(132) IT'S HAPPENING NOW: The Dollar Devaluation Making Cash Worthless - YouTube

 (132) IT'S HAPPENING NOW: The Dollar Devaluation Making Cash Worthless - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=DKtSIxRj9Ig


اس ویڈیو کا خلاصہ یہ ہے کہ امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، جسے "ڈی ویلیو ایشن" (Devaluation) کہا جاتا ہے، اور یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کا نتیجہ ہے ۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس موجود نقد رقم کی قوتِ خرید یعنی چیزیں خریدنے کی طاقت وقت کے ساتھ ختم ہو رہی ہے ۔


اس پوری صورتحال کو آسان زبان میں سمجھنے کے لیے درج ذیل اہم نکات ملاحظہ کریں:


### ڈالر کی قدر کیوں کم ہو رہی ہے؟


حکومت اور سینٹرل بینک (فیڈرل ریزرو) اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بہت زیادہ نئے ڈالر چھاپ رہے ہیں ۔ جب مارکیٹ میں نوٹ زیادہ ہو جاتے ہیں اور ان کے مقابلے میں چیزیں (جیسے گندم، تیل یا گھر) اتنی ہی رہتی ہیں، تو ہر نوٹ کی قیمت کم ہو جاتی ہے ۔ اس وقت امریکہ کا قرضہ 36 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس قرضے کا سود ادا کرنے کے لیے مزید نوٹ چھاپنا حکومت کی مجبوری بن چکا ہے ۔


**مثال:** فرض کریں ایک گاؤں میں کل 100 روپے ہیں اور 100 کلو گندم ہے۔ اس حساب سے 1 کلو گندم 1 روپے کی ہوئی۔ اب اگر حکومت راتوں رات 100 روپے مزید چھاپ دے لیکن گندم اب بھی 100 کلو ہی رہے، تو اب 1 کلو گندم 2 روپے کی ہو جائے گی۔ آپ کا روپیہ آدھی قیمت کا رہ گیا، یہی ڈالر کے ساتھ ہو رہا ہے ۔


### سرکاری اعداد و شمار کی حقیقت


حکومت کہتی ہے کہ مہنگائی (CPI) کم ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حساب کتاب غلط ہے کیونکہ اس میں ان چیزوں کو شامل نہیں کیا جاتا جن کی قیمتیں سب سے تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جیسے گھر، کھانا اور توانائی ۔ اگر 1980 والے طریقے سے حساب لگایا جائے تو اصل مہنگائی سرکاری دعووں سے کہیں زیادہ ہے ۔


**مثال:** اگر آپ نے 2020 میں ایک لاکھ ڈالر بچا کر رکھے تھے، تو آج ان سے صرف اتنا ہی سامان خریدا جا سکتا ہے جتنا اس وقت 60 ہزار ڈالر میں آتا تھا ۔ آپ کے پیسے بینک میں تو پورے نظر آ رہے ہیں، لیکن ان کی طاقت 40 فیصد کم ہو چکی ہے ۔


### تاریخ سے سبق


تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔ جرمنی میں 1920 کی دہائی میں حکومت نے اتنے نوٹ چھاپے کہ پیسے کاغذ کے ٹکڑے بن گئے ۔ لوگ روٹی کا ایک ٹکڑا لینے کے لیے نوٹوں سے بھری ہوئی ریڑھیاں لے کر جاتے تھے ۔ اسی طرح 1970 کی دہائی میں بھی ڈالر کی قدر میں 50 فیصد تک کمی آئی تھی ۔ ان تمام حالات میں وہی لوگ بچ سکے جنہوں نے اپنا پیسہ نقد رکھنے کے بجائے "ٹھوس اثاثوں" میں لگایا تھا ۔


### اپنی دولت کو کیسے بچائیں؟


ویڈیو میں تین بڑے طریقے بتائے گئے ہیں جن سے آپ اپنی جمع پونجی کو محفوظ رکھ سکتے ہیں:


1. 

**سونا اور چاندی (Physical Gold & Silver):** سونا پچھلے پانچ ہزار سال سے اپنی قدر برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے حکومت چھاپ نہیں سکتی ۔ جب کرنسی گرتی ہے، تو سونے کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ مشورہ یہ دیا گیا ہے کہ اپنی دولت کا 15 سے 25 فیصد حصہ اصلی سونے اور چاندی کی شکل میں رکھیں ۔



2. 

**کان کنی کی کمپنیوں کے حصص (Mining Stocks):** ایسی کمپنیوں کے شیئرز خریدنا جو سونا اور چاندی نکالتی ہیں ۔ جب سونے کی قیمت تھوڑی سی بڑھتی ہے، تو ان کمپنیوں کا منافع بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، جس سے آپ کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے ۔



3. 

**ٹھوس اور پیداواری اثاثے (Hard Assets):** ایسی چیزیں خریدنا جن کی ضرورت انسان کو ہمیشہ رہتی ہے، جیسے زرعی زمین، پانی کے حقوق، جنگلات (لکڑی) اور توانائی کے ذرائع ۔ دنیا کے امیر ترین لوگ، جیسے بل گیٹس، آج کل بڑی تیزی سے زرعی زمینیں خرید رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کاغذ کا نوٹ بیکار ہو سکتا ہے، لیکن زمین اور خوراک کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوگی ۔




خلاصہ یہ کہ آنے والے 18 مہینے بہت اہم ہیں ۔ اگر آپ اپنی بچت صرف بینک اکاؤنٹ میں رکھیں گے، تو مہنگائی اسے خاموشی سے کھا جائے گی ۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ اپنی دولت کو ایسی چیزوں میں منتقل کریں جن کی اپنی ایک مستقل قیمت ہو ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان میں سے کسی ایک مخصوص طریقے (جیسے سونے میں سرمایہ کاری) کے بارے میں مزید تفصیل بتاؤں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔