اب کیون وارش کون ہے؟ یہ ایک ایسا شخص ہے جو پہلے فیڈرل ریزرو میں کام کر چکا ہے۔ 2006 سے 2011 تک وہ وہاں تھا، اور 2008 میں جب امریکہ میں بڑا معاشی بحران آیا (جیسے گھر کا سارا پیسہ ختم ہو جائے)، تو وارش نے بینکوں کو بچانے کے لیے بہت کام کیا۔ اس نے فیڈرل ریزرو کو کہا کہ خزانے کی چیزیں خریدو، یعنی حکومت کے بانڈز اور گھروں کے قرضے، تاکہ پیسہ بڑھے اور بحران ختم ہو۔ اس وقت فیڈرل ریزرو کا پیسے کا ذخیرہ ایک ٹریلین ڈالر سے کم تھا، لیکن وارش کی مدد سے یہ دو ٹریلین تک پہنچ گیا۔ لیکن پھر، جب وہ چھوڑ گیا، تو اس نے فیڈرل ریزرو کی تنقید شروع کر دی۔ وہ کہتا ہے کہ فیڈرل ریزرو نے بہت زیادہ پیسہ چھاپا، جس سے امیر لوگ اور امیر ہو گئے، لیکن غریب لوگ اور غریب۔

 (26) Kevin Warsh New Fed Chair will Change EVERYTHING - YouTube



 یہ کہانی ایک ویڈیو کی ہے جو یوٹیوب پر ہے، اور اس کا نام ہے "کیون وارش نیا فیڈ چیئر بنے گا تو سب کچھ بدل جائے گا"۔ یہ کہانی امریکہ کی معیشت، پیسے، اور بینکوں کے بارے میں ہے، لیکن میں اسے بہت آسان الفاظ میں بتاؤں گا، 


سب سے پہلے، تصور کرو کہ امریکہ ایک بڑا گھر ہے، اور اس گھر میں پیسے کا انتظام ایک بڑی کمپنی کرتی ہے جسے فیڈرل ریزرو کہتے ہیں۔ یہ فیڈرل ریزرو پیسے کی مقدار کنٹرول کرتی ہے، جیسے تمہارے گھر میں ماں پیسے کی نگرانی کرتی ہے کہ کتنا خرچ کرنا ہے۔ اب اس کمپنی کا باس ہوتا ہے، جسے فیڈ چیئر کہتے ہیں۔ اس کہانی میں، ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ (جو امریکہ کا سابق صدر ہے) کہتا ہے کہ وہ کیون وارش نامی شخص کو نیا باس بنانا چاہتا ہے، پرانے باس جیروم پاول کی جگہ۔ جب یہ خبر آئی، تو بازار میں ہلچل مچ گئی! لوگوں نے شیئرز اور سونا بیچنے شروع کر دیے، کیونکہ انہیں لگا کہ اب پیسے کا بہاؤ کم ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، تصور کرو تم ایک دکان چلا رہے ہو، اور اچانک خبر آئی کہ اب چیزوں کی قیمتیں کم ہوں گی، تو لوگ جلدی جلدی چیزیں بیچنے لگتے ہیں نا؟ بالکل ویسا ہی ہوا، سونا ایک دن میں 9 فیصد سستا ہو گیا!


اب کیون وارش کون ہے؟ یہ ایک ایسا شخص ہے جو پہلے فیڈرل ریزرو میں کام کر چکا ہے۔ 2006 سے 2011 تک وہ وہاں تھا، اور 2008 میں جب امریکہ میں بڑا معاشی بحران آیا (جیسے گھر کا سارا پیسہ ختم ہو جائے)، تو وارش نے بینکوں کو بچانے کے لیے بہت کام کیا۔ اس نے فیڈرل ریزرو کو کہا کہ خزانے کی چیزیں خریدو، یعنی حکومت کے بانڈز اور گھروں کے قرضے، تاکہ پیسہ بڑھے اور بحران ختم ہو۔ اس وقت فیڈرل ریزرو کا پیسے کا ذخیرہ ایک ٹریلین ڈالر سے کم تھا، لیکن وارش کی مدد سے یہ دو ٹریلین تک پہنچ گیا۔ لیکن پھر، جب وہ چھوڑ گیا، تو اس نے فیڈرل ریزرو کی تنقید شروع کر دی۔ وہ کہتا ہے کہ فیڈرل ریزرو نے بہت زیادہ پیسہ چھاپا، جس سے امیر لوگ اور امیر ہو گئے، لیکن غریب لوگ اور غریب۔


یہاں ایک اہم بات ہے: فیڈرل ریزرو نے "کوانٹیٹیٹو ایزنگ" یا QE کیا، یعنی بہت سارے پیسے چھاپ کر چیزیں خریدیں۔ اس سے شیئرز، گھر، اور سونے کی قیمتیں آسمان چھو گئیں۔ وارش کہتا ہے کہ یہ غلط تھا، کیونکہ امیر لوگوں کے پاس پہلے سے شیئرز اور گھر تھے، تو وہ اور امیر ہو گئے۔ لیکن عام لوگوں کی تنخواہیں اور نوکریاں کم ہوئیں۔ مثال کے طور پر، تصور کرو تمہارے محلے میں ایک بڑی دکان ہے۔ اگر دکان کا مالک بہت سارا پیسہ چھاپے اور صرف اپنے دوستوں کو دے، تو وہ دوست اور امیر ہو جائیں گے، لیکن تمہارے جیسے عام بچے کھلونے نہ خرید سکیں گے کیونکہ چیزیں مہنگی ہو جائیں گی۔ وارش کہتا ہے کہ فیڈرل ریزرو نے یہی کیا، اور اس سے دولت کی سیڑھی اور لمبی ہو گئی – یعنی غریب لوگوں کے لیے اوپر چڑھنا اور مشکل!


اب کہانی کا مزیدار حصہ: ٹرمپ چاہتا ہے کہ سود کی شرحیں کم ہوں، یعنی قرض لینا سستا ہو۔ لیکن وارش فیڈرل ریزرو کو چھوٹا کرنا چاہتا ہے، یعنی کم پیسہ چھاپنا۔ تو یہ کیسے ممکن ہو گا؟ جواب ہے: بینکوں کی مدد سے! بینک تمہارے پیسے لیتے ہیں (جیسے تمہارا سیونگ اکاؤنٹ) اور اسے حکومت کے بانڈز میں لگاتے ہیں۔ بینکوں کو صرف "سپریڈ" کی فکر ہوتی ہے، یعنی جو شرح وہ تمہیں دیتے ہیں (جیسے 0.1 فیصد) اور جو حکومت سے ملتے ہیں (جیسے 4.8 فیصد) کا فرق۔ یہ ان کے لیے مفت پیسہ ہے! مثال کے طور پر، تصور کرو تم ایک دوست کو 10 روپے دیتے ہو، اور وہ اسے دکان سے 20 روپے کی چیز خرید کر بیچتا ہے – وہ 10 روپے کا منافع کماتا ہے، اور پیسہ تمہارا تھا! بینک بھی یہی کرتے ہیں۔


لیکن ایک مسئلہ ہے: بینکوں پر ایک قاعدہ ہے جسے سپلیمنٹری لیوریج ریٹیو کہتے ہیں، جو کہتا ہے کہ تم بہت زیادہ بانڈز نہ خریدو کیونکہ وہ خطرناک ہو سکتے ہیں (جیسے سلکان ویلی بینک کا دیوالیہ ہونا)۔ اب ٹرمپ اور وارش یہ قاعدہ ختم کر سکتے ہیں، جیسے 2020 میں ہوا تھا جب کورونا آیا۔ اگر یہ ہوا، تو بینک لامحدود بانڈز خریدیں گے، سود کی شرحیں کم ہو جائیں گی، اور حکومت کو قرض ملنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن اگر بانڈز کی قیمت گر جائے، تو فیڈرل ریزرو ایک پروگرام سے بینکوں کو بچائے گا، جیسے بینک ٹرم فنڈنگ پروگرام۔ تو بینکوں کے لیے یہ "رسک فری" ہو جائے گا، یعنی کوئی خطرہ نہیں!


اب یہ سب کیسے "سب کچھ بدل دے گا"؟ ٹرمپ کو کم شرحیں ملیں گی، وارش فیڈرل ریزرو کو چھوٹا کرے گا، بینک امیر ہو جائیں گے۔ لیکن عام لوگ؟ وہ ہار جائیں گے! کیونکہ زیادہ پیسہ چھاپنے سے مہنگائی بڑھے گی، اور تمہارے پیسے کی قدر کم ہو گی۔ مثال کے طور پر، اگر تمہارے پاس 100 روپے ہیں اور مہنگائی سے ایک کھلونا 200 روپے کا ہو جائے، تو تم کم چیزیں خرید سکو گے۔ وارش کی تنقید یہ ہے کہ فیڈرل ریزرو نے 40 سال سے شرحیں کم رکھیں، لیکن اب مہنگائی سے وہ بڑھ رہی ہیں۔ اگر پیسہ نہ بڑھایا تو معیشت گر جائے گی، جیسے ایلن گرین اسپین کے زمانے میں ہوا جب ایک بحران سے دوسرا بحران بنا۔


اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ پیسے کا نظام امیروں کو فائدہ دیتا ہے، اور عام لوگوں کو نقصان۔ ویڈیو کا میزبان جو براؤن کہتا ہے کہ یہ "ہیرسی" ہے، یعنی روایتی سوچ سے ہٹ کر، اور وہ تمہیں یہ بتاتا ہے کہ کیسے یہ تبدیلیاں آئیں گی۔ لیکن یاد رکھو، یہ صرف ایک کہانی ہے تعلیم کے لیے، نہ کہ مشورہ۔ اب بتاؤ، سمجھ آیا نا؟ اگر کوئی سوال ہو تو پوچھو، میں اور مثال دوں گا!

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔