(40) Buy the Everything Bubble? Or Lose to Inflation? - YouTube

 (40) Buy the Everything Bubble? Or Lose to Inflation? - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=al3_Kc46i4A&list=WL&index=3


پیارے بچو اور دوستو! آج میں آپ کو ایک ایسی کہانی سناؤں گا جو ہم سب کی جیب اور مستقبل سے جڑی ہے۔ اسے بہت غور سے سنیں کیونکہ یہ "پیسے کی جادوئی دنیا" کی کہانی ہے۔


## کہانی کا آغاز: کیا ہر چیز بہت مہنگی ہو گئی ہے؟


تصور کریں کہ ایک بہت بڑا غبارہ ہے جس میں بہت ساری چیزیں جیسے سونا، چاندی، مکانات اور بڑی کمپنیوں کے حصے (شیئرز) بھرے ہوئے ہیں۔ یہ غبارہ پھولتا ہی جا رہا ہے اور اب اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ لوگ ڈر رہے ہیں کہ یہ کہیں پھٹ نہ جائے ۔


آج کل سونا 4,500 ڈالر فی اونس سے اوپر چلا گیا ہے اور چاندی بھی اپنی سب سے بلند قیمت پر ہے ۔ یہی حال اسٹاک مارکیٹ کا ہے، جہاں بڑی کمپنیوں کے ریٹ آسمان کو چھو رہے ہیں ۔ لوگ پریشان ہیں کہ اگر وہ ابھی ان چیزوں میں پیسہ لگائیں گے اور غبارہ پھٹ گیا تو ان کا نقصان ہو جائے گا ۔ لیکن دوسری طرف، اگر وہ اپنا پیسہ نقد (Cash) گھر میں رکھیں گے، تو مہنگائی اسے کھا جائے گی ۔


## اصل مسئلہ کیا ہے؟


استاد ہونے کے ناطے میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں: مسئلہ ان چیزوں کا نہیں ہے جو مہنگی ہو رہی ہیں، بلکہ مسئلہ اس "ڈالر" یا کرنسی کا ہے جس سے ہم وہ چیزیں خریدتے ہیں ۔


**ایک مثال سے سمجھیں:**

فرض کریں آپ کے پاس ایک جادوئی ٹوپی ہے جس سے آپ روزانہ ایک سیب خریدتے تھے۔ پہلے وہ سیب ایک روپے کا تھا، پھر دو کا ہوا اور اب پانچ کا ہو گیا۔ کیا سیب بڑا ہو گیا ہے؟ نہیں۔ دراصل آپ کے روپے کی طاقت کم ہو گئی ہے ۔ اب آپ کو وہی ایک سیب خریدنے کے لیے زیادہ پیسے دینے پڑ رہے ہیں ۔


یہی وجہ ہے کہ گوشت، کرایہ، بجلی اور ڈاکٹر کی فیس، سب کچھ مہنگا ہوتا جا رہا ہے ۔ ڈالر اپنی طاقت کھو رہا ہے کیونکہ حکومتیں زیادہ سے زیادہ نوٹ چھاپ رہی ہیں ۔


## کیا یہ واقعی ایک غبارہ (Bubble) ہے؟


عام طور پر جب کوئی غبارہ بنتا ہے تو صرف ایک چیز مہنگی ہوتی ہے، جیسے کبھی صرف مکانات مہنگے ہوتے ہیں یا کبھی صرف انٹرنیٹ کمپنیاں ۔ لیکن اب تو ہر چیز ہی مہنگی ہو رہی ہے ۔


جب ہم اسٹاک مارکیٹ کی قیمت کو سونے کے ترازو میں تولتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ اسٹاکس دراصل سونے کے مقابلے میں سستے ہوئے ہیں ۔ یہاں تک کہ برگر، کافی اور مکانات بھی سونے کے مقابلے میں سستے لگ رہے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ چیزیں اتنی زیادہ مہنگی نہیں ہوئیں جتنی ہماری کرنسی کمزور ہوئی ہے ۔


## ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (استاد کا مشورہ)


صرف ڈر کر بیٹھ جانے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر آپ کچھ نہیں کریں گے تو مہنگائی آپ کی جمع پونجی ختم کر دے گی ۔ کامیاب ہونے کا طریقہ یہ ہے:


**مختلف جگہوں پر سرمایہ لگائیں:** اپنا سارا پیسہ ایک ہی جگہ نہ رکھیں ۔ کچھ سونا لیں، کچھ کمپنیوں کے شیئرز اور کچھ دیگر چیزیں ۔



**توازن برقرار رکھیں:** جب اسٹاک مارکیٹ بہت اوپر چلی جائے، تو وہاں سے کچھ منافع نکال کر سونا خرید لیں ۔ اور جب سونا مہنگا ہو جائے تو اسے بیچ کر اسٹاکس خرید لیں ۔ اسے "ری بیلنسنگ" کہتے ہیں ۔



**ہوشیاری سے کام لیں:** مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ تو آئے گا، لیکن اگر آپ کے پاس مختلف قسم کے اثاثے ہوں گے تو آپ اس طوفان سے بچ سکیں گے اور فائدہ بھی اٹھا سکیں گے ۔




**آخری سبق:**

دنیا میں نوٹوں کی چھپائی بڑھ رہی ہے اور قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں ۔ اس لیے سمجھداری اسی میں ہے کہ آپ صرف نقد رقم پر بھروسہ نہ کریں بلکہ ایسی چیزوں کے مالک بنیں جن کی اپنی ایک قدر ہے ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو اس بارے میں مزید بتاؤں کہ سونا اور اسٹاکس ایک دوسرے سے مختلف کیسے کام کرتے ہیں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔