(56) Gold Is Reacting to Sanctions... But Not the Way People Think - YouTube

 (56) Gold Is Reacting to Sanctions... But Not the Way People Think - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=CxQ7vmsXq3I&list=WL&index=5


آئیے بچو اور دوستو! آج میں آپ کو ایک ایسی کہانی سناتا ہوں جو دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور پیسے کے ایک نئے نظام کے بارے میں ہے۔ اس کہانی کو ہم ایک استاد کی طرح قدم بہ قدم سمجھیں گے تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ دنیا میں کیا ہلچل مچ رہی ہے۔


### اصل کہانی کیا ہے؟


عام طور پر جب ہم خبروں میں پابندیوں یا ملکوں کے درمیان لڑائی کی باتیں سنتے ہیں، تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ صرف سیاست ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لڑائی صرف طاقت کی نہیں بلکہ اس راستے کی ہے جہاں سے پیسہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے ۔ جب کوئی بڑا ملک کسی چھوٹے ملک پر پابندی لگاتا ہے اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے باہر نکال دیتا ہے، تو وہ ملک خاموش ہو کر نہیں بیٹھتا بلکہ اپنا ایک الگ راستہ بنانا شروع کر دیتا ہے ۔


اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جیسے ایک گاؤں میں ایک ہی بڑی سڑک ہو اور اس کا مالک کسی کو وہاں سے گزرنے سے روک دے ۔ اب وہ مسافر گھر بیٹھ کر بھوکا تو نہیں مرے گا، وہ کھیتوں اور پگڈنڈیوں سے اپنا نیا راستہ بنا لے گا ۔ بالکل اسی طرح جب امریکہ نے دوسرے ملکوں پر پابندیاں لگائیں، تو ان ملکوں نے ڈالر کے بجائے اپنا نیا نظام بنانا شروع کر دیا ۔


### ڈالر کی گرتی ہوئی ساکھ اور سونے کی اہمیت


پہلے پوری دنیا ڈالر پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرتی تھی کیونکہ یہ سب سے بڑا نیٹ ورک تھا ۔ لیکن جب ملکوں نے دیکھا کہ ان کا پیسہ کسی بھی وقت ضبط کیا جا سکتا ہے (جیسے روس کے ساتھ ہوا)، تو ان کا بھروسہ ٹوٹ گیا ۔ اب دنیا بھر کے مرکزی بینک ڈالر کے بجائے سونا جمع کر رہے ہیں ۔


**مثال:** فرض کریں آپ اپنے پیسے ایک ایسے دوست کے پاس رکھتے ہیں جو بات بات پر ناراض ہو کر آپ کے پیسے دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔ کیا آپ دوبارہ اسے پیسے دیں گے؟ ہرگز نہیں! آپ سونا خرید کر اپنے پاس رکھ لیں گے کیونکہ سونے پر کسی ایک شخص کا قبضہ نہیں ہوتا اور اسے دنیا میں کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔


### چین اور ہانگ کانگ کا نیا منصوبہ


چین اور اس کے اتحادی اب ایک ایسا متوازی مالیاتی نظام بنا رہے ہیں جو ڈالر کے نظام کے برابر چلے گا ۔ انہوں نے ہانگ کانگ میں سونے کا ایک بہت بڑا مرکز قائم کیا ہے ۔ اس نئے نظام میں تجارت کے لیے اپنی کرنسی استعمال کی جائے گی، لیکن اصل ضمانت کے طور پر 'سونا' رکھا جائے گا کیونکہ سونے پر سب کو بھروسہ ہے ۔


### عام آدمی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟


میرے پیارے شاگردو! اس سب کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے اصول بدل رہے ہیں ۔ جب حکومتیں بے تحاشہ پیسہ چھاپتی ہیں تو پرانے طریقے کے اثاثے (جیسے بینک بیلنس یا بانڈز) اپنی قیمت کھو دیتے ہیں ۔ اب ایسی چیزوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے جنہیں حاصل کرنے کے لیے کسی کی 'اجازت' کی ضرورت نہ ہو، جیسے سونا اور بٹ کوائن ۔


**ایک آخری مثال:** اگر ایک جہاز ڈوب رہا ہو، تو آپ پرانی کرسیوں کو پکڑ کر نہیں بیٹھے رہیں گے، بلکہ لائف جیکٹ تلاش کریں گے ۔ آج کے دور میں وہ 'لائف جیکٹ' ایسے اثاثے ہیں جن کی قیمت وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتی اور جو کسی ملک کی پابندیوں کے محتاج نہیں ہوتے ۔


امید ہے کہ آپ کو یہ بات سمجھ آ گئی ہوگی کہ سونا صرف زیور نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی دنیا میں ایک محفوظ ڈھال بن رہا ہے۔


کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو اس بارے میں مزید بتاؤں کہ مستقبل میں یہ نیا نظام عام لوگوں کی جیب پر کیا اثر ڈالے گا؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔