(47) Dirty Money Game: System That Made Rothschild Family Richest In The World - YouTube

 (47) Dirty Money Game: System That Made Rothschild Family Richest In The World - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=3xLFBLZFtmw&list=WL&index=4


بسم اللہ الرحمن الرحیم


آپ نے جو تحریر دی ہے، یہ دراصل ایک ویڈیو اسکرپٹ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ روچائلڈ خاندان اور راک فیلر جیسے لوگوں نے کیسے پیسے کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے دنیا پر کنٹرول حاصل کیا۔ میں اس پوری کہانی کو آسان الفاظ میں تفصیل سے بیان کرتا ہوں تاکہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکے۔


**تعارف**


یہ کہانی جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے شروع ہوتی ہے۔ وہاں ایک "یہودی بستی" (Ghetto) تھی، یعنی ایک محدود علاقہ جہاں صرف یہودی رہ سکتے تھے۔ اس بستی میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام تھا "میئر ایمشل روچائلڈ"۔ وہ کوئی بادشاہ نہیں تھا، نہ کوئی جرنیل۔ وہ صرف ایک چھوٹا سا اکاؤنٹنگ ہاؤس چلاتا تھا، جہاں وہ نایاب سکّوں (rare coins) کا کاروبار کرتا تھا اور مقامی تاجروں کو قرض دیا کرتا تھا۔


**میئر روچائلڈ کی سوچ**


میئر روچائلڈ نے ایک بہت اہم بات سمجھ لی تھی: **طاقت = پیسہ**۔ یعنی اگر تم طاقت حاصل کرنا چاہتے ہو، تو تمہیں پیسے کو کنٹرول کرنا ہوگا۔


اس نے ایک اور کڑوا سچ بھی جان لیا: **انسان کی سب سے مہنگی ایجاد "جنگ" ہے**۔ جب یورپ کے بادشاہ آپس میں لڑتے تھے، تو ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔ وہ دوسرے بادشاہوں سے قرض نہیں لے سکتے تھے، کیونکہ وہ تو ان کے دشمن ہوتے تھے۔ اس لیے وہ مجبوراً بینکرز کے پاس جاتے تھے۔ یہی وہ موقع تھا جسے میئر روچائلڈ نے پہچانا۔


**روچائلڈ کا نیٹ ورک**


میئر روچائلڈ کا سب سے بڑا کارنامہ صرف پیسے اُدھار دینا نہیں تھا، بلکہ اس نے ایک ایسا **نیٹ ورک** بنایا جو ممالک، سرحدوں اور سیاست سے اوپر اُٹھ کر کام کرتا تھا۔ اس نے اپنے پانچ بیٹوں کو یورپ کے مختلف دارالحکومتوں میں بھیج دیا:


1.  ایمشل (Amschel) – فرینکفرٹ (جرمنی)

2.  سالومن (Salomon) – ویانا (آسٹریا)

3.  ناتھن (Nathan) – لندن (برطانیہ)

4.  کالمن (Calmann) – نیپلز (اٹلی)

5.  جیمز (James) – پیرس (فرانس)


**ایک خاندان، پورے یورپ میں پھیلا ہوا**


اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی خاندان کے پانچوں بیٹے مختلف ممالک میں بینک کھول کر بیٹھ گئے۔ اب جب کسی بادشاہ کو جنگ کے لیے پیسے درکار ہوتے، تو وہ اپنے ملک میں موجود روچائلڈ بینک سے قرض لیتا۔ لیکن اصل طاقت یہ تھی کہ یہ پانچوں بھائی آپس میں مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ ان کا اپنا **خفیہ انفارمیشن نیٹ ورک** تھا۔


تصور کریں کہ فرانس اور برطانیہ کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔ پیرس میں بیٹھا جیمز فرانسیسی بادشاہ کو قرض دیتا ہے، اور لندن میں بیٹھا ناتھن برطانوی بادشاہ کو قرض دیتا ہے۔ جنگ جیتے یا ہارے، روچائلڈ خاندان کو اپنا پیسہ **سود سمیت** واپس ملتا تھا۔ یہ ایک **جیتنے والا کاروبار** تھا۔


**ایک مثال: بجلی کا گرڈ**


یہ پورا نظام بجلی کے گرڈ (grid) جیسا تھا۔ جس طرح بجلی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتی ہے، اسی طرح پیسہ ایک ملک سے دوسرے ملک جاتا تھا، اور اس کرنٹ کو کنٹرول کرنے والا روچائلڈ خاندان تھا۔


**مورخ نیل فرگوسن کی کتاب**


یہ کوئی سازشی نظریہ (conspiracy theory) نہیں ہے۔ مشہور مورخ نیل فرگوسن (Niall Ferguson) نے اپنی کتاب میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ یہ سب کچھ لکھا ہے۔ برٹش میوزیم (British Museum) میں آج بھی روچائلڈ خاندان کے اصل خطوط اور ریکارڈ موجود ہیں۔


**سب سے مشہور واقعہ: واٹر لو کی جنگ (1815)**


اس پورے نظام کا سب سے مشہور ثبوت **واٹر لو کی جنگ** ہے۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں نیپولین بوناپارٹ (فرانس کا بادشاہ) کو آخری بار شکست ہوئی تھی۔


*   **لندن میں ناتھن روچائلڈ:** اس نے برطانوی حکومت سے بھی تیز رفتار ذاتی انفارمیشن نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ اس کے پاس تیز کشتیاں، کبوتر اور اپنے پیغام رساں تھے۔

*   **18 جون 1815:** نیپولین ہار گیا۔ جنگ ختم ہو گئی۔

*   **20 جون 1815:** ناتھن روچائلڈ کو یہ خبر مل گئی۔

*   **21 جون 1815:** برطانوی حکومت کا سرکاری قاصد یہ خبر لے کر لندن پہنچا۔


**ناتھن نے یہ 24 گھنٹے کی پہل کیسے استعمال کی؟**


ناتھن کو پتہ چل گیا کہ برطانیہ جنگ جیت گیا ہے۔ اس نے فوراً **برطانوی حکومت کے تمام بانڈز** (قرض کے کاغذات) خرید لیے۔ جب اگلے روز عوام کو پتہ چلا کہ برطانیہ جیت گیا ہے، تو بانڈز کی قیمت آسمان کو چھونے لگی۔ ناتھن راتوں رات ارب پتی بن گیا۔


**انفارمیشن اسیمیٹری (Information Asymmetry)**


اسے کہتے ہیں "انفارمیشن اسیمیٹری"۔ جس شخص کے پاس سچ پہلے پہنچ جائے، وہ پورے نظام پر قابض ہو جاتا ہے۔


**روچائلڈ کا مشہور قول**


ایک مشہور قول روچائلڈ سے منسوب کیا جاتا ہے: **"مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انگلینڈ کا بادشاہ کون ہے۔ جو کرنسی (پیسے) کو کنٹرول کرتا ہے، وہی سلطنت کو کنٹرول کرتا ہے۔"**


مورخین اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ یہ قول انہوں نے واقعی کہا تھا یا نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ ان کا نظام بالکل ایسا ہی تھا۔


**آج کا جدید مالیاتی نظام**


جو ماڈل 1800s میں روچائلڈ نے بنایا تھا، آج بھی جدید مالیاتی نظام (جیسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف) کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پہلے طاقت تلواروں میں تھی، پھر سونے چاندی میں، اور آج طاقت **انفارمیشن، نالج اور ڈیٹا** میں ہے۔


**انفارمیشن کی طاقت کی مثال**


تصور کریں کہ اگر آپ کو بجٹ (budget) اعلان سے پہلے ہی پتہ چل جائے کہ حکومت کیا پالیسی لانے والی ہے، تو کیا آپ اسٹاک مارکیٹ میں بہت پیسہ کما سکتے ہیں؟ جواب ہے **ہاں**۔ آج بھی بھارت جیسے بڑے ملک میں معلومات کسی نہ کسی تک ضرور لیک (leak) ہوتی ہیں۔


**دوسرا بڑا کھلاڑی: جان ڈی راک فیلر (امریکہ)**


روچائلڈ کے بعد پیسے کا یہی کھیل امریکہ میں دہرایا گیا۔ اس بار کھلاڑی کا نام تھا **جان ڈی راک فیلر**، جسے دنیا کا پہلا ارب پتی (billionaire) کہا جاتا ہے۔


**اسٹینڈرڈ آئل کمپنی**


راک فیلر نے "اسٹینڈرڈ آئل" (Standard Oil) نامی کمپنی بنائی۔ 1880 تک امریکہ کی 90% تیل صاف کرنے کی صنعت اس کے ہاتھ میں تھی۔ یعنی امریکہ کا تقریباً سارا پیٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل (kerosene) ایک آدمی کے کنٹرول میں تھا۔


**اس کی دولت کا اندازہ**


آج کے حساب سے اس کی دولت 400 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ یعنی ایلون مسک (Elon Musk) اور جیف بیزوس (Jeff Bezos) جیسے لوگوں کو ملا دیں، تب بھی کم پڑیں گے۔


**راک فیلر نے یہ کیسے کیا؟**


اس نے نظام کو کنٹرول کیا۔ اس کا طریقہ تھا:


1.  **پہلے تیل اتنا سستا بیچو کہ مقابلے والے دیوالیہ ہو جائیں۔** یہ تبھی ممکن ہے جب آپ کے پاس پہلے سے بہت پیسہ اور نیٹ ورک ہو۔

2.  **جب تمہاری اجارہ داری (monopoly) بن جائے تو قیمتیں آسمان سے لگا دو۔**

3.  **ریلوے سے خفیہ معاہدے کر لو** تاکہ صرف تمہاری کمپنی کو سستا ٹرانسپورٹیشن ملے۔

4.  **پوری سپلائی چین** (کنویں سے لے کر پیٹرول پمپ تک) پر قبضہ کر لو۔


**حکومت کی کارروائی**


اتنی بڑی اجارہ داری دیکھ کر امریکی حکومت بھی ڈر گئی۔ 1911 میں امریکی سپریم کورٹ نے اسٹینڈرڈ آئل کو توڑنے کا حکم دے دیا۔ اسے چھوٹی چھوٹی کمپنیوں (ایکسون، موبل، شوران) میں تقسیم کر دیا گیا۔


**نتیجہ کیا ہوا؟**


کمپنی تو ٹوٹ گئی، لیکن راک فیلر **اور زیادہ امیر** ہو گیا۔ کیونکہ اب ان چھوٹی کمپنیوں کی انفرادی قیمت ملا کر پہلی کمپنی سے بھی زیادہ بن گئی۔


**سب سے سیاہ واقعہ: لڈلو قتل عام (1914)**


1914 میں کولوراڈو میں راک فیلر کی کوئلے کی کانوں میں مزدوروں نے ہڑتال کر دی۔ کام کرتے کرتے بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مزدور مر رہے تھے۔


راک فیلر کی کمپنی نے نیشنل گارڈ اور پرائیویٹ سیکیورٹی بلوا دی۔ 20 اپریل 1914 کو انہوں نے مزدوروں کے خیموں پر گولیاں چلا دیں۔


**25 سے زیادہ افراد ہلاک**  

**11 بچے زندہ جل گئے**


اخبارات کی سرخیاں تھیں: "لڈلو کی آگ میں 11 بچے ہلاک"


امریکہ کا امیر ترین آدمی، راتوں رات **امریکہ کا سب سے نفرت انگیز آدمی** بن گیا۔ عوام میں اتنی نفرت تھی کہ اس کا گھر سے نکلنا بھی خطرناک ہو گیا تھا۔


**امیج واش (Image Wash)**


لیکن پیسے کی طاقت دیکھیے کہ کیا کیا بدل سکتی ہے۔


راک فیلر نے **آئیوی لی (Ivy Lee)** نامی شخص کو نوکری پر رکھا۔ یہ امریکہ کا پہلا پبلک ریلیشن (PR) ماہر تھا۔ اس کا کام تھا: راک فیلر کی تصویر کو **قاتل سے سنت** میں بدلنا۔


**پی آر کی حکمت عملی**


آئیوی لی نے آسان لیکن خطرناک حکمت عملی بنائی:

*   اخباروں میں راک فیلر کی تصویریں چھپنے لگیں کہ وہ بچوں کو سکے دے رہا ہے۔

*   مزدوروں سے مل کر باتیں کر رہا ہے۔

*   اس طرح ایک **پیارے سے دادا** کی تصویر بننے لگی۔


**راک فیلر فاؤنڈیشن**


1913 میں اس نے "راک فیلر فاؤنڈیشن" بنائی۔ ابتدائی فنڈ 25 کروڑ ڈالر تھا (آج کے حساب سے 60 ارب روپے سے زیادہ)۔


اس فاؤنڈیشن نے واقعی اچھے کام بھی کیے:

*   جنوبی امریکہ میں بیماریاں ختم کیں۔

*   ہسپتال، تعلیم، سائنس کی ترقی میں پیسے لگائے۔

*   لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائیں۔


**نتیجہ**


دھیرے دھیرے عوام کا ذہن بدل گیا۔ 1920-30 تک راک فیلر ایک **عظیم مخیر (philanthropist)** تصور کیا جانے لگا۔ بچوں کو جلانے والے اجارہ دار کی تصویر مکمل طور پر دھل گئی۔ تاریخ دوبارہ لکھی جا چکی تھی۔


**سوال: یہ خدمت تھی یا امیج واش؟**


سچ یہ ہے کہ **دونوں** تھا۔ کام بھی اچھے تھے اور طاقت بھی چپکے سے بڑھ رہی تھی۔ جب فاؤنڈیشن تعلیم کو فنڈ کرتی ہے، تو وہی طے کرتی ہے کہ کیا پڑھایا جائے گا۔ جب وہ صحت کو فنڈ کرتی ہے، تو وہی طے کرتی ہے کہ کن بیماریوں کا علاج پہلے ہوگا۔ اور یہ ساری طاقت بغیر کسی الیکشن کے، بغیر کسی احتساب (accountability) کے ملتی ہے۔


**آج کی مثال: بل گیٹس فاؤنڈیشن**


آج بل گیٹس کی فاؤنڈیشن عالمی صحت (global health) پر حکومتوں سے بھی زیادہ کنٹرول رکھتی ہے، بغیر کوئی الیکشن جیتے۔ اسے کہتے ہیں: **بغیر اجازت کے طاقت (power without permission)**۔


**روچائلڈ اور راک فیلر میں فرق**


روچائلڈ جیسے بینک پرائیویٹ فیملی بینک تھے۔ وہ حکومتوں کو قرض تو دیتے تھے، لیکن ان کی طاقت ایک حد تک محدود تھی۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے پاس پیسہ ہوا سے نہیں آتا تھا۔


**سونے کا ذخیرہ (Gold Reserve)**


انہیں اپنی ساکھ بچانے کے لیے **سونے کا ذخیرہ** رکھنا پڑتا تھا۔ اگر انہوں نے 100 روپے کا قرض دیا ہے، تو انہیں ثابت کرنا پڑتا تھا کہ ان کے پاس 100 روپے کا سونا موجود ہے، تاکہ اگر جمع کرانے والے (depositors) اپنا پیسہ واپس مانگیں تو دے سکیں۔


**بینک کی کمزوری**


اگر لوگوں کا اعتماد ذرا بھی ڈگمگا جائے، مثلاً افواہ پھیل جائے کہ بینک ڈوب رہا ہے، تو تمام جمع کرانے والے ایک ساتھ اپنا پیسہ نکالنے لگ جائیں گے۔ اور اگر بینک کے پاس اتنا سونا یا کیش نہیں ہے، تو بینک بری طرح دیوالیہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے روچائلڈ جیسے پرائیویٹ بینک طاقتور تو تھے، لیکن **کمزور (vulnerable)** بھی اتنے ہی تھے۔


**آخری اور سب سے بڑا موڑ**


یہیں کہانی کا سب سے بڑا موڑ آتا ہے۔


**23 دسمبر 1913:** امریکہ نے ایک قانون پاس کیا: **فیڈرل ریزرو ایکٹ (Federal Reserve Act)**۔


یہ وہ واقعہ ہے جس نے پیسے کے نظام کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس کی تفصیل آگے آنے والی ویڈیوز میں بتائی جائے گی۔


**نتیجہ**


اس پوری کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ پیسہ صرف تبادلے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ **کنٹرول کا نظام** ہے۔ جس نے پیسے کو کنٹرول کیا، اس نے دنیا کو کنٹرول کیا۔ اور آج بھی یہی نظام، چاہے وہ ورلڈ بینک ہو یا آئی ایم ایف، چل رہا ہے۔


**امیر امیر کیوں؟ غریب غریب کیوں؟**


یہ سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ پیسہ کیسے بنا، فیٹ کرنسی (fiat currency) کیا ہے، اور بلاک چین (blockchain) اور کریپٹو کرنسی (cryptocurrency) کیوں وجود میں آئی۔ انشاء اللہ اگلی کہانیوں میں یہ سب آسان الفاظ میں بیان کیا جائے گا۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔