(2) Stablecoins Will Send Bitcoin MUCH HIGHER - YouTube

 (2) Stablecoins Will Send Bitcoin MUCH HIGHER - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=utqH6RmvC1U


اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں **ٹیبھر (Tether)** نامی کمپنی ایک بہت بڑا انقلاب لانے جا رہی ہے، جس کا مقصد رقم کی لین دین کو تیز، سستا اور ہر خاص و عام کے لیے آسان بنانا ہے۔ اس انٹرویو میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح **اسٹیبل کوائنز (Stablecoins)**—جو ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کی قیمت ڈالر کے برابر رہتی ہے—پوری دنیا کے مالیاتی نظام کو بدل دیں گے۔


### ٹیبھر (Tether) کیا ہے اور یہ کیا کر رہی ہے؟


ٹیبھر ایک ایسی کمپنی ہے جس کے پاس دنیا بھر میں تقریباً **53 کروڑ** صارفین ہیں۔ یہ کمپنی نہ صرف ڈیجیٹل ڈالر (USDT) فراہم کرتی ہے بلکہ اب امریکہ میں ایک خاص پروڈکٹ **USAT** بھی لا رہی ہے تاکہ بڑے بڑے بینک اور ادارے بھی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر سکیں۔


اس کہانی کو ہم چند اہم نکات اور مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں:


**1. رقم کی منتقلی میں آسانی (مثال کے ذریعے سمجھیں):**

فرض کریں آپ نے بیرون ملک کسی کو پیسے بھیجنے ہیں۔ روایتی بینکنگ سسٹم میں اس میں کئی دن لگ سکتے ہیں اور فیس بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اسٹیبل کوائنز کی مدد سے یہ کام سیکنڈوں میں ہو سکتا ہے۔ انٹرویو میں بتایا گیا ہے کہ اس سے **کوریڈورز (Corridors)** بن جائیں گے، یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک رقم ایسے منتقل ہوگی جیسے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں۔


* **مثال:** اگر کوریا کا کوئی بینک جمعہ کی شام کو امریکی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہے، تو عام طور پر بینک بند ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ لیکن ٹیبھر کی ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ ہفتے کے کسی بھی وقت فوراً لین دین کر سکتا ہے۔


**2. تنخواہوں کی ادائیگی کا نیا طریقہ:**

مستقبل میں کمپنیاں اپنے ملازمین کو مہینے میں ایک یا دو بار تنخواہ دینے کے بجائے ہر روز یا ہر گھنٹے کی بنیاد پر ڈیجیٹل ڈالرز میں ادائیگی کر سکیں گی۔


* **مثال:** ایک مزدور جس نے آج کام کیا، وہ شام کو اپنی اجرت اپنے ڈیجیٹل والٹ میں حاصل کر سکتا ہے اور وہیں سے اپنے گھر والوں کو پیسے بھیج سکتا ہے، بغیر کسی بینک کے انتظار کے۔


**3. بٹ کوائن (Bitcoin) کے لیے فائدہ مند:**

ٹیبھر بٹ کوائن کا بہت بڑا حامی ہے۔ جب لوگ اسٹیبل کوائنز استعمال کرنا شروع کرتے ہیں، تو ان کے لیے بٹ کوائن جیسی دوسری ڈیجیٹل کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہونے کا پہلا راستہ ہے۔


**4. کمپنی کی مضبوطی:**

ٹیبھر کوئی چھوٹی کمپنی نہیں ہے۔ یہ دنیا میں سونے (Gold) کا **13واں بڑا مالک** ہے اور امریکی حکومت کے قرضوں کے کاغذات (T-Bills) خریدنے والا دنیا کا **17واں بڑا ادارہ** ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس موجود ڈیجیٹل ڈالرز کے پیچھے اصلی اثاثے موجود ہیں۔


**5. نئی قانون سازی اور شفافیت:**

امریکہ میں **جینیس ایکٹ (Genius Act)** جیسے قوانین پاس ہوئے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کمپنیاں قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں اور لوگوں کا پیسہ محفوظ رہے۔ ٹیبھر اب اپنی ٹیکنالوجی کو ان قوانین کے مطابق ڈھال رہی ہے تاکہ اسے ہر جگہ قبول کیا جائے۔


### خلاصہ کلام


سادہ الفاظ میں، یہ کمپنی ایک ایسا پل بنا رہی ہے جو غریب ملکوں کے عام لوگوں کو امریکہ کی بڑی مالیاتی مارکیٹوں سے جوڑ دے گا۔ اب آپ کو کسی بڑے بینک کا محتاج ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ آپ کا موبائل فون ہی آپ کا بینک بن جائے گا جس سے آپ پوری دنیا میں کہیں بھی تجارت کر سکیں گے۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان میں سے کسی مخصوص نکتے جیسے کہ 'ڈیجیٹل والٹ' یا 'بٹ کوائن مائننگ' کے بارے میں مزید تفصیل بتاؤں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔