(120) Is the US Dollar Quietly Breaking Down? Bitcoin Has an Answer - YouTube

 (120) Is the US Dollar Quietly Breaking Down? Bitcoin Has an Answer - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=qPOvRiLH7sY&list=WL&index=5


دی گئی معلومات کے مطابق، امریکی ڈالر کی موجودہ صورتحال اور بٹ کوائن جیسے اثاثوں کی اہمیت کو ہم سادہ الفاظ میں اس طرح سمجھ سکتے ہیں:


**امریکی ڈالر کی قدر میں کمی (Debasement)**


آج کل خبروں میں یہ بات بہت زیادہ گردش کر رہی ہے کہ امریکی ڈالر اپنی قوتِ خرید کھو رہا ہے ۔ اسے "ڈی بیسمنٹ" (Debasement) کہا جاتا ہے، جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ جب حکومت بہت زیادہ رقم چھاپتی ہے تو مارکیٹ میں ڈالر کی تعداد بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے ہر ڈالر کی اپنی قیمت کم ہو جاتی ہے ۔ سنہ 2008 سے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) بہت بڑے پیمانے پر نئے ڈالر چھاپ رہا ہے ۔ چونکہ ڈالر اب سونے یا کسی اور قیمتی دھات کے بدلے میں نہیں دیا جاتا (یعنی یہ کسی چیز سے جڑا ہوا نہیں ہے)، اس لیے اس کی قیمت صرف مارکیٹ کے بھروسے پر چلتی ہے ۔


**مثال:** فرض کریں ایک گاؤں میں صرف 10 سیب ہیں اور لوگوں کے پاس کل 10 روپے ہیں۔ تو ایک سیب ایک روپے کا ملے گا۔ لیکن اگر حکومت مزید 10 روپے چھاپ کر لوگوں میں بانٹ دے جبکہ سیب ابھی بھی 10 ہی ہوں، تو اب ایک سیب کی قیمت 2 روپے ہو جائے گی۔ چیزیں وہی رہیں لیکن آپ کے پیسے کی طاقت آدھی رہ گئی۔


**امیر اور غریب کا فرق (K-Shaped Economy)**


رقم چھاپنے کے اس عمل نے معیشت میں ایک بڑا فرق پیدا کر دیا ہے، جسے "K-شکل" کی معیشت کہا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو پہلے سے امیر ہیں اور جن کے پاس جائیداد، اسٹاک مارکیٹ کے شیئرز، سونا یا بٹ کوائن موجود ہے، ان کی دولت میں تو اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری طرف، وہ عام لوگ جو صرف اپنی ماہانہ تنخواہ پر گزارا کرتے ہیں، وہ غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی تنخواہ اتنی تیزی سے نہیں بڑھتی جتنی تیزی سے مہنگائی (راشن اور کرایہ وغیرہ) بڑھ جاتی ہے ۔


**سیاست اور قرضوں کا بوجھ**


امریکی ڈالر پر عالمی سیاست اور ملک کے اندرونی حالات کا بہت اثر ہے ۔ امریکہ پر اس وقت تقریباً 38 ٹریلین ڈالر کا قرضہ ہے ۔ صدر ٹرمپ کی 2025 کی ٹیرف پالیسیاں اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی کوششیں ڈالر کو کمزور کر سکتی ہیں ۔ اگرچہ کمزور ڈالر سے امریکی مصنوعات (جیسے جہاز یا کاریں) دوسرے ممالک کے لیے سستی ہو جاتی ہیں اور تجارت میں فائدہ ہوتا ہے، لیکن ایک عام امریکی شہری کے لیے روزمرہ کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے ۔


**بچاؤ کا راستہ: "ہارڈ منی"**


اسی صورتحال کی وجہ سے سمجھدار سرمایہ کار اب اپنی رقم ڈالر میں رکھنے کے بجائے "ہارڈ منی" یعنی ایسی چیزوں میں منتقل کر رہے ہیں جنہیں حکومت اپنی مرضی سے چھاپ نہیں سکتی، جیسے سونا، چاندی اور بٹ کوائن ۔ ان اثاثوں کا فائدہ یہ ہے کہ ان کی مقدار محدود ہوتی ہے اور انہیں مہنگائی کے ذریعے کم نہیں کیا جا سکتا ۔


**بٹ کوائن اور مستقبل**


اگرچہ بٹ کوائن کی قیمت میں بہت تیزی سے اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور بہت سے لوگ اب بھی اسے خریدنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں، لیکن اسے ڈالر کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ مشورہ یہی ہے کہ عالمی حالات اور ڈالر کی گرتی ہوئی ساکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے خود تحقیق کریں اور اپنی جمع پونجی کو محفوظ بنانے کے لیے دانشمندانہ فیصلے کریں ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس بارے میں مزید تحقیق کروں کہ عالمی ماہرین آنے والے مہینوں میں ڈالر کی قیمت کے حوالے سے کیا پیشگوئی کر رہے ہیں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔