(56) Accept Cookies Trap - YouTube
(56) Accept Cookies Trap - YouTube
https://www.youtube.com/watch?v=Tx0kZsBnnUE&list=WL&index=7
پیارے بچو اور دوستو! آج میں آپ کو ایک ایسی چیز کے بارے میں بتاؤں گا جو ہم سب روزانہ استعمال کرتے ہیں لیکن ہمیں اس کے پیچھے چھپے "جال" کا علم نہیں ہوتا۔ اسے کہتے ہیں **"کوکیز ٹریپ"** یا ڈیٹا کا کھیل۔ آئیے اسے ایک کہانی کی طرح سمجھتے ہیں۔
## ویب سائٹ کی "یادداشت" کیا ہے؟
پہلے زمانے میں جب آپ انٹرنیٹ پر کوئی ویب سائٹ کھولتے تھے، تو وہ آپ کو بالکل نہیں پہچانتی تھی ۔ آپ جتنی بار بھی ویب سائٹ کھولتے، آپ کو دوبارہ سے اپنا نام اور پاسورڈ ڈالنا پڑتا تھا کیونکہ ویب سائٹ کی اپنی کوئی یادداشت (Memory) نہیں ہوتی تھی ۔ اسے یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ جو انسان ابھی ویب سائٹ استعمال کر رہا ہے، وہ پہلے بھی آیا تھا یا نہیں ۔
پھر ایک صاحب جن کا نام 'مونٹولی' تھا، وہ **"کوکیز"** (Cookies) کا طریقہ لے کر آئے ۔ آج کل جب آپ کسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں، تو وہ آپ سے کہتی ہے کہ "کوکیز قبول کریں" (Accept Cookies) ۔ جیسے ہی آپ اسے قبول کرتے ہیں، ویب سائٹ آپ کی تمام تفصیلات آپ کے اپنے براؤزر میں محفوظ کر دیتی ہے ۔ یہ کوکیز ویب سائٹ کے لیے ایک دماغ یا یادداشت کی طرح کام کرتی ہیں ۔ اب جب آپ دوبارہ اس ویب سائٹ پر جائیں گے، تو وہ آپ کو پہچان لے گی اور آپ کا ڈیٹا اس کے پاس پہلے سے موجود ہوگا ۔
## تیسرے فریق کی کوکیز اور اشتہارات کا جال
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ نے کسی ویب سائٹ پر جوتے دیکھے اور پھر آپ فیس بک یا کسی دوسری نیوز ویب سائٹ پر گئے تو وہاں بھی وہی جوتوں والے اشتہار نظر آنے لگے؟ یہ سب **"تھرڈ پارٹی کوکیز"** (Third Party Cookies) کا کمال ہے ۔
اسے ایک مثال سے سمجھیں: فرض کریں آپ اپنے امی ابو کے ساتھ گھر سے نکلے کہ اسکول کے لیے جوتے خریدنے ہیں۔ لیکن آپ کے بازار پہنچنے سے پہلے ہی پورے بازار کے دکانداروں کو پتا چل جائے کہ یہ بچہ جوتے خریدنے آ رہا ہے ۔ پھر وہ دکاندار جس نے اشتہار دکھانے والے "بیچوان" (Middle Man) کو زیادہ پیسے دیے ہوں گے، وہ بار بار آپ کے سامنے آ کر اپنے جوتے دکھائے گا ۔
ان ویب سائٹس اور اشتہار دینے والوں کے درمیان کچھ بڑے ادارے ہوتے ہیں جیسے گوگل ایڈسینس، فیس بک یا ایمیزون ۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ کوکیز کے ذریعے آپ کی پسند ناپسند کو ٹریک کریں اور آپ کو وہی اشتہار دکھائیں جس میں آپ کی دلچسپی ہو ۔
## ڈیٹا "تیل" سے بھی زیادہ قیمتی ہے
آج کل کے دور میں لوگوں کا ڈیٹا (ان کی معلومات) مشرقِ وسطیٰ کے تیل سے بھی زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے ۔ کمپنیاں آپ کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں تاکہ وہ آپ کے رویے کو سمجھ سکیں اور آپ کو کنٹرول کر سکیں ۔
اس کی ایک حیران کن مثال پیرس کی ایک لڑکی 'جودا' کی ہے ۔ اس نے ایک ایپ (ٹنڈر) استعمال کی اور بعد میں ان سے اپنا ڈیٹا مانگا ۔ کمپنی نے اسے **800 صفحات** پر مشتمل ڈیٹا بھیجا ۔ اس ڈیٹا میں وہ باتیں بھی لکھی تھیں جو جودا کو خود اپنے بارے میں نہیں معلوم تھیں، جیسے کہ وہ ہفتے میں کتنی بار اکیلا پن محسوس کرتی ہے، اسے کس طرح کے لوگ پسند ہیں، اور اس نے نیا سال اکیلے منایا یا نہیں ۔
جب کمپنیوں کے پاس آپ کی اتنی معلومات ہوتی ہیں، تو وہ آسانی سے آپ کی رائے بدل سکتی ہیں، آپ کو ووٹ دینے کے لیے اکسا سکتی ہیں یا آپ سے کوئی بھی چیز خریدوا سکتی ہیں ۔
## ڈیٹا چوری اور خطرات
چونکہ یہ ڈیٹا بہت قیمتی ہے، اس لیے ہیکرز بھی اسے چرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
* سنہ 2021 میں ایئر انڈیا کے 45 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری ہوا ۔
* سنہ 2020 میں بگ باسکٹ نامی کمپنی کے 2 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری کر کے ڈارک ویب پر بیچ دیا گیا ۔
ہیکرز اس ڈیٹا کو استعمال کر کے آپ کی شناخت چوری کر سکتے ہیں یا آپ کے بینک اکاؤنٹ تک پہنچ سکتے ہیں ۔
## ہم کیا کر سکتے ہیں؟
پیارے بچو! ہمیں انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے ہوشیار رہنا چاہیے۔
1. بلا ضرورت ہر ویب سائٹ پر اپنی تفصیلات یا کارڈ کی معلومات نہ ڈالیں ۔
2. ہر جگہ 'Accept Cookies' پر کلک کرنے سے پہلے سوچیں ۔
3. آپ ایک ویب سائٹ **'Have I Been Pwned'** پر جا کر چیک کر سکتے ہیں کہ کہیں آپ کی ای میل آئی ڈی پہلے کبھی ہیک تو نہیں ہوئی ۔
یاد رکھیں، جس ویب سائٹ پر جتنے زیادہ لوگ جاتے ہیں، وہاں اتنا ہی زیادہ ڈیٹا اور اتنا ہی زیادہ پیسہ ہوتا ہے ۔ اس لیے اپنی معلومات کی حفاظت خود کریں!
**کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کچھ ایسے طریقے بتاؤں جن سے آپ انٹرنیٹ پر اپنا ڈیٹا محفوظ رکھ سکتے ہیں؟**
Comments
Post a Comment