(120) The Real Drag on Bitcoin Nobody Wants to Talk About - YouTube

 (120) The Real Drag on Bitcoin Nobody Wants to Talk About - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=6pzCf9i3XbA&list=WL&index=12


اس تحریر میں بٹ کوائن (Bitcoin) کی قیمت اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا گہرا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اس کا خلاصہ اور تفصیل کچھ یوں ہے:


**بٹ کوائن کی قیمت اور توقعات**

مصنف بتاتے ہیں کہ 2025 میں بٹ کوائن کی قیمت سے انہیں کافی مایوسی ہوئی ۔ ان کا خیال تھا کہ قیمت 150,000 ڈالر سے تجاوز کر جائے گی اور ان کا اصل ہدف 180,000 ڈالر کے قریب تھا ۔ اگرچہ بٹ کوائن کو عالمی سطح پر اداروں اور ممالک نے اپنایا، جو کہ ایک مثبت بات تھی، لیکن قیمت وہ نہیں رہی جس کی امید تھی ۔


**مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال**

اکتوبر 2024 میں مارکیٹ میں کچھ عجیب واقعات پیش آئے، جیسے کہ سمندر پار (offshore) کرپٹو ایکسچینجز اور مارکیٹ میکرز کا اچانک ختم ہو جانا یا دیوالیہ ہونا ۔ اس کے علاوہ، مصنف کا ماننا ہے کہ کرپٹو کے روایتی "سائیکلز" (یعنی وقت کے ساتھ قیمت کا اوپر نیچے ہونا) اب ختم ہو چکے ہیں ۔ 2013، 2017 اور 2021 کی طرح 2025 میں وہ بڑی اچھال نظر نہیں آئی جس کی لوگ توقع کر رہے تھے ۔


**سب سے بڑی رکاوٹ: ٹیرف پالیسی**

مصنف کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت نہ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ امریکی انتظامیہ کی "ٹیرف پالیسی" (درآمدی سامان پر ٹیکس) ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت ٹیرف کے حوالے سے بار بار فیصلے بدلتی ہے یا غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے، تو اس سے سرمایہ کار ڈر جاتے ہیں ۔


اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک **مثال** لیتے ہیں:

فرض کریں ایک دکاندار کو یہ معلوم نہ ہو کہ اگلے مہینے اس کے مال پر کتنا ٹیکس لگے گا۔ وہ کبھی ٹیکس بڑھنے کا سنتا ہے اور کبھی کم ہونے کا۔ اس خوف اور بے یقینی کی وجہ سے وہ نیا مال خریدنے یا کاروبار پھیلانے سے کترائے گا۔ بالکل اسی طرح، جب بٹ کوائن کے سرمایہ کاروں کو حکومت کی معاشی پالیسیوں میں استحکام نظر نہیں آتا، تو وہ اپنا پیسہ لگانے سے ڈرتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت نہیں بڑھ پاتی ۔


**سیاست اور بٹ کوائن**

تحریر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ٹرمپ کی طرح کوئی ایسی حکومت ہوتی جو بٹ کوائن کی حامی ہو، تو شاید قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ۔ لیکن موجودہ حالات میں ٹیرف کی وجہ سے جو غیر یقینی پیدا ہوئی، اس نے بٹ کوائن کی اڑان کو روک دیا ۔


کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس ٹیرف پالیسی کے بٹ کوائن پر اثرات کے بارے میں مزید وضاحت کروں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔