(120) This Is How the Debasement Trade Ends - YouTube

 (120) This Is How the Debasement Trade Ends - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=j53EZnDgs7I&list=WL&index=15


اس ویڈیو پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں کرنسی نوٹ چھاپنا کبھی بند نہیں کریں گی ۔ جب مارکیٹ میں نوٹوں کی بھرمار ہو جائے گی تو ان کی اپنی قدر ختم ہو جائے گی، اور اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگ بٹ کوائن (Bitcoin) کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔


ذیل میں اس کہانی کی مکمل تفصیل اور وضاحت دی گئی ہے:


**پیسے کی مسلسل چھپائی اور اس کے اثرات**

اس گفتگو کے مطابق ڈالر، پاؤنڈ اور یورو جیسی تمام کاغذی کرنسیاں ایک دن اپنی وقت کھو دیں گی کیونکہ حکومتیں انہیں مسلسل چھاپ رہی ہیں ۔ جب کسی چیز کی مقدار حد سے زیادہ بڑھ جائے تو اس کی قیمت گر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم ان کاغذی نوٹوں کے ترازو میں کسی بھی چیز کو تولیں گے، تو اس کی قیمت بہت زیادہ یعنی "انفینٹی" تک پہنچتی دکھائی دے گی ۔


**بٹ کوائن کا کردار**

بٹ کوائن کو "آزاد مارکیٹ کا پیسہ" کہا گیا ہے ۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ ضرور آتا ہے، جیسے یہ کبھی 80 فیصد گر سکتا ہے اور کبھی 500 فیصد تک بڑھ سکتا ہے ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ جیسے جیسے بڑے بینک اور عام لوگ اس حقیقت کو سمجھ رہے ہیں کہ کرنسی کی قیمت گر رہی ہے (جسے 'Debasement Trade' کہا جاتا ہے)، وہ محفوظ پناہ گاہ کے طور پر بٹ کوائن کو منتخب کر رہے ہیں ۔


**مثال سے وضاحت**

اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں ایک گاؤں میں صرف 100 آم ہیں اور پورے گاؤں کے پاس کل ملا کر 100 روپے ہیں۔ اس وقت ایک آم کی قیمت 1 روپیہ ہوگی۔ اب اگر حکومت بغیر سوچے سمجھے مزید نوٹ چھاپ دے اور لوگوں کے پاس 100 کے بجائے 1000 روپے آ جائیں، لیکن آم اب بھی 100 ہی ہوں، تو اب ایک آم کی قیمت 10 روپے ہو جائے گی۔ آم وہی رہا، لیکن "کاغذی پیسے" کی قدر گر گئی۔ بٹ کوائن کو اس مثال میں ایک ایسی چیز سمجھا جا رہا ہے جس کی مقدار محدود ہے، اس لیے جب کاغذی نوٹ بڑھیں گے، تو اس کی قیمت بھی خود بخود اوپر چلی جائے گی۔


**مستقبل کی پیش گوئی**

تجزیہ کار کا خیال ہے کہ جب بٹ کوائن اپنی پرانی تمام اونچی قیمتوں (All-time Highs) کو عبور کر لے گا، تو اس کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا کیونکہ تب سب کو اندازہ ہو جائے گا کہ کاغذی کرنسی کا انجام کیا ہونے والا ہے ۔ لوگ اب آہستہ آہستہ اس منطقی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اس مالیاتی نظام سے بچنے کا راستہ ڈیجیٹل کرنسی ہی ہے ۔


کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس 'Debasement Trade' یعنی کرنسی کی قدر میں کمی کے عمل پر مزید روشنی ڈالوں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔