(47) How Pakistani Banks Made Billions While the Economy Collapsed | Inside The Rigged Banking System - YouTube

 (47) How Pakistani Banks Made Billions While the Economy Collapsed | Inside The Rigged Banking System - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=usIEJwDcWnA&list=WL&index=5


پاکستان کے بینکوں نے معاشی بحران کے دوران کیسے اربوں کمائے؟  

(آسان فہم تفصیل)


یہ کہانی پاکستان کے بینکنگ سسٹم کے بارے میں ہے، جو کہ ظاہری طور پر تو ہماری مدد کرتا ہے لیکن حقیقت میں اس نظام نے عوام کو قرضے دینے کی بجائے حکومت کو قرضے دے کر اور صرف امیر لوگوں کو فائدہ پہنچا کر خود تو خوب کمایا لیکن ملکی معیشت کو تباہ کر دیا۔


نیچے دی گئی وضاحت میں ہر نکتے کو مثالوں اور آسان الفاظ میں سمجھایا گیا ہے۔


### 🌟 شروع کا جھٹکا: بینک شیئرز کا عجیب کارنامہ


کہانی کا آغاز ایک حیران کن موازنے سے ہوتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی NVIDIA کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کے شیئرز نے 3 سال میں 10 گنا منافع دیا۔ لیکن پاکستان میں ذرا غور کریں:


*   مثال: جناب "زبیر بھائی" نے 2023 میں NBP (نیشنل بینک آف پاکستان) کے 1 لاکھ روپے کے شیئرز خریدے، جو اس وقت 20 روپے فی شیئر تھے۔ آج وہی شیئر 275 روپے کا ہے۔ یعنی 3 سال سے بھی کم عرصے میں 14 گنا منافع! (یعنی 14x ریٹرن)۔

*   اسی طرح UBL نے 10x، مسلم کمرشل بینک (MCB) نے 7x، عسکری بینک نے 10x اور بینک آف پنجاب نے 12x ریٹرن دیا۔


**سوال یہ ہے کہ NVIDIA کی ترقی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ AI (مصنوعی ذہانت) کی چپس بناتا ہے، لیکن جب پاکستان کی معیشت تباہ ہو رہی تھی تو بینکوں کے شیئرز کیوں اتنے بڑھے؟**


اس کا جواب ہے **"پیسے کی راہ" (Follow the Money)**۔


---


### 🏦 بینک کیا ہیں اور یہ کس کے ہیں؟


بینک پیسے لین دین کی دکانیں ہیں۔ لوگ اپنا بچت کا پیسہ یہاں رکھتے ہیں، اور بینک وہ پیسہ ضرورت مندوں (لوگوں، کاروباروں، حکومت) کو قرضے کے طور پر دیتے ہیں۔ اس لین دین کے دوران جو منافع (فرق) بنتا ہے، وہ بینک اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔


پاکستان میں تین طرح کے بینک ہیں:

1.  **کمرشل بینک:** (یہ ہماری کہانی کا مرکزی کردار)

2.  **ڈیولپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوٹ (DFIs)**

3.  **مائیکرو فنانس بینک**


پاکستان میں 28 کمرشل بینک کام کر رہے ہیں۔ ان کے پاس عوام کے 37 ٹریلین روپے (تقریباً 120 بلین ڈالر) جمع ہیں۔


**یہ بڑے بینک کس کے ہیں؟ (مالکان)**


*   **ایچ بی ایل (HBL):** آغا خان فاؤنڈیشن

*   **نیشنل بینک (NBP):** حکومت پاکستان

*   **یونائیٹڈ بینک (UBL):** برطانیہ کا بیسٹ وے گروپ

*   **میزان بینک:** 65% شیئرز کویتی کمپنیوں کے پاس

*   **بینک الحبیب:** داؤد حبیب گروپ (کراچی)

*   **بینک الفلاح:** ابوظہبی گروپ

*   **مسلم کمرشل بینک (MCB):** میاں منشا صاحب

*   **فیصل بینک:** بحرین کا التمار بینک

*   **ہمایوں معاملات:** باقی کے مالکان بھی مختلف ممالک اور گروپس سے تعلق رکھتے ہیں۔


---


### 🤔 بینک کام کیا کرتے ہیں اور یہ کس کو قرضے دیتے ہیں؟


بینکوں کا بنیادی کام لوگوں کے جمع کرائے ہوئے پیسے (ڈپازٹس) کو قرضے (لون) کے طور پر ان لوگوں کو دینا ہے جو کاروبار کرنا چاہتے ہیں، گھر بنانا چاہتے ہیں، وغیرہ۔


**پاکستان میں صورتحال کیا ہے؟**


*   **مسئلہ 1: بینک عوام کو قرضے نہیں دیتے:**

    *   پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر کو دیا جانے والا قرضہ ملکی جی ڈی پی کے 10% سے بھی کم ہے۔ (مقابلے میں فلپائن 50%، بنگلہ دیش 35%، مصر 26%)۔

    *   پاکستانی بینکوں کا "ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو" (ADR) صرف 35% ہے۔ یعنی آپ نے 100 روپے جمع کرائے تو بینک ان میں سے صرف 35 روپے عوام اور کاروباروں کو قرضے میں دیتا ہے۔

    *   مثال: ایک چھوٹی کمپنی کو بڑی مشکل سے پتہ چلا کہ اگر آپ کے پاس جائیداد (کولیٹرل) نہیں ہے تو آپ کو 1 کروڑ سے زیادہ قرضہ نہیں مل سکتا، چاہے آپ کی کمپنی کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ بینک چھوٹے کاروباروں کو قرض دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔


*   **مسئلہ 2: باقی پیسہ کہاں جاتا ہے؟**

    *   باقی 65% پیسہ (آپ کے جمع کرائے ہوئے 100 روپے میں سے) بینک حکومت کو قرضے کی صورت میں دے دیتے ہیں۔

    *   یہ "انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو" (IDR) ہے جو 100% تک پہنچ گیا ہے۔

    *   بینک حکومت کو قرضہ دینے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ:

        *   **کم محنت:** ایک لاکھ لوگوں کو 50-50 لاکھ کے ہاؤسنگ لون دینے کی بجائے، ایک ہی کلائنٹ (حکومت) کو 500 ارب روپے دینا آسان ہے۔

        *   **صفر رسک (خطرہ نہ ہونے کے برابر):** حکومت کو لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہوگا، اگر واپس نہ کر سکے تو نوٹ چھاپ کر واپس کر دے گی (مہنگائی میں اضافہ)۔ بینک کو تو سود ملتا رہتا ہے۔


*   **نتیجہ:** یہ ڈیل بینک اور حکومت دونوں کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن معیشت (کاروبار) تباہ ہو جاتی ہے۔ جیسے جسم میں خون کی کمی ہو تو وہ کمزور ہو جاتا ہے، ویسے ہی کاروباروں میں کیش فلو (رقم کی روانی) کی کمی سے معیشت کمزور ہو جاتی ہے۔


**کس کا قصور زیادہ ہے؟**  

دونوں کا۔ پچھلے 25 سالوں میں آدھے سے زیادہ عرصے تک وزارت خزانہ انہیں بینکروں کے پاس رہی ہے۔ (مقابلے میں ہندوستان میں اس دوران کوئی بینکر وزیر خزانہ نہیں بنا)۔ حکومت اتنا خرچ کرتی ہے کہ اس کی آمدنی اس کے اخراجات سے بہت کم ہوتی ہے، اس لیے وہ بینکوں سے قرضہ لیتی ہے۔


---


### 💰 بینک پیسے کیسے کماتے ہیں؟


بینک "سود کے فرق" (اسپریڈ) سے پیسے کماتے ہیں۔


*   مثال: ظفر (بینک والا) ابراہیم (بچت کرنے والا) سے کہتا ہے: "مجھے 1000 روپے دو، میں تمہیں سالانہ 80 روپے منافع دوں گا۔"

*   پھر ظفر اسامہ (قرض لینے والے) سے کہتا ہے: "تمہیں 1000 روپے قرضے چاہیے؟ لے لو، لیکن واپس 1130 روپے دو گے (یعنی 130 روپے اضافہ)"۔

*   بینک کا منافع = (130 - 80) = 50 روپے (جو کہ اس کا کمیشن ہے)۔


پاکستان میں یہ فرق (اسپریڈ) 4% کے لگ بھگ ہے، جو 2023 میں 8% تک پہنچ گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 5 سالوں میں بینکوں کا منافع دگنا ہو گیا ہے۔


بینک دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ 53% ٹیکس دیتے ہیں (جو بہت زیادہ ہے)، لیکن ان کے منافع کی اصل قیمت عوام کو چکانا پڑتی ہے۔ انڈائریکٹ ٹیکسز (جیسے بچوں کے دودھ، پیٹرول پر ٹیکس) اور تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس کی مد میں یہ خسارہ پورا کیا جاتا ہے۔


---


### 🏃 بینکوں کی ڈپازٹس کی جنگ اور اس کے نقصانات


ڈپازٹس بڑھانے کے لیے بینکوں نے ایک دوسرے سے مقابلہ شروع کر دیا۔ کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں صرف 1 کلومیٹر کے دائرے میں میزان بینک کی 6 شاخیں کھل گئیں۔ 2022-24 کے دوران تقریباً 15 ہزار نئی شاخیں کھولی گئیں، زیادہ تر اسلامی بینکنگ کی۔


**اس مقابلے کے نقصانات:**


1.  **ملازمین پر ظلم:**

    *   مثال: ایک بینک مینیجر کو بتایا گیا کہ وہ دن بھر بھاگ بھاگ کر صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک کام کرے۔

    *   شام 5:30 بجے اعلیٰ افسر کا فون آتا ہے کہ "آپ نے کیا کیا؟"۔

    *   کام کا بوجھ اتنا زیادہ کہ ایک ملازم کو رات 9 بجے میٹنگ کے لیے بلایا گیا، جس میں وہی باتیں دہرائی گئیں جو ایک ہفتے پہلے ہو چکی تھیں۔

    *   اس تناؤ کی وجہ سے ملازمین میں ڈپریشن، بلڈ پریشر اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


2.  **صارفین کے ساتھ ناانصافی:**

    *   مثال: جناب میر ناصر نے ہاؤسنگ فنانس لیا۔ قرضہ ختم کرنے کے لیے انہوں نے بینک سے پے آف شیٹ (باقی رقم بتانے والا کاغذ) مانگی تو 10 دن تک جواب نہ آیا (شاید اس لیے کہ 10 دن کا کرایہ 3 لاکھ بنتا تھا)۔ جب خود ہیڈ آفس سے رابطہ کیا تو پے آف شیٹ ملی۔ برانچ جا کر رقم جمع کرانے لگے تو وہاں 30 منٹ میں تین بار رقم تبدیل کی گئی۔ آخر میں ان سے آفیشل پیپر سے زیادہ رقم مانگی گئی۔

    *   2024 میں وفاقی بینکنگ محتسب کو 33,000 شکایات موصول ہوئیں، جن کے نتیجے میں 1.6 ارب روپے صارفین کو واپس کروائے گئے۔ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 53,000 ہو گئی۔


---


### 💰 بینکوں کا "انشورنس سکیم" کا سکینڈل


بینک اپنے گاہکوں کو انشورنس پالیسیاں بیچتے ہیں، جسے **بینک انشورنس (Bancassurance)** کہتے ہیں۔


*   طریقہ کار: ایک شخص پہلے سال 1 لاکھ روپے پریمیم دیتا ہے۔ اس میں سے 50-70% کمیشن انشورنس کمپنی اور بینک اٹھا لیتے ہیں۔ صرف 30-50% پیسہ انویسٹ ہوتا ہے۔

*   دوسرے سال 20%، تیسرے سال 10% کمیشن کاٹا جاتا ہے۔

*   نتیجہ: آپ کو اپنی اصل رقم واپس آنے میں 6-7 سال لگ جاتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ پنشنرز، بیواؤں اور کمزور طبقے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔


---


### 👑 بینکوں کے صدور کی بھاری تنخواہیں


بینک اپنے صدر کو بھاری تنخواہیں دیتے ہیں:

*   HBL: 80 کروڑ روپے

*   میزان بینک: 41 کروڑ روپے

*   الفلاح: 37 کروڑ روپے

*   فیصل بینک: 33 کروڑ روپے

*   بینک الحبیب: 24 کروڑ روپے


عام ملازمین پر ظلم، لیکن اعلیٰ افسران کا خوب خیال رکھا جاتا ہے۔


---


### 🕌 اسلامی بینک: کیا یہ واقعی حل ہیں؟


اسلامی بینک (خاص طور پر میزان بینک) نے بے پناہ منافع کمایا ہے۔ میزان بینک نے 2024 میں 100 ارب روپے سے زیادہ منافع کمایا، جو کہ ڈپازٹس میں اس سے بڑے بینکوں (UBL, HBL) سے بھی زیادہ ہے۔


**سوال: میزان بینک آدھے ڈپازٹس رکھ کر HBL سے دگنا منافع کیسے کما رہا ہے؟**


*   وجہ: جب سود کی شرحیں بڑھیں تو بینکوں نے لوگوں کے اکاؤنٹس کو "اسلامک" میں تبدیل کرنا شروع کر دیا، اکثر ان کی مرضی کے بغیر۔

*   وجہ یہ تھی کہ اسٹیٹ بینک نے کنونشنل بینکوں پر کم از کم ڈپازٹ ریٹ (سود) کی شرح مقرر کر رکھی تھی، لیکن اسلامی بینک اس سے آزاد تھے۔ وہ ڈپازٹرز کو کم منافع دے سکتے تھے اور خود زیادہ کمائی کر سکتے تھے۔ یہ چھوٹ اس لیے دی گئی تھی کہ اسلامی بینک مارکیٹ میں نئے تھے۔

*   نومبر 2024 میں جب اسلامی بینکوں کے ریکارڈ منافع دیکھے گئے تو یہ چھوٹ ختم کر دی گئی۔


**کیا اسلامی بینک واقعی "اسلامی" ہیں؟**


معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ایک مثال دی:


*   مثال: "نکاح صرف قبول کرنے سے ہو جاتا ہے، لکھنے کی ضرورت نہیں۔ بس قبول کر لیا۔ اب وہ عورت آپ کے لیے حلال ہو گئی، آپ کی خواہشات پوری ہو رہی ہیں جو شریعت کے مطابق ہیں۔ تو یہی طریقہ اسلامی بینکنگ میں بھی ہے۔"


**تنقید:** لیکن نکاح صرف قبول کرنے کا نام نہیں۔ قرآن اسے "میزانِ غلیظ" (بھاری عہد) کہتا ہے۔ اس کے بعد میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق و فرائض ہوتے ہیں (نان و نفقہ، بچوں کی دیکھ بھال، مہر، وراثت وغیرہ)۔ بغیر ان حقوق کے جو نکاح صرف جسمانی تسکین کے لیے ہو، اسے "نکاح متعہ" کہتے ہیں اور چاروں بڑے امام اسے حرام سمجھتے ہیں۔


**یعنی اسلامی بینک کی مثال ایک ایسے نکاح کی طرح ہے جس میں صرف قبولیت ہے، لیکن حقوق اور فرائض کا پورا ڈھانچہ نہیں۔**


---


### 💡 کیا کوئی حل ہے؟ (بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی)


2008 میں امریکہ میں بینکوں کی لالچ کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتیں تباہ ہو گئیں۔ اس وقت "ستوشی ناکاموتو" نامی ایک شخص نے بٹ کوائن ایجاد کیا۔


*   **بٹ کوائن کا فلسفہ:**

    *   **بھروسہ نہ کرو، خود تصدیق کرو:** بینک کہتے ہیں "ہم پر بھروسہ کرو"، بٹ کوائن کہتا ہے "بھروسہ نہ کرو، خود جا کر چیک کرو"۔

    *   **شفافیت:** یہ ایک عوامی کھاتہ ہے جسے کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔

    *   **فرضی کرنسی کا خاتمہ:** امریکہ جتنے چاہے ڈالر چھاپ سکتا ہے، لیکن بٹ کوائن کی تعداد 21 ملین تک محدود ہے۔


پاکستان میں سرکاری طور پر کرپٹو پر پابندی ہے، لیکن اندازاً 2-3 کروڑ پاکستانیوں کے پاس کرپٹو اکاؤنٹس ہیں۔


**سوچنے کی بات:**

*   بینکوں کے پاس 78 سالوں میں 9 کروڑ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں۔

*   اسٹاک مارکیٹ میں 4.5 لاکھ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں۔

*   کرپٹو کرنسی میں صرف چند سالوں میں 3 کروڑ اکاؤنٹس۔


یہ ایک "اعلامیہ" ہے، ایک "بغاوت" ہے۔ نئی نسل پرانے نظام کے ہر پہلو پر سوال اٹھا رہی ہے۔


**نتیجہ:**  

یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں بینک اپنی موجودہ شکل میں باقی نہ رہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بینک کسی عمارت یا لاکر کا نام نہیں، بلکہ **اعتماد** کا نام ہے۔ اور جہاں یہ دونوں چیزیں ہوں گی، پیسہ وہیں بہنا شروع ہو جائے گا۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔