(220) MAJOR PREDICTIONS FOR FUTURE IN GEOPOLITICS | Ray Dalio Says Get Ready for More Wars - YouTube

 (220) MAJOR PREDICTIONS FOR FUTURE IN GEOPOLITICS | Ray Dalio Says Get Ready for More Wars - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=PhMup_CSag4&list=WL&index=2&t=9s


رے ڈالیو، جو دنیا کے ایک مشہور ارب پتی اور سرمایہ کار ہیں، انہوں نے عالمی حالات اور معیشت کے بارے میں کچھ بہت اہم باتیں کہی ہیں جو ہر کسی کے لیے سمجھنا ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا ایک خاص چکر (Cycle) سے گزرتی ہے اور اس وقت ہم ایک ایسے مرحلے پر ہیں جہاں بڑی تبدیلیاں اور جنگیں ہو سکتی ہیں۔ 


اس پوری کہانی کو آسان الفاظ میں درج ذیل حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے:


### **رے ڈالیو کا 'بگ سائیکل' (بڑا چکر)**


رے ڈالیو کہتے ہیں کہ جیسے موسم بدلتے ہیں، ویسے ہی ملکوں اور سلطنتوں کی طاقت بھی ایک خاص ترتیب سے بدلتی ہے۔ اس چکر کے چھ مراحل ہوتے ہیں: 


1. 

**نیا نظام:** جب کوئی ملک بڑی جنگ جیت کر طاقتور بنتا ہے (جیسے 1945 میں امریکہ)۔ 



2. 

**خوشحالی کا دور:** ملک ترقی کرتا ہے، نئی کمپنیاں بنتی ہیں اور تعلیم بہتر ہوتی ہے۔ 



3. 

**عروج (Peak):** ملک اپنی طاقت کے سب سے اونچے مقام پر پہنچ جاتا ہے، جیسے امریکہ 1990 کی دہائی میں تھا۔ 



4. 

**گراوٹ:** معاشی مسائل شروع ہوتے ہیں اور امیر و غریب کا فرق بڑھ جاتا ہے (جیسے 2008 کا مالیاتی بحران)۔ 



5. 

**اندرونی لڑائی:** ملک کے اندر لوگ آپس میں لڑنے لگتے ہیں اور نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ 



6. **تباہی یا نئی شروعات (اسٹیج 6):** یہ وہ مرحلہ ہے جس میں اب ہم داخل ہو چکے ہیں۔ یہاں پرانا نظام ٹوٹ جاتا ہے، دولت کی دوبارہ تقسیم ہوتی ہے اور نئی طاقتیں ابھرتی ہیں۔ 




---


### **کیپٹل وار (سرمایے کی جنگ) کیا ہے؟**


رے ڈالیو نے خبردار کیا ہے کہ اب دنیا ایک 'کیپٹل وار' کے قریب ہے۔ یہاں 'کیپٹل' سے مراد کسی ملک کا دارالحکومت نہیں بلکہ **پیسہ اور سرمایہ** ہے۔ 


اس جنگ میں امریکہ یہ کوشش کرے گا کہ اس کا پیسہ چین یا دوسرے ملکوں میں نہ جائے، بلکہ اس کے اپنے ملک میں رہے۔ جب امریکہ سخت قدم اٹھائے گا، تو دوسرے ملک امریکی بانڈز خریدنا بند کر دیں گے، جس سے دنیا بھر میں قرض ملنا مشکل ہو جائے گا اور اسٹاک مارکیٹ گر سکتی ہے۔ 


---


### **مثالیں تاکہ بات آسانی سے سمجھ آ جائے**


* **سلطنتوں کے عروج و زوال کی مثال:** رے ڈالیو کہتے ہیں کہ ہر بڑی طاقت تقریباً 250 سال تک چلتی ہے۔ جیسے ماضی میں 'ڈچ ایمپائر' (نیدرلینڈز) بہت طاقتور تھی اور ان کی بحری فوج برطانوی فوج کو ہرا دیتی تھی، لیکن پھر ان کا زوال آیا اور برطانیہ طاقتور بن گیا۔ اب ویسا ہی وقت امریکہ کے لیے آ رہا ہے جہاں اس کی طاقت کم ہو رہی ہے اور چین اوپر آ رہا ہے۔ 



**ٹیکنالوجی اور پیسے کی مثال:** آج کل 'آرٹیفیشل انٹیلیجنس' (AI) جیسی کمپنیوں کو چلنے کے لیے اربوں ڈالرز کی ضرورت ہے۔ اگر 'کیپٹل وار' کی وجہ سے مارکیٹ میں پیسے کی کمی ہو گئی، تو یہ بڑی کمپنیاں مشکل میں پڑ جائیں گی اور پوری دنیا کی معیشت ہل جائے گی۔ 




---


### **بھارت پر اس کا اثر**


رے ڈالیو کے مطابق، بھارت اس وقت ایک بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیار اور مضبوط دفاع ہے، اس لیے کوئی ملک اس سے کھلی جنگ نہیں کرنا چاہے گا۔ 


اصل امتحان بھارت کی قیادت کا ہے کہ وہ اس 'پیسے کی جنگ' سے کیسے نمٹتے ہیں۔ آنے والے دو تین سال (2029 تک) بہت اہم ہیں؛ یا تو بھارت میں اتنا پیسہ آئے گا کہ یہاں کی کمپنیاں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیں گی، یا پھر عالمی معاشی بحران کی وجہ سے یہاں بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ 


### **اگلا قدم**


کیا آپ چاہیں گے کہ میں رے ڈالیو کی اس تھیوری کے مطابق چین اور امریکہ کے موجودہ تعلقات پر مزید تفصیل فراہم کروں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔