


وہ ہمیں "مفت پیسوں" یا امدادی چیکوں کے لالچ میں رکھتے ہیں تاکہ ہم ان کے محتاج رہیں اور کبھی خود مختار نہ بن سکیں ۔


---


## اس جال سے کیسے نکلیں؟


روم کے لوگوں کے پاس اس سٹیڈیم سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، لیکن خوش قسمتی سے ہمارے پاس ایک راستہ ہے ۔ استاد ہونے کے ناطے میری نصیحت یہ ہے کہ:


1. 

**تماشائی نہ بنیں:** اپنی زندگی اور وقت کا کنٹرول سوشل میڈیا کے ہاتھ میں نہ دیں ۔



2. 

**مالی طور پر آزاد بنیں:** اپنے پیسے کو روایتی بینکوں کے بجائے ایسے نظام میں رکھیں جہاں اس پر آپ کا مکمل کنٹرول ہو، جیسے کہ کرپٹو کرنسی یا ڈیجیٹل اثاثے ۔



3. **حقیقت کو سمجھیں:** صرف تماشہ نہ دیکھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے۔ جب آپ اپنا پیسہ اور توجہ اس پرانے نظام سے نکال لیں گے، تو آپ اس "ڈیجیٹل قید خانے" سے باہر نکل آئیں گے ۔




یاد رکھیں، جب آپ تماشہ دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، تو بادشاہ کا جادو ختم ہو جاتا ہے ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو اس بارے میں مزید بتاؤں کہ آپ اپنے بچت کیے ہوئے پیسوں کو اس معاشی خطرے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔