(2) Physicist: Here's When to Turn Bullish on Bitcoin | Benjamin Cowen - YouTube
(2) Physicist: Here's When to Turn Bullish on Bitcoin | Benjamin Cowen - YouTube
https://www.youtube.com/watch?v=1pvKUgOTjnA
بہت آسان الفاظ میں، یہ ایک دلچسپ انٹرویو کی پوری کہانی ہے۔ اس میں ایک مشہور بٹ کوائن تجزیہ کار بینجمن کوئن (جو ایک سائنسدان بھی ہیں) اپنے میزبان چارلس سے بات کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ابھی بٹ کوائن کی قیمت کیسے گر رہی ہے، کیوں گر رہی ہے، اور آگے کیا ہو سکتا ہے۔ میں پورا انٹرویو قدم بہ قدم، بہت سادہ زبان میں، مثالوں کے ساتھ بیان کرتا ہوں تاکہ کوئی بھی آسانی سے سمجھ سکے۔ جیسے کوئی دوست آپ کو گھر بیٹھے سنا رہا ہو۔
سب سے پہلے، بینجمن کہتے ہیں کہ بٹ کوائن کی قیمت دیکھنے کے لیے کچھ خاص پیمائش ہیں جنہیں "ریلائزڈ پرائس"، "بیلنس پرائس" اور "ٹرمینل پرائس" کہتے ہیں۔ یہ اون چین انڈیکیٹرز ہیں، یعنی بٹ کوائن کی اصل خریداری کی قیمتوں سے بنتے ہیں۔
مثال: ۲۰۱۱، ۲۰۱۸، ۲۰۲۰ اور ۲۰۲۲ میں جب بٹ کوائن بہت گرا تو اس کی قیمت ان دونوں لائنوں (ریلائزڈ اور بیلنس پرائس) سے نیچے چلی گئی۔ تبھی بٹ کوائن کا سب سے بڑا نیچا (بوٹم) آیا۔ اب ۲۰۲۶ میں بھی ہم ان لائنوں کے قریب پہنچ رہے ہیں، اس لیے بینجمن کا اندازہ ہے کہ یہ بیئر مارکیٹ (گراوٹ والا وقت) ویسے ہی ختم ہوگا جیسے پچھلے سارے ہوئے۔
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن ہر چار سال بعد ایک جیسا سائیکل چلاتا ہے۔ ہالونگ (نئی بٹ کوائنز بننے کا عمل) کے ایک سال بعد، یعنی پوسٹ ہالونگ سال کے آخری تین مہینوں (اکتوبر-دسمبر) میں ٹاپ (سب سے اونچی قیمت) آ جاتا ہے۔
مثال: ۲۰۲۵ کے آخر میں ٹاپ آیا۔ اب ۲۰۲۶ (مڈ ٹرم ایئر) میں گراوٹ ہو رہی ہے، بالکل پچھلے سائیکلز کی طرح۔ اگر آپ پچھلے تمام سائیکلز کی اوسط دیکھیں تو ۲۰۲۶ کی گراوٹ بالکل اوسط پر ہے۔ فروری میں کمزوری، مارچ کے پہلے ہفتے میں تھوڑی چھلانگ، پھر اپریل-مئی میں دوبارہ گراوٹ۔ یہ بار بار دہراتا ہے، جیسے فلم کا ایک ہی سین بار بار چل رہا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی دن قیمت بڑھ جائے تو کیا بوٹم آ گیا؟ بینجمن کہتے ہیں نہیں! یہ صرف "ریلیف ریلی" (عارضی سکون کی چھلانگ) ہو سکتی ہے۔
مثال: ۲۰۱۴، ۲۰۱۸ اور ۲۰۲۲ میں فروری میں گراوٹ ہوئی، مارچ میں تھوڑی اوپر گئی، پھر گر گئی۔ اسی طرح اب بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ابھی بہت احتیاط کرو۔
وہ بتاتے ہیں کہ بیئر مارکیٹ (گراوٹ والا وقت) تجارت کرنا بہت مشکل ہے۔ نہ صرف خریدنے والوں کے لیے، بلکہ بیچنے والوں (بیئرز) کے لیے بھی۔
مثال: بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ اگر گراوٹ آ رہی ہے تو میں شارٹ سیل کروں گا اور پیسہ کما لوں گا۔ لیکن بٹ کوائن اکثر بیئر مارکیٹ میں بھی ہفتوں-مہینوں اوپر جاتا رہتا ہے۔ جیسے ۲۰۲۲ میں مہینوں اوپر گیا، پھر ایک دم گرا۔ بیئرز کا پیسہ ڈوب جاتا ہے۔ اسی طرح خریدنے والے بھی جلدی بوٹم سمجھ کر خرید لیتے ہیں اور پھر مزید گراوٹ آ جاتی ہے۔ اس لیے بینجمن کا مشورہ ہے: اس سال (۲۰۲۶) صرف "زندہ رہو"۔ اپنا پیسہ بچاؤ، بہت زیادہ خطرہ نہ لو۔ اگلے بُل مارکیٹ (اضافے والے وقت) تک پہنچنے کے لیے تیار رہو۔
لوگوں کی نفسیات اور کہانیاں بھی بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "نریٹو" (لوگوں کی باتوں کی کہانی) قیمت کے پیچھے چلتی ہے، قیمت نریٹو کے پیچھے نہیں۔
مثال: ۲۰۲۵ میں اگر بٹ کوائن بہت اوپر جاتا تو لوگ کہتے "ٹرمپ کی حکومت، ای ٹی ایف، پیسہ چھپنا، سب کچھ وجہ ہے!" لیکن جب نہ بڑھا تو وہی لوگ نئی کہانی بناتے ہیں۔ جب گراوٹ آتی ہے تو پہلے کوئی نہیں مانتا۔ پھر تھوڑی چھلانگ پر "سپر سائیکل" کی کہانی پھر سے زندہ ہو جاتی ہے (جیسے ۹۷ ہزار ڈالر پر ہوا)۔ پھر وہ چھلانگ ختم ہوتی ہے اور لوگ پھر مایوس ہو جاتے ہیں۔ بینجمن کہتے ہیں کہ ایک اور اچھی چھلانگ آنے والی ہے، لیکن اس کے بعد مزید نیچے جائے گا۔
اب بڑی وجہ کیا ہے گراوٹ کی؟ بینجمن کہتے ہیں میکرو اکانومی (بڑی معاشی طاقتیں)۔ سود کی شرحیں اب بھی زیادہ ہیں۔ فیڈ (امریکی بینک) ابھی پیسہ نہیں چھاپ رہا۔
مثال: سٹاک مارکیٹ، سونا، انرجی سٹاکس سب بٹ کوائن سے بہتر چل رہے ہیں۔ بٹ کوائن ان سب سے پیچھے رہ جاتا ہے مڈ ٹرم ایئر میں۔ جب تک فیڈ بڑی کٹوتی نہ کرے، خطرناک اثاثے (جیسے بٹ کوائن) نہیں چڑھیں گے۔ لیکن فیڈ بڑی کٹوتی تب کرے گا جب معیشت ٹوٹے گی۔ تو پہلے تو نقصان ہوگا، پھر فائدہ۔
بینجمن کہتے ہیں بٹ کوائن کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہم سمولیشن (کمپیوٹر گیم) میں رہ رہے ہوں۔ ہر چیز اتنی ایک جیسی دہراتی ہے۔
مثال: ۲۰۱۸ میں فروری میں ۶ ہزار ڈالر پر گرا، تھوڑی سپورٹ ملی، پھر مزید گرا۔ اب ۲۰۲۶ میں ۶۰ ہزار ڈالر پر گرا، بالکل ویسا ہی! بس ۱۰ گنا زیادہ قیمت پر۔ ہر بار فروری گراوٹ، مارچ چھلانگ، گرمیوں میں گراوٹ۔
انہوں نے ایس اینڈ پی ۵۰۰ (امریکی سٹاک مارکیٹ) کا بھی موازنہ کیا۔ ۱۹۵۸ سے ۱۹۸۲ تک وہ بھی ہر چار سال بعد مڈ ٹرم ایئر میں بوٹم کرتی تھی، بغیر کسی ہالونگ کے!
مثال: ۱۹۷۰ میں مئی میں بوٹم آیا کیونکہ فیڈ چیئر بدل گیا اور نیا شخص پیسہ چھاپنے والا تھا۔ اب ۲۰۲۶ میں مئی میں جیروم پاول کی جگہ نیا شخص آ رہا ہے، شاید وہی اثر ہو۔ لیکن بینجمن کا بنیادی اندازہ ہے کہ بوٹم اکتوبر ۲۰۲۶ میں آئے گا۔ اگر گرمیوں تک ۵۰ فیصد اور گر گیا تو جلدی خرید سکتے ہیں۔
اپنا پس منظر بھی بتایا۔ بینجمن نے ریاضی پڑھی، فزکس چھوٹی، پھر نیوکلیئر انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی۔ قومی لیبارٹری میں کام کیا۔ ۲۰۲۰ میں اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا اور اب پوری طرح بٹ کوائن تجزیہ کرتے ہیں۔
آخر میں سب سے اہم مشورہ، خاص طور پر نوجوانوں (ملینیئلز) کے لیے: اگلے ۱-۳ سال اپنے پیسے کا خیال رکھو۔
مثال: پورٹ فولیو متنوع بناؤ۔ کچھ کیش رکھو تاکہ گراوٹ پر سستا خرید سکو۔ امریکہ کے بجائے بین الاقوامی فنڈز میں دیکھو (اب وہ بہتر چل رہے ہیں)۔ سونے، چاندی، یورینیم (جو انرجی کے لیے ہے) اور انرجی سیکٹر دیکھو۔ انرجی آخری وقت تک اوپر رہتا ہے کیونکہ AI اور دنیا کو بجلی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
وہ خود بھی بٹ کوائن خریدیں گے لیکن احتیاط سے۔
یہ تھی پوری کہانی۔ بینجمن کا پیغام ہے: تاریخ دہراتی ہے، صبر کرو، تیاری کرو، اور جب سب مایوس ہوں گے تب خریدنا۔ کوئی جلد بازی نہیں۔ سب کچھ آسان الفاظ میں، بالکل ویسے جیسے گھر میں بیٹھے کوئی بڑا بھائی سمجھا رہا ہو۔ اگر کوئی حصہ دوبارہ سننا ہو تو پوچھ لو!
Comments
Post a Comment