(226) The New Fed Chair’s Plan to Reduce the National Debt - YouTube

 (226) The New Fed Chair’s Plan to Reduce the National Debt - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=hq82ylM0U3w


اس کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ جب کسی ملک کی حکومت بہت زیادہ قرض لے لیتی ہے اور اسے واپس کرنے کا کوئی آسان راستہ نظر نہیں آتا، تو وہ ایک خاص "پلے بک" یا طریقہ کار استعمال کرتی ہے ۔ امریکہ اس وقت بالکل اسی صورتحال میں ہے جہاں اس کا قرض معیشت کے حجم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو چکا ہے ۔


آئیے اسے سادہ الفاظ اور مثالوں سے سمجھتے ہیں:


### اصل مسئلہ کیا ہے؟


حکومت کے پاس اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکسوں سے اتنے پیسے نہیں آتے جتنے اس کے اخراجات ہیں ۔ اب اس کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں: یا تو وہ سود کی شرح کم کر دے تاکہ قرض سستا ہو جائے، لیکن اس سے مہنگائی بے قابو ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ سود کی شرح زیادہ رکھے، لیکن اس سے حکومت کے لیے اپنا قرض ادا کرنا ناممکن ہو جاتا ہے ۔


### حکومت کی "خفیہ" حکمت عملی (یلڈ کرو کنٹرول)


جب حکومت اس بند گلی میں پھنس جاتی ہے، تو وہ مرکزی بینک (جیسے امریکہ میں فیڈرل ریزرو ہے) کے ساتھ مل کر ایک معاہدہ کرتی ہے ۔ ماضی میں، یعنی دوسری جنگ عظیم کے بعد، حکومت نے یہی کیا تھا کہ مرکزی بینک کو حکم دیا کہ وہ سود کی شرح کو ایک خاص حد سے اوپر نہ جانے دے، چاہے اس کے لیے کتنے ہی نوٹ کیوں نہ چھاپنے پڑیں ۔


**مثال سے سمجھیں:** فرض کریں آپ نے بہت زیادہ قرض لیا ہوا ہے اور بینک کا سود 10 فیصد ہے۔ آپ اپنے ایک طاقتور دوست (مرکزی بینک) سے کہتے ہیں کہ وہ مارکیٹ میں آ کر مداخلت کرے اور سود کو زبردستی 2 فیصد پر روک دے۔ اب بینک کو نقصان ہو رہا ہے، لیکن آپ کا قرض سستا ہو گیا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں نئے نوٹوں کی بھرمار ہو جاتی ہے جس سے روپے کی قیمت گر جاتی ہے اور چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں ۔


### قرض کم کرنے کے چار طریقے


حکومت اپنا قرض کم کرنے کے لیے چار راستوں پر غور کرتی ہے:


1. **بچت کرنا:** یعنی اخراجات کم کرنا۔ لیکن حکومتیں عام طور پر ایسا نہیں کرتیں بلکہ مزید خرچ کرتی ہیں ۔



2. **دیوالیہ ہونا:** یعنی صاف کہہ دینا کہ ہم قرض نہیں دے سکتے۔ یہ پوری دنیا کے مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے، اس لیے کوئی ایسا نہیں چاہتا ۔



3. **ترقی کرنا:** یعنی معیشت اتنی تیزی سے بڑھے کہ قرض چھوٹا لگنے لگے۔ اس کے لیے نئی ٹیکنالوجی جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے امیدیں وابستہ ہیں ۔



4. **مہنگائی کے ذریعے قرض ختم کرنا:** یہ سب سے اہم طریقہ ہے۔ حکومت نوٹ چھاپ کر پرانا قرض ادا کرتی ہے۔ چونکہ نوٹوں کی تعداد بڑھنے سے ان کی قیمت کم ہو جاتی ہے، اس لیے قرض کی "حقیقی قیمت" بھی کم ہو جاتی ہے ۔




### موجودہ صورتحال اور مستقبل


امریکہ کے نئے آنے والے فیڈرل ریزرو کے سربراہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر وہی پرانی پالیسی دوبارہ اپنائیں گے ۔ اس کے لیے بینکوں کے قوانین میں نرمی کی جائے گی تاکہ بینک زیادہ سے زیادہ سرکاری قرض خرید سکیں ۔


**عام آدمی پر اس کا اثر:**

اس پورے عمل کا مطلب یہ ہے کہ حکومت تو اپنا قرض اتار لے گی، لیکن اس کی قیمت آپ کو اور مجھے چکانی پڑے گی ۔ جب نوٹ زیادہ چھپیں گے، تو ڈالر یا روپے کی قدر کم ہوگی، جس سے دکانوں پر سامان کی قیمتیں بڑھ جائیں گی ۔ یعنی حکومت اپنی غلطیوں کا بوجھ مہنگائی کی صورت میں عوام کی جیبوں پر ڈال دیتی ہے ۔


کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس حکمت عملی کے دوران اپنی بچتوں کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر مزید روشنی ڈالوں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔