(52) Is Jane Street Guilty of Manipulating the Bitcoin Price? - YouTube
(52) Is Jane Street Guilty of Manipulating the Bitcoin Price? - YouTube
https://www.youtube.com/watch?v=erWQQw7b0jw
یقیناً، میں اس پوری کہانی کو آسان الفاظ میں، مثالوں کے ساتھ، تفصیل سے بیان کرتا ہوں تاکہ ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکے۔
یہ ویڈیو ایک اہم سوال پر بحث کرتی ہے: کیا جین سٹریٹ (Jane Street) نامی بڑی وال اسٹریٹ فرم بٹ کوائن (Bitcoin) کی قیمت میں ہیرا پھیری (Manipulation) کر رہی تھی؟ اور اگر ہاں، تو اس کا عام لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟
آئیے، اس پوری کہانی کو ایک سادہ کہانی کی طرح سمجھتے ہیں۔
### کہانی کا آغاز: ایک مقدمہ اور ایک شک
1. **ٹیرافارم کا مقدمہ:** ایک کمپنی (ٹیرافارم) جو دیوالیہ ہو چکی تھی، اس کے منتظم نے جین سٹریٹ پر مقدمہ کر دیا۔ الزام تھا کہ جین سٹریٹ نے اندرونی معلومات (Insider Information) استعمال کر کے ٹیرا لونا کے کریش ہونے سے پیسے کمائے۔
2. **جین سٹریٹ کون ہے؟** یہ دنیا کی بڑی مقداری تجارتی فرم (Quantitative Trading Firm) ہے۔ یہ ہر چیز کی تجارت کرتی ہے: حصص (Equities)، بانڈز (Bonds)، کرپٹو (Crypto)۔ اور یہ بٹ کوائن ETF کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے، جیسے پائپ لائن کا ایک حصہ جو پیسے کو بہنے میں مدد دیتا ہے۔
3. **عجیب و غریب نمونہ:** مقدمہ ہوتے ہی لوگوں نے ایک عجیب چیز دیکھی۔ پچھلے کئی مہینوں سے، ہر روز صبح 10:00 بجے (مشرقی وقت) بٹ کوائن کی قیمت اچانک گر جاتی تھی۔ یہ ایک مستقل نمونہ تھا جسے لوگوں نے دیکھا تو تھا، لیکن اس کا کوئی نام نہیں تھا۔
4. **مقدمے کے بعد تبدیلی:** جیسے ہی جین سٹریٹ پر مقدمہ ہوا، یہ 10 بجے والا ڈمپ اچانک بند ہو گیا۔ اور اگلے 48 گھنٹوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں 7 فیصد کا اضافہ ہو گیا۔ لوگوں نے فوراً ان دونوں واقعات کو جوڑ دیا۔
### شک کی مزید وجوہات
صرف قیمت کا گرنا ہی نہیں تھا، بلکہ کچھ اور بھی تھا:
* **13F فائلنگ:** جین سٹریٹ نے ایک سرکاری دستاویز (13F) میں بتایا کہ اس نے مائیکرو اسٹریٹجی (MSTR) نامی کمپنی کے حصص میں تقریباً 475 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ یہ وہی کمپنی ہے جس کے پاس بہت زیادہ بٹ کوائن ہے۔
* **ایک ساتھ دو کام:** ایک طرف جین سٹریٹ پر الزام ہے کہ وہ بٹ کوائن کی قیمت دبانے (Suppression) میں ملوث ہے۔ دوسری طرف، وہ بٹ کوائن رکھنے والی سب سے بڑی کمپنی میں اپنی حصص داری بڑھا رہی ہے۔ اسی وقت، مارکیٹ میں لوگ اسی کمپنی (MSTR) کے خلاف شرط لگا رہے تھے (Short Selling)۔ یہ سب ملا کر ایک سازش (Conspiracy) جیسا لگ رہا تھا۔
### دو مخالف رائے (Two Camps)
اس واقعے پر فوراً دو گروپ بن گئے:
* **گروپ 1 (Manipulation):** ان کا ماننا ہے کہ یہ بٹ کوائن کی قیمت کو جان بوجھ کر دبانے کا منصوبہ ہے، جیسا کہ وال اسٹریٹ نے سونے (Gold) کے ساتھ کئی دہائیوں تک کیا۔ وہ قیمت گراتے ہیں، چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور سستے داموں جمع کرتے ہیں۔
* **گروپ 2 (Organic Selling):** ان کا کہنا ہے کہ یہ قدرتی عمل ہے۔ بٹ کوائن وہ لوگ بیچ رہے ہیں جو اسے برسوں سے رکھے ہوئے تھے (Long-term Holders)۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر چیز کے پیچھے سازش ڈھونڈنا ٹھیک نہیں۔
### ماہرین کی رائے
اب ہم دونوں گروپوں کی حمایت میں ماہرین کی باتیں سنتے ہیں:
#### کیٹلین لانگ (Caitlin Long) - قیاس آرائی (Suppression) کے حامی
وہ 22 سال وال اسٹریٹ پر رہ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
* **کاغذی دعوے (Paper Claims):** جب بھی بٹ کوائن پر کوئی نئی مصنوعات (جیسے ETF یا Yield Product) بنتی ہے، تو اصلی بٹ کوائن پر کاغذی دعوے بڑھ جاتے ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ وہ اصلی بٹ کوائن خرید رہے ہیں، لیکن دراصل وہ ایک دعویٰ خرید رہے ہیں۔
* **سونے کی مثال:** اس نے سونے کی مارکیٹ کی مثال دی۔ وہاں کاغذی دعوے اصلی سونے سے 100 گنا زیادہ ہیں۔ یعنی ایک اصلی سونے کے سکے پر 100 لوگوں کا دعویٰ ہے۔ جب بھی یہ لوگ اصلی سونا مانگیں گے، تو بحران پیدا ہو گا۔ وہ کہتی ہیں کہ بٹ کوائن بھی اسی طرف بڑھ رہا ہے۔
* **کیسے قیمت دبتی ہے؟** جب کاغذی دعوے بڑھتے ہیں، تو مارکیٹ میں سپلائی (فرضی) بڑھ جاتی ہے، جس سے قیمت دبتی ہے۔ یہ طلب اور رسد (Supply and Demand) کا سادہ اصول ہے۔
**مثال:** فرض کریں ایک اصلی بٹ کوائن ہے۔ ایک بینک اس پر 100 لوگوں کو سرٹیفیکیٹ جاری کر دیتا ہے کہ ان کے پاس ایک بٹ کوائن ہے۔ اب مارکیٹ میں 100 بٹ کوائن ہونے کا دھوکہ ہے۔ جب قیمت گرتی ہے تو یہ 100 لوگ گھبرا کر بیچ دیتے ہیں، حالانکہ اصلی بٹ کوائن تو ایک ہی ہے۔ اس طرح ایک چھوٹی سی اصل فروخت (Real Selling) بھی قیمت کو بہت نیچے لے آتی ہے۔
#### جیمز چیک (James Czech) - آن چین ڈیٹا (On-chain Data) کے ماہر
وہ بلاک چین کے ڈیٹا کو پڑھ کر بتاتے ہیں کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے:
* **پرانا بٹ کوائن منتقل ہوا:** ان کا کہنا ہے کہ Q4 2024 میں بہت زیادہ پرانا بٹ کوائن (جو 3، 5، یا 7 سال سے حرکت نہیں کر رہا تھا) اچانک فروخت ہوا۔
* **قدرتی فروخت:** یہ کوئی الگورتھم (Algo) نہیں تھا جو قیمت گرا رہا تھا، بلکہ اصلی لوگ (اولڈ ٹائمرز) جو 2017 کی طرح عروج پر منافع کما رہے تھے۔
* **چاندی (Silver) کی مثال:** اس نے چاندی کے سرمایہ کاروں کی مثال دی جو ہمیشہ "ہیرا پھیری" کا رونا روتے ہیں۔ جب بھی چاندی کی قیمت گرتی، وہ کہتے کہ کوئی ان کے خلاف ہے۔ لیکن جیمز کا کہنا ہے کہ جب قیمت بہت تیزی سے بڑھتی ہے، تو لوگ منافع لینے کے لیے بیچتے ہیں، یہ کوئی سازش نہیں۔
### دونوں باتیں سچ ہو سکتی ہیں۔
ویڈیو میں بتایا گیا کہ دونوں ماہرین غلط نہیں ہیں، بلکہ دونوں کی باتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں:
* کیٹلین لانگ درست ہیں کہ کاغذی دعوے (Paper Claims) اور دوبارہ گروی رکھنے (Rehypothecation) کا نظام موجود ہے جو قیمت کو دباتا ہے۔
* جیمز چیک بھی درست ہیں کہ آن چین ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ پرانے ہولڈرز واقعی فروخت کر رہے تھے (Organic Selling)۔
**نتیجہ:** پرانے ہولڈرز نے جو اصلی بٹ کوائن بیچا، وہ ایسی مارکیٹ میں بیچا جہاں پہلے سے ہی کاغذی دعووں کی وجہ سے قیمت پر دباؤ تھا۔ اس لیے قیمت میں گراوٹ زیادہ شدید تھی۔
### مائیکل سیلر (Michael Saylor) کا نقطہ نظر
وہ بتاتے ہیں کہ یہ کاغذی دعوے کیسے اصل فروخت کا دباؤ بنتے ہیں:
* **دوبارہ گروی رکھنا (Rehypothecation):** فرض کریں آپ نے اپنا بٹ کوائن بینک میں گروی رکھا (Collateral)۔ بینک اسے کسی اور کو قرض دینے کے لیے دوبارہ استعمال کر سکتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی بار چل سکتا ہے۔
* **فروخت کا دباؤ:** اس طرح آپ کا ایک بٹ کوائن 30 یا 40 ڈالر مالیت کی فروخت کا سبب بن سکتا ہے۔ جب قیمت گرتی ہے تو یہ تمام قرضے بیچے جاتے ہیں، جس سے قیمت مزید گرتی ہے۔
**مثال:** آپ نے اپنا بٹ کوائن "A" ایکسچینج پر رکھا۔ ایکسچینج وہ بٹ کوائن "B" کو قرض دے دیتا ہے۔ "B" اسے "C" کو دیتا ہے۔ جب "C" بیچتا ہے، تو وہ آپ کا وہی بٹ کوائن بیچتا ہے، اور قیمت گرتی ہے۔
### بٹ کوائن بمقابلہ سونا (Bitcoin vs Gold)
سونے کے ساتھ ہیرا پھیری کی گئی، تو بٹ کوائن کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیٹلین لانگ جواب دیتی ہیں:
* **سونے کا مسئلہ:** سونا ہمیشہ بینکوں کی والٹ میں رکھا جاتا تھا۔ انفرادی ملکیت بہت کم تھی۔ اس لیے بینک اس پر مکمل کنٹرول کر سکتے تھے۔
* **بٹ کوائن کا فرق:** بٹ کوائن کا 70% حصہ طویل مدتی ہولڈرز (Long-term Hodlers) کے پاس ہے، جو اسے خود رکھتے ہیں (Self-custody)۔
* **فرار کا راستہ:** آپ بٹ کوائن کو انٹرنیٹ پر، ہیم ریڈیو پر بھی منتقل کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی دو لوگ فون اور پرائیویٹ کی کی مدد سے بٹ کوائن ٹرانزیکشن کر سکتے ہیں۔ وال اسٹریٹ اسے نہیں روک سکتی۔
**مثال:** اگر جین سٹریٹ اپنے ETF میں بٹ کوائن کی قیمت دبا بھی رہی ہے، تو میں اور آپ آپس میں براہ راست بٹ کوائن خرید و فروخت کر سکتے ہیں، کسی بینک کی ضرورت نہیں۔
### مائیکل سیلر کا آخری مشورہ
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ (Volatility) اس کی سب سے بڑی طاقت ہے:
* **یہ ایک کشش ثقل کا میدان ہے:** یہ اتار چڑھاؤ ہی ہے جو دنیا کی تمام توانائی (مالی، سیاسی، ڈیجیٹل) کو بٹ کوائن کی طرف کھینچ رہا ہے۔
* **آپ کیا ہیں؟** آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو آپ تاجر (Trader) ہیں جو اگلے 4 دنوں کی قیمت دیکھتے ہیں، یا آپ سرمایہ کار (Investor) ہیں جو اگلے 4 سالوں کی قیمت دیکھتے ہیں۔ اگر آپ سرمایہ کار ہیں، تو یہ روزمرہ کی ہیرا پھیری آپ کے لیے اہم نہیں ہے۔ یہ آپ کو سستے داموں جمع کرنے کا موقع دیتی ہے۔
### نتیجہ
* کیا جین سٹریٹ قصوروار ہے؟ شاید ہاں، شاید نہیں۔
* **اصلی مسئلہ:** اصل مسئلہ "ہیرا پھیری" نہیں ہے، بلکہ "کاغذی بٹ کوائن" (Paper Bitcoin) ہے۔
* **سبق:** جو بھی ETF، ایکسچینج، یا Yield Product میں بٹ کوائن رکھتا ہے، وہ دراصل ایک دعویٰ (Claim) رکھتا ہے، اصلی بٹ کوائن نہیں۔ جب موسیقی رکے گی (جب سب کو اصلی بٹ کوائن چاہیے ہو گا)، تو یہ لوگ پیچھے رہ جائیں گے۔
* **حل:** اپنی چابیاں خود رکھیں (Self-custody)، اصلی بٹ کوائن رکھیں۔
**آسان مثال:** تصور کریں کہ ایک کمرے میں 10 کرسیاں ہیں (اصلی بٹ کوائن)۔ لیکن ٹکٹ 100 لوگوں کو بیچ دیے گئے ہیں (کاغذی دعوے)۔ جب تھوڑی سی ہلچل ہوتی ہے، تو سب کرسی پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اور 90 لوگ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ کاغذی دعوے رکھنے والے ان 90 لوگوں کی طرح ہیں۔
لہٰذا، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کرسی (اصلی بٹ کوائن) پکڑنا چاہتے ہیں یا صرف ٹکٹ (کاغذی دعویٰ)۔
Comments
Post a Comment