(56) Iran Is Next (Venezuela Was Never About Oil) - YouTube

 (56) Iran Is Next (Venezuela Was Never About Oil) - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=jtRDWh6fdzE&list=WL&index=9

ہیلو! ایک استاد کی حیثیت سے میں آپ کو دنیا کی اس پیچیدہ سیاست کو ایک کہانی کی طرح سادہ الفاظ میں سمجھاتا ہوں، تاکہ آپ اور آپ کے بچے بھی اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔


## **دنیا کا نقشہ اور طاقت کا کھیل**


تصور کریں کہ یہ دنیا ایک بہت بڑا اسکول ہے جس میں کچھ بہت طاقتور لڑکے (ممالک) ہیں۔ سب سے طاقتور لڑکا امریکہ ہے، جو چاہتا ہے کہ اسکول کے اس حصے میں جہاں وہ رہتا ہے، کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہ کرے۔ اسے آپ **مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine)** کہہ سکتے ہیں، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ "میرے گھر کے قریب کوئی دشمن قدم نہیں رکھے گا۔" 


### **وینیزویلا کا قصہ: کیا یہ صرف تیل کی جنگ تھی؟**


اکثر لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ نے وینیزویلا کے صدر کو اس لیے ہٹایا کیونکہ وہاں دنیا کا سب سے زیادہ تیل ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اپنا بہت تیل ہے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ وینیزویلا نے امریکہ کے دشمنوں (چین اور روس) کو اپنے گھر میں دعوت دے دی تھی۔ 


**مثال:** فرض کریں آپ کے پڑوسی کے گھر میں ایک ایسا آدمی آ کر رہنے لگے جو آپ کا دشمن ہے اور وہ وہاں بیٹھ کر آپ کے خلاف منصوبے بنائے، تو آپ کو خطرہ محسوس ہوگا۔ امریکہ کو بھی یہی ڈر تھا کہ چین اور روس وینیزویلا کے ذریعے اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ 


### **تین اہم چیزیں جو امریکہ دیکھتا ہے**


امریکہ کسی بھی ملک میں تب مداخلت کرتا ہے جب یہ تین باتیں پوری ہوں:


1. کوئی دشمن طاقت اس کے علاقے میں آ جائے۔ 



2. وہ علاقہ عالمی تجارت یا سیکیورٹی کے لیے اہم ہو۔ 



3. وہ جگہ امریکہ کے فوجی اڈوں کے قریب ہو۔ 




وینیزویلا ان تینوں پر پورا اترتا تھا۔ وہاں نہ صرف تیل تھا، بلکہ ایسی قیمتی دھاتیں (Rare Earths) بھی تھیں جو موبائل فون، میزائل اور جدید ٹیکنالوجی بنانے کے لیے ضروری ہیں، اور چین ان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ 


---


## **روس، چین اور زمین کا کنٹرول**


دنیا کے دوسرے حصے میں دو اور بڑے کھلاڑی ہیں: روس اور چین۔ یہاں دو بڑے نظریات کام کرتے ہیں:


**ہارٹ لینڈ تھیوری (Heartland Theory):** اس کا مطلب ہے کہ جو زمین کے مرکز (وسطی ایشیا اور روس) پر قبضہ کرے گا، وہ پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔ 



**رِم لینڈ تھیوری (Rimland Theory):** یہ کہتی ہے کہ زمین کے بیچ کے بجائے سمندر کے کناروں اور تجارتی راستوں پر قبضہ کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس بہت زمین ہو لیکن سمندر تک راستہ نہ ہو، تو آپ دشمن کے گھیرے میں آ سکتے ہیں۔ 




**مثال:** روس کے پاس بہت زمین ہے، لیکن اس کے سمندر اکثر سردی میں برف بن جاتے ہیں۔ اس لیے اسے یوکرین جیسی جگہوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ سارا سال سمندر کے راستے تجارت کر سکے۔ 


---


## **اگلا نمبر کس کا ہے؟**


اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اب تین بڑے محاذ کھل سکتے ہیں:


1. **ایران:** یہ امریکہ کے لیے اگلا بڑا ہدف ہو سکتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ایران دنیا کے اس راستے (آبنائے ہرمز) پر بیٹھا ہے جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ ساتھ ہی ایران، چین اور روس کو سستا تیل دے کر امریکہ کی پابندیوں کو کمزور کر رہا ہے۔ 



2. 

**تائیوان:** چین کے لیے تائیوان سب سے اہم ہے کیونکہ وہاں کمپیوٹر کی چپس بنتی ہیں اور وہ سمندر پر کنٹرول کے لیے ضروری ہے۔ 



3. 

**یوکرین:** روس اسے کسی صورت ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تاکہ وہ سمندر سے کٹ نہ جائے۔ 




### **خلاصہ**


یہ سب کچھ صرف تیل یا پیسوں کے لیے نہیں ہو رہا، بلکہ یہ **طاقت اور کنٹرول** کی جنگ ہے۔ ہر بڑا ملک چاہتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو محفوظ رکھے اور دوسرے کی طاقت کو کم کرے۔ امریکہ اپنے قریب کسی دشمن کو نہیں دیکھنا چاہتا، اسی لیے اس نے وینیزویلا میں قدم اٹھایا اور اب اس کی نظریں ایران پر ہیں۔ 


کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان میں سے کسی ایک ملک، جیسے ایران یا چین کی صورتحال پر مزید تفصیل سے بات کروں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔