(28) Bitcoin Manipulation Exposed: They Are Shorting MicroStrategy to ZERO?! - YouTube

 (28) Bitcoin Manipulation Exposed: They Are Shorting MicroStrategy to ZERO?! - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=1F6cfLhP9_A


اس ویڈیو ٹرانسکرپٹ کی کہانی کرپٹو کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی مبینہ ہیرا پھیری کے گرد گھومتی ہے ۔ اسے آسان الفاظ میں سمجھنے کے لیے ہم اسے چند اہم حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:


### بٹ کوائن اور مائیکرو اسٹریٹیجی کا معاملہ


مائیکرو اسٹریٹیجی (MicroStrategy) ایک بڑی کمپنی ہے جس کے سربراہ مائیکل سیلر ہیں ۔ انہوں نے کمپنی کے اربوں ڈالرز بٹ کوائن خریدنے میں لگا دیے ہیں ۔ کہانی یہ بتاتی ہے کہ اب یہ اسٹاک دنیا میں سب سے زیادہ "شارٹ" (Short) کیا جانے والا اسٹاک بن چکا ہے ۔


**آسان مثال:** فرض کریں ایک دکان دار (مائیکل سیلر) نے اپنی ساری جمع پونجی چینی (بٹ کوائن) خریدنے میں لگا دی ۔ اب کچھ بڑے کھلاڑی یہ شرط لگا رہے ہیں کہ چینی کی قیمت گرے گی اور وہ دکان دار برباد ہو جائے گا ۔ اسے "شارٹ کرنا" کہتے ہیں ۔


### جین اسٹریٹ پر الزامات


جین اسٹریٹ (Jane Street) نامی ایک بہت بڑی مالیاتی کمپنی پر الزام ہے کہ وہ بٹ کوائن کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کرتی رہی ہے ۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ 2022 میں جب ٹیرا لونا (Terra Luna) نامی کرپٹو سکہ ڈوبا تھا، تو انہوں نے اندرونی معلومات کا استعمال کر کے اس عمل کو تیز کیا اور خود فائدہ اٹھایا ۔


**آسان مثال:** یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کو پہلے سے پتہ چل جائے کہ ایک عمارت گرنے والی ہے، اور وہ وہاں سے لوگوں کو بچانے کے بجائے اس عمارت کے گرنے پر شرط لگا کر پیسے کما لے ۔


### بڑے بینکوں کا دوہرا معیار


کہانی میں جے پی مورگن کے سربراہ جیمی ڈائمن کا تذکرہ ہے ۔ وہ عوامی طور پر کہتے تھے کہ بٹ کوائن ایک دھوکہ ہے اور وہ اسے خریدنے والے اپنے ملازمین کو نوکری سے نکال دیں گے ۔ لیکن پردے کے پیچھے ان کی اپنی کمپنی بٹ کوائن فنڈز خرید رہی تھی ۔


**آسان مثال:** ایک ڈاکٹر سب کو کہے کہ "پھل کھانا صحت کے لیے برا ہے" تاکہ لوگ پھل نہ خریدیں اور قیمت گر جائے، لیکن خود رات کے اندھیرے میں وہی پھل سستے داموں خرید کر کھا رہا ہو ۔


### معاشی بحران اور موقع


ٹرانسکرپٹ کے مطابق، امریکی بینکوں کو اس وقت اربوں ڈالرز کے نقصانات کا سامنا ہے اور مکانات کی فروخت میں بھی مشکلات آ رہی ہیں ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب معاشی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے تو حکومتیں مزید نوٹ چھاپتی ہیں (جسے "منی پرنٹر" کہا گیا ہے)، اور اس صورتحال میں بٹ کوائن کی قیمت اوپر جا سکتی ہے ۔


**آسان مثال:** جب مارکیٹ میں روپیہ بہت زیادہ ہو جائے تو چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں ۔ چونکہ بٹ کوائن کی تعداد محدود ہے، اس لیے لوگ اسے اپنی دولت محفوظ رکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔


### خلاصہ


مجموعی طور پر یہ کہانی خبردار کرتی ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے چھوٹے سرمایہ کاروں کو ڈرا کر مارکیٹ سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ خود نچلی قیمت پر بٹ کوائن خرید سکیں ۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی چابیاں (سیکیورٹی) خود سنبھالیں اور کسی پر بھروسہ نہ کریں ۔


کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں بٹ کوائن کی ان "شارٹ" پوزیشنز یا جین اسٹریٹ کے عدالتی کیس کے بارے میں مزید تفصیل فراہم کروں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔