(120) Why Iran’s Currency Collapse Is a Warning to Everyone - YouTube

 (120) Why Iran’s Currency Collapse Is a Warning to Everyone - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=0YzDUmaNcqg&list=WL&index=18


ایرانی ریال کی گراوٹ کی یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی کرنسی ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں ہوتی ۔ عام طور پر ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ پیسہ بینک میں رکھنا سب سے محفوظ ہے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بہت سی کرنسیاں وقت کے ساتھ اپنی قدر کھو دیتی ہیں ۔


**ریال کا سفر اور زوال کی وجوہات**


ایرانی ریال کا آغاز 1798 میں ہوا تھا ۔ 1945 میں ایک امریکی ڈالر صرف 32 ریال کے برابر تھا ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدلتے گئے:


**انقلاب اور سرمائے کا اخراج:** 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد لاکھوں لوگ ملک چھوڑ گئے اور اربوں ڈالر باہر چلے گئے ۔ 1999 تک ایک ڈالر کی قیمت بڑھ کر 9,430 ریال ہو گئی ۔



**پابندیاں اور غلط پالیسیاں:** عالمی پابندیوں، تیل پر حد سے زیادہ انحصار اور حکومت کی جانب سے بے تحاشہ نوٹ چھاپنے کی وجہ سے کرنسی کی قدر تیزی سے گرنے لگی ۔ 2024 تک ایک ڈالر 8 لاکھ ریال سے تجاوز کر چکا تھا ۔



**جنگ اور قدرتی آفات:** 2025 میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور تیل پر لگی نئی پابندیوں نے معیشت کو تباہ کر دیا ۔ پانچ سالہ خشک سالی کی وجہ سے کسان فصلیں نہ اگا سکے اور ملک کو بنیادی ضرورت کی اشیاء جیسے گندم اور کوکنگ آئل باہر سے مہنگے داموں منگوانا پڑا ۔



**مہنگائی کا طوفان:** جب کرنسی گرتی ہے تو قیمتیں بڑھ جاتی ہیں ۔ ایران میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں 72 فیصد تک بڑھ گئیں، جس کے نتیجے میں حکومت نے مزید نوٹ چھاپے اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا تباہ کن چکر بن گیا ۔



**مکمل خاتمہ:** 28 دسمبر 2025 کو ریال اس حد تک گرا کہ ایک ڈالر 14 لاکھ ریال کا ہو گیا اور اگلے ہی دن سینٹرل بینک کے حکام نے استعفیٰ دے دیا ۔




**آسان مثال سے سمجھیں**


فرض کریں آپ کے پاس ایک سیب ہے جس کی قیمت آج 10 روپے ہے ۔ اگر ملک کی کرنسی کمزور ہو جائے یا حکومت ضرورت سے زیادہ نوٹ چھاپ دے، تو اسی ایک سیب کی قیمت 100 روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے ۔ آپ کے پاس پیسے تو اتنے ہی ہیں، لیکن اب ان پیسوں سے آپ وہ چیز نہیں خرید سکتے جو پہلے خرید سکتے تھے ۔ ایران میں یہی ہوا؛ لوگوں کی جمع پونجی کی اہمیت ختم ہو گئی کیونکہ نوٹوں کی ریل پیل تو تھی لیکن ان کی اصل طاقت ختم ہو چکی تھی ۔


**سبق اور انتباہ**


یہ صرف ایران کا قصہ نہیں ہے بلکہ زمبابوے، لبنان اور وینزویلا میں بھی ایسا ہی ہو چکا ہے ۔ یاد رکھیں کہ آج کل کی کرنسیاں کسی سونے یا چاندی کے بدلے نہیں بلکہ صرف حکومت کے بھروسے پر چلتی ہیں ۔ اگر ملک کا انتظام درست نہ ہو، بے تحاشہ نوٹ چھاپے جائیں یا ملک جنگ و پابندیوں کا شکار ہو جائے، تو کسی بھی ملک کی کرنسی کاغذ کا ٹکڑا بن سکتی ہے ۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ پیسے کی حقیقت کو سمجھے اور اپنی محنت کی کمائی کو ایسی جگہ لگائے جہاں وہ محفوظ رہ سکے ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو اس بارے میں مزید بتاؤں کہ لوگ اپنی بچت کو کرنسی کے زوال سے بچانے کے لیے کن چیزوں (جیسے سونا یا دیگر اثاثے) میں سرمایہ کاری کرتے ہیں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔