(49) Bitcoin Has Been Captured - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=IxpuU1MZbHg




سب سے پہلے، تصور کرو کہ Bitcoin کیا ہے۔ یہ ایک قسم کا "ڈیجیٹل پیسہ" ہے، جیسے تمہارے کھیل میں سکے ہوتے ہیں جو تم جمع کرتے ہو۔ ایک شخص جس کا نام Satoshi Nakamoto تھا (جو شاید ایک خیالی نام ہے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا وہ کون ہے)، اس نے 2008 میں یہ Bitcoin بنایا۔ اس وقت دنیا میں ایک بڑا مالی بحران آیا تھا – یعنی بینکوں اور پیسے کے نظام میں بہت گڑبڑ ہوئی تھی۔ لوگوں کا پیسہ ضائع ہو رہا تھا، اور بڑی کمپنیاں اور حکومتوں نے لوگوں کو دھوکا دیا تھا۔ تو Satoshi نے سوچا: "کیوں نہ ایک ایسا پیسہ بناؤں جو کوئی حکومت یا بینک کنٹرول نہ کرے؟" Bitcoin ایسا ہی ہے – یہ ایک کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے چلتا ہے، اور اس کی کل تعداد محدود ہے، صرف 21 ملین Bitcoin بن سکتے ہیں، جیسے ایک کھیل میں محدود سکے ہوتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ لوگ اسے ایک دوسرے کو بھیج سکتے ہیں بغیر کسی بینک کے، اور یہ "ڈی سینٹرلائزڈ" ہے، مطلب کوئی ایک شخص یا کمپنی اسے کنٹرول نہیں کرتی۔ سب لوگ مل کر اسے چلاتے ہیں، جیسے ایک بڑا گروپ کھیل جہاں سب برابر ہیں۔


اب کہانی کا دلچسپ حصہ شروع ہوتا ہے: "Bitcoin Has Been Captured" کا مطلب ہے کہ Bitcoin پر "قبضہ" ہو گیا ہے۔ کیسے؟ پہلے تو Bitcoin صرف عام لوگوں کا تھا – جیسے تم اور میں، جو تھوڑا تھوڑا خریدتے تھے اور اسے اپنے کمپیوٹر میں رکھتے تھے۔ لیکن اب بڑی بڑی کمپنیاں، بینک، اور حکومتیں (جنہیں ہم "انسٹی ٹیوشنز" کہتے ہیں) آ گئیں ہیں اور انہوں نے بہت سارا Bitcoin خرید لیا ہے۔ کتنا؟ کل Bitcoin کی 20 فیصد سے زیادہ سپلائی ان کے پاس ہے – یعنی 4 ملین سے زیادہ Bitcoin! یہ ایک بڑی تعداد ہے، جیسے ایک کھیل میں سب سے زیادہ سکے چند بڑے کھلاڑیوں کے پاس چلے جائیں۔


کیوں یہ اچھی بات ہے؟ دیکھو، یہ بڑے لوگ بہت امیر ہیں، ان کے پاس پیسے کی ندی بہتی ہے۔ جب وہ Bitcoin خریدتے ہیں، تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے، جیسے تمہارے کھیل میں جب زیادہ لوگ سکے چاہتے ہیں تو ان کی ویلیو بڑھ جاتی ہے۔ اس سے Bitcoin کو اعتبار ملتا ہے – لوگ سوچتے ہیں کہ "واہ، بڑی کمپنیاں بھی اسے استعمال کر رہی ہیں، تو یہ اچھا ہے!" مثال کے طور پر، ایک کمپنی جس کا نام MicroStrategy ہے، اس نے اپنے پیسے کا بہت بڑا حصہ Bitcoin میں لگا دیا ہے۔ ان کے پاس تقریباً 62 فیصد Bitcoin ہے جو تمام کمپنیوں کے پاس ہے۔ اسی طرح، BlackRock جیسی بڑی کمپنی نے "ETFs" بنائے، جو ایک قسم کا فنڈ ہے جہاں لوگ Bitcoin خریدے بغیر اس کی قیمت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ ETFs کے پاس 1.6 ملین Bitcoin ہے! تو، یہ سب مل کر Bitcoin کو مزید مشہور اور طاقتور بنا رہے ہیں، اور قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔


لیکن اب کہانی میں ٹویسٹ آتا ہے – یہ قبضہ برا کیوں ہے؟ کیونکہ Bitcoin کی اصل روح یہ تھی کہ یہ آزاد ہو، کوئی بڑا کنٹرول نہ کرے۔ اب یہ بڑی کمپنیاں اور بینک اسے اپنے پرانے نظام میں ملا رہے ہیں، جسے "ٹریڈیشنل فنانس" یا TradFi کہتے ہیں۔ مطلب، وہی بینک جو Bitcoin کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اب اسے استعمال کر رہے ہیں! یہ ایک دھوکے کی طرح ہے، جیسے ایک کھیل جو آزاد کھیلنے کے لیے بنایا گیا تھا، اب بڑے کھلاڑی اسے اپنے اصولوں سے کھیل رہے ہیں۔ اگر یہ بڑے لوگ اپنا Bitcoin بیچ دیں، تو قیمت بہت گر سکتی ہے، اور عام لوگوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ مثال دوں؟ ایک کمپنی Riot Platforms نے دسمبر میں 1,800 Bitcoin بیچے، اور قیمت میں 20 فیصد گراوٹ آئی۔ اسی طرح، ETFs سے نومبر 2024 میں 3.4 بلین ڈالر کے Bitcoin نکلے، مطلب لوگوں نے بیچا۔ اگر کوئی بڑا مسئلہ ہو، جیسے معاشی بحران (جیسے 2008 کا)، تو یہ لوگ جلدی بیچ سکتے ہیں، اور چھوٹے لوگ متاثر ہوں گے۔


ایک اور مسئلہ: یہ بڑے لوگ Bitcoin کو "کسیوڈیل" رکھتے ہیں، مطلب وہ خود نہیں رکھتے، بلکہ کمپنیوں کے پاس رکھتے ہیں۔ اگر وہ کمپنی ہیک ہو جائے یا دیوالیہ ہو جائے، تو پیسہ ضائع! مثال کے طور پر، 2023 میں Prime Trust نامی کمپنی دیوالیہ ہوئی، اور لوگوں کے پیسے پھنس گئے۔ ایک اور خطرہ "کوانٹم کمپیوٹنگ" کا ہے – یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جو بہت تیز کمپیوٹر بناتی ہے، جو Bitcoin کے سیکیورٹی کو توڑ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا، تو قیمت 50 ہزار ڈالر سے بھی نیچے گر سکتی ہے، جیسے ایک بڑا زلزلہ!


اب، یہ قبضہ Bitcoin کے نیٹ ورک کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ اچھی خبر یہ ہے کہ Bitcoin کا بنیادی نظام اب بھی محفوظ ہے۔ یہ "پروف آف ورک" پر چلتا ہے، جہاں کمپیوٹرز (جنہیں مائنرز کہتے ہیں) پہیلیاں حل کرتے ہیں تاکہ ٹرانزیکشنز چیک ہوں۔ یہ بڑے لوگ مائننگ نہیں کرتے، تو نیٹ ورک ڈی سینٹرلائزڈ رہتا ہے۔ لیکن اگر وہ مائنرز میں پیسہ لگائیں، تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔


طویل مدت میں کیا ہوگا؟ یہ بڑے لوگ مزید Bitcoin خریدیں گے، تو دستیاب Bitcoin کم ہوگا، اور قیمت میں اچھال آ سکتا ہے۔ لیکن مختصر وقت میں، اگر وہ بیچیں، تو اتار چڑھاؤ بڑھے گا۔ مثال کے طور پر، 71 فیصد انسٹی ٹیوشنز سوچتے ہیں کہ Bitcoin کی قیمت اب بھی کم ہے، تو وہ مزید خریدیں گے۔ یہ Bitcoin کو ایک "سٹور آف ویلیو" بنا رہا ہے، جیسے سونا، جو وقت کے ساتھ قیمتی ہوتا جاتا ہے۔


تو، میرے بچو اور دوستو، یہ کہانی ہے Bitcoin کی – ایک آزاد پیسے کی، جو اب بڑے کھلاڑیوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ فائدے ہیں، جیسے ترقی اور اعتبار، لیکن خطرات بھی، جیسے کنٹرول کا کھو جانا اور قیمت کا گرنا۔ اصل میں، یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کوئی بھی چیز، چاہے کتنی بھی اچھی ہو، اگر بڑے لوگ اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں، تو اس کی اصل روح تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر تم Bitcoin کے بارے میں مزید جاننا چاہو، تو سوچو کہ یہ ایک کھیل ہے جہاں تم خود سکے جمع کرو اور محفوظ رکھو۔ کیا تمہیں یہ کہانی سمجھ آئی؟ اگر کوئی سوال ہو، تو پوچھو! 😊

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔