(47) Everyone is Panic Selling Bitcoin... He's Panic Buying - YouTube

 (47) Everyone is Panic Selling Bitcoin... He's Panic Buying - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=--Xm88j8hZ8&list=WL&index=3


اس مضمون میں دو افراد کے درمیان بٹ کوائن کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل کے بارے میں ایک دلچسپ گفتگو پیش کی گئی ہے۔ یہ بات چیت خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں یا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ میں اس پوری گفتگو کو آسان الفاظ میں تفصیل سے بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو ہر پہلو اچھی طرح سمجھ آ جائے۔


### **بٹ کوائن کا چار سالہ سائیکل (Four-Year Cycle) کیا ہے؟**


بات چیت کا آغاز بٹ کوائن کے نام نہاد "چار سالہ سائیکل" سے ہوتا ہے۔ بٹ کوائن کی دنیا میں ایک مشہور نظریہ ہے کہ ہر چار سال بعد بٹ کوائن کی قیمت میں ایک بڑی تیزی (Bull Run) آتی ہے اور پھر مندی (Bear Market)۔ اس کی وجہ بٹ کوائن کا "ہاونگ" (Halving) ہے۔


**ہاونگ کیا ہے؟** بٹ کوائن کی کل تعداد 21 ملین تک محدود ہے۔ ہر چار سال بعد، بٹ کوائن مائن کرنے والوں (Miners) کو ملنے والا انعام آدھا کر دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں نئے بٹ کوائن کی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ اگر مانگ (Demand) برقرار رہے یا بڑھے، تو کم سپلائی کی وجہ سے قیمت بڑھنے کی توقع کی جاتی ہے۔


### **کیا چار سالہ سائیکل واقعی ختم ہو گیا ہے؟**


بات چیت کرنے والے پہلے شخص کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہ سوچنے لگے تھے کہ شاید یہ چار سالہ سائیکل اب ختم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، وہ تمام پرانی وجوہات جو پچھلے سائیکلز کو چلاتی تھیں، اب موجود نہیں ہیں۔ مگر پھر وہ ایک دلچسپ بات کرتے ہیں:


*   **پچھلے سائیکل کی مثالیں:** وہ کہتے ہیں کہ 2021 میں بٹ کوائن کی قیمت نومبر میں عروج پر تھی۔ ٹھیک اسی وقت فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) کے سربراہ جیروم پاول نے اشارہ دیا کہ وہ شرح سود میں اضافہ کریں گے۔ اس اعلان کے بعد مارکیٹ گرنا شروع ہو گئی۔ اسی طرح 2017 میں، ہاونگ کے 18 ماہ بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر ٹیرف لگانے کی ٹویٹ کی، جس سے مارکیٹ گر گئی۔

*   **سوال:** ان کا کہنا ہے کہ چار سالہ سائیکل کو کیسے پتہ چلا کہ پاول شرح سود بڑھائیں گے یا ٹرمپ ٹویٹ کریں گے؟ یہ صرف ایک اتفاق ہے کہ یہ واقعات ہاونگ کے 18 ماہ بعد پیش آئے۔


یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شاید خود ہاونگ کی وجہ سے مارکیٹ نہیں گرتی، بلکہ جب مارکیٹ اپنے عروج پر ہوتی ہے، تو کوئی نہ کوئی بڑی خبر آ ہی جاتی ہے جو اسے نیچے لے آتی ہے۔


### **دوسرے شخص کا نقطہ نظر (تکنیکی تجزیہ)**


دوسرا شخص، جو تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) میں مہارت رکھتا ہے، اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔


*   **خبریں قیمت کے پیچھے چلتی ہیں:** ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھنے کے لیے خبروں کا سہارا لیتے ہیں کہ مارکیٹ کیوں اوپر نیچے ہوئی۔ لیکن حقیقت میں، خبریں مارکیٹ کی حرکت کے بعد آتی ہیں، پہلے نہیں۔

*   **انسانی جذبات کا کردار:** تکنیکی تجزیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان جذباتی فیصلے کرتے ہیں۔ جب مارکیٹ میں بہت زیادہ خوف (Fear) یا بہت زیادہ لالچ (Greed) ہوتا ہے، تو لوگ وہی غلط فیصلے دہراتے ہیں جو انہوں نے ماضی میں کیے تھے۔ چارٹس پر وہ سطحیں (Support and Resistance) جہاں قیمت رک کر پلٹتی ہے، دراصل وہ جگہیں ہوتی ہیں جہاں زیادہ تر لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب خریدنا یا بیچنا ہے۔

*   **ہاونگ کی اہمیت ختم:** وہ مانتے ہیں کہ بٹ کوائن کے چھوٹے ہونے کے زمانے میں، ہاونگ کا بہت اثر تھا۔ سپلائی کم ہونے سے قیمت پر براہ راست اثر پڑتا تھا۔ لیکن اب، جب مائیکل سیلر (MicroStrategy کے CEO) جیسے بڑے ادارے ایک ہفتے میں جتنے بٹ کوائن مائن ہوتے ہیں، اس سے زیادہ خرید لیتے ہیں، تو ہاونگ کا اثر خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ اب یہ محض ایک کہانی (Narrative) بن کر رہ گیا ہے۔


### **کیا یہ سائیکل واقعی مختلف ہے؟**


بات چیت میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب وہ موجودہ سائیکل کا پچھلے سائیکلز سے موازنہ کرتے ہیں۔


*   **پچھلے سائیکلز:** 2017 میں، جب بٹ کوائن اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا، تو اس کے بعد بڑے پیمانے پر پرچون (Retail) سرمایہ کار مارکیٹ میں آئے اور انہوں نے چھوٹی کرپٹو کرنسیوں (Altcoins) میں بھی خوب پیسہ لگایا۔ یہ ایک بڑا "بلو آف ٹاپ" (Blowoff Top) تھا۔

*   **موجودہ سائیکل:** اس بار بٹ کوائن نے نئی بلند ترین سطح (All-Time High) تو بنائی، لیکن وہ پچھلی بلند سطح سے صرف دگنی ہوئی۔ اس کے ساتھ وہ دیوانہ وار تیزی نہیں دیکھی گئی۔ ساتھ ہی، چھوٹی کرپٹو کرنسیوں (Altcoins) نے کوئی کارکردگی نہیں دکھائی۔ ان کی قیمتیں 2022 کی مندی کے بعد سے آج تک بالکل فلیٹ (Flat) ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی کہ پرچون سرمایہ کاروں نے اس بار کرپٹو میں دلچسپی نہیں لی۔ وہ اب دوسری چیزوں میں جوا (Gambling) کھیل رہے ہیں، جیسے میم کوائنز (Meme coins) یا پیشن گوئی مارکیٹس (Prediction markets)۔


### **موجودہ صورتحال: 50% گراوٹ پر کیا کرنا چاہیے؟**


گفتگو کے آخر میں، دونوں افراد موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہیں جہاں بٹ کوائن اپنی بلند ترین سطح سے 50% گر چکا ہے۔


پہلا شخص اعتراف کرتا ہے کہ وہ خود، جو 2015 سے بٹ کوائن میں ہے اور کبھی ایک سینٹ بھی نہیں بیچا، اس بار نیچے بھاری خریداری کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ وجہ؟ ہر بار نیچے (Bottom) پر نئی کہانی ہوتی ہے۔ اس بار کہانی یہ ہے کہ "پرچون سرمایہ کار واپس نہیں آئے گا، شاید بٹ کوائن واقعی ختم ہو گیا"۔


**دوسرے شخص کا جواب بہت اہم ہے:**


وہ کہتا ہے کہ اس نے پچھلے چند ہفتوں میں اپنی زندگی میں شاید سب سے زیادہ بٹ کوائن ڈالر کے حساب سے خریدا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے:


1.  **اعتماد (Conviction):** اسے بٹ کوائن پر مکمل اعتماد ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ اور کہاں پیسہ لگائے۔ سونا، چاندی یا کوئی اور چیز اسے بٹ کوائن سے بہتر نہیں لگتی۔

2.  **بچت کھاتہ (Savings Account):** وہ بٹ کوائن کو اپنے بچت کھاتے کی طرح دیکھتا ہے۔ وہ صرف اپنی نقدی (Cash) کو اپنے "بچت کھاتے" میں منتقل کر رہا ہے، نہ کہ کوئی پرخطر "سرمایہ کاری" کر رہا ہے۔

3.  **خوشی (Euphoria):** وہ کہتا ہے کہ جب بٹ کوائن $60,000 کی سطح پر آیا تو وہ تقریباً خوشی سے پاگل ہو گیا۔ جب سب گھبرا کر بیچ رہے تھے (Panic Selling)، وہ گھبرا کر خرید رہا تھا (Panic Buying)۔


### **تجارت (Trading) بمقابلہ جمع (Saving)**


آخر میں، وہ ایک بہت اہم فرق واضح کرتے ہیں:


*   **ٹریڈر کا نقطہ نظر:** ایک دوست کی مثال دی گئی جو بٹ کوائن کو $40,000 پر خریدتا ہے، $60,000 پر بیچ دیتا ہے، پھر $75,000 پر واپس خریدتا ہے اور $90,000 پر بیچ دیتا ہے۔ اس طرح وہ ڈالرز میں منافع کما لیتا ہے، لیکن آخر میں اس کے پاس بٹ کوائن کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔

*   **بچت کرنے والے کا نقطہ نظر:** دوسرا شخص کہتا ہے کہ بٹ کوائن کو مات دینا (Beat the market) بہت مشکل ہے۔ چارٹس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ "اوپر بیچ کر نیچے خرید لوں گا"، لیکن عملی طور پر ایسا کرنا انتہائی مشکل ہے۔

*   **نقصانات (Drags):** اگر کوئی ٹریڈر کامیاب بھی ہو جائے، تو اسے دو نقصان اٹھانے پڑتے ہیں:

    1.  **اسپاٹ کنورژن (Spot Conversion):** جب وہ بٹ کوائن بیچ کر ڈالر لیتا ہے اور پھر واپس بٹ کوائن خریدتا ہے، تو اس عمل میں ایکسچینج فیس وغیرہ کا نقصان ہوتا ہے۔

    2.  **ٹیکس (Tax Drag):** قلیل مدتی تجارت (Short-term trade) پر ٹیکس بہت زیادہ ہوتا ہے (20% سے 50% تک)۔ اس لیے اگر وہ 10% منافع کماتا ہے، تو ٹیکس اور فیس نکال کر اس کا اصل منافع بہت کم رہ جاتا ہے۔


### **آسان مثال سے سمجھیں:**


فرض کریں آپ کے پاس 1 بٹ کوائن ہے جس کی قیمت $60,000 ہے۔


*   **ٹریڈر:** آپ سوچتے ہیں کہ قیمت گرے گی، اس لیے آپ نے $60,000 میں بیچ دیا۔ قیمت $50,000 تک گر گئی۔ آپ نے واپس خرید لیا۔ اب آپ کے پاس 1.2 بٹ کوائن ہیں۔ بہت اچھا! لیکن اگر قیمت $60,000 سے $70,000 تک چلی جاتی، تو آپ کو $70,000 میں واپس خریدنا پڑتا اور آپ کے پاس صرف 0.857 بٹ کوائن رہ جاتے۔

*   **بچت کرنے والا:** وہ بٹ کوائن کو نہیں بیچتا۔ وہ ہر ماہ $100 کا بٹ کوائن خریدتا رہتا ہے، چاہے قیمت $60,000 ہو یا $50,000۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کے پاس بٹ کوائن کی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔


**نتیجہ:**


یہ گفتگو اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ بٹ کوائن کی قلیل مدتی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی پیش گوئی کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا ایک "بے وقوفانہ کام" (Fool's Errand) ہے۔ زیادہ تر لوگ جو ایسا کرتے ہیں، وہ یا تو پیسے کھو دیتے ہیں، یا اگر کما بھی لیتے ہیں، تو محض "بائے اینڈ ہولڈ" (Buy and Hold) کی سادہ حکمت عملی سے بہتر کارکردگی نہیں دکھا پاتے۔


بڑے گراوٹ پر، جب سب مایوس ہو رہے ہوں اور "بٹ کوائن مر گیا" کے نعرے لگ رہے ہوں، تو طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے یہ خریداری کا بہترین موقع ہو سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس گفتگو میں دوسرے شخص نے کیا۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔