(120) Why Bitcoin Keeps Defying Every Price Model - YouTube

 (120) Why Bitcoin Keeps Defying Every Price Model - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=hYELj5eG7qw&list=WL&index=13


بٹ کوائن کی قیمت اور اس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنا اکثر لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے، کیونکہ یہ دنیا کی پہلی ایسی چیز ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ایک عام چیز سے قیمتی پیسے (کرنسی) میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ اس تحریر کا خلاصہ اور وضاحت آسان الفاظ میں درج ذیل ہے:


**بٹ کوائن کے اتار چڑھاؤ کی کہانی**


عام طور پر جب کوئی نئی چیز مارکیٹ میں آتی ہے، تو لوگ اس کے بارے میں بہت پرجوش ہو جاتے ہیں ۔ بٹ کوائن کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ اسے ہم 'ہائپ سائیکل' (Hype Cycle) کہتے ہیں۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ پہلے قیمت بہت تیزی سے اوپر جاتی ہے کیونکہ ہر کوئی اسے خریدنا چاہتا ہے، پھر اچانک ایک گراوٹ یا کریش آتا ہے، اور اس کے بعد قیمت ایک جگہ ٹھہر جاتی ہے ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ گرنے کے بعد بھی قیمت پچھلی نچلی سطح سے اوپر ہی رہتی ہے ۔


**ماڈلز کی ناکامی اور خطرہ**


بہت سے ماہرین نے ریاضی کے فارمولے یا 'ماڈلز' بنائے تاکہ وہ بتا سکیں کہ بٹ کوائن کی قیمت کب اور کہاں تک جائے گی ۔ لیکن بٹ کوائن اکثر ان ماڈلز کو غلط ثابت کر دیتا ہے ۔ جب قیمت ان ماڈلز کے مطابق نہیں چلتی، تو وہ لوگ جنہوں نے ان پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کیا ہوتا ہے، وہ مایوس ہو کر بٹ کوائن بیچ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سب ختم ہو گیا ۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، بس بٹ کوائن ان کے سوچے ہوئے طریقے سے کام نہیں کر رہا ہوتا ۔


**بٹ کوائن کیوں بہتر ہے؟ (مثالوں کے ساتھ)**


اس تحریر کے مطابق، بٹ کوائن کی اصل طاقت اس کی قیمت نہیں بلکہ اس کی خوبیاں ہیں ۔ اسے سونا اور سرکاری کرنسی (ڈالر یا روپیہ) سے بہتر مانا جا رہا ہے ۔


* **مثال نمبر 1 (سونا بمقابلہ بٹ کوائن):** سونا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا یا اس کی حفاظت کرنا مشکل ہے۔ اگر آپ نے دوسرے ملک سونا بھیجنا ہو، تو اس پر بہت وقت اور خرچہ آئے گا۔ لیکن بٹ کوائن کو آپ انٹرنیٹ کے ذریعے سیکنڈوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں بھیج سکتے ہیں ۔



* **مثال نمبر 2 (سرکاری کرنسی بمقابلہ بٹ کوائن):** حکومتیں جب چاہیں نئے نوٹ چھاپ سکتی ہیں جس سے آپ کے پیسوں کی قدر کم ہو جاتی ہے (مہنگائی)۔ لیکن بٹ کوائن کی تعداد محدود ہے، اسے کوئی اپنی مرضی سے بڑھا نہیں سکتا ۔




**نتیجہ**


بٹ کوائن کی قیمت کس رفتار سے بڑھے گی، یہ کہنا مشکل ہے ۔ لیکن چونکہ یہ بنیادی طور پر ایک بہتر رقم ہے، اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ لوگ اپنی بچت سونا یا بینکوں سے نکال کر بٹ کوائن میں لاتے رہیں گے ۔ اہم بات یہ ہے کہ کسی خاص ماڈل یا پیشن گوئی کے پیچھے لگنے کے بجائے اس کی اصل خوبیوں پر نظر رکھی جائے ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں بٹ کوائن کے ان 'ہائپ سائیکلز' یا قیمت کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں مزید تفصیل سے بات کروں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔